fbpx

یا اللہ مدد فرما،پاکستان الجھ گیا، سیاسی بھونچال کے بعد بیرونی محاذ کھل گیا، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

یا اللہ مدد فرما،پاکستان الجھ گیا، سیاسی بھونچال کے بعد بیرونی محاذ کھل گیا، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جہاں اس وقت پاکستان کو اندرونی مشکلات اور سیاسی بھونچال کا سامنا ہے تو دوسری جانب بیرونی محاذ پر بھی کم مسائل کا سامنا نہیں ہے ۔ گورننس ، ایف اے ٹی ایف ، آئی ایم ایف ، معیشت ، بھارت کے ساتھ تنازعات ، افغانستان کا مسئلے سمیت ایک لمبی لسٹ ہے جس میں پاکستان الجھا ہوا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر طرف پاکستان پھنسا ہوا ہے ۔ اور ایک پل صراط ہے جس پر پاکستان کو چلنا ہے ۔ اب یہ معلوم نہیں ہو پا رہا ہے کہ ہم اس کو پار کر پائیں گے یا نہیں ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی تین خبریں آپ کے گوش گزار کرتا ہوں ۔ پہلی ۔۔۔ امریکی صدر نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے سربراہ اجلاس میں عمران خان کو شرکت کی دعوت نہیں دی ۔ دوسری ۔۔۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اپنے فیصلے آزادی کے ساتھ کرتا ہے، ایسے ممالک کی طرح نہیں جو ایک فون کال پر موقف بدل لیتے ہیں۔ تیسری ۔۔۔ جوبائیڈن نے برطانوی وزیراعظم سے گفتگو میں چین کے ون بیلٹ ون روڈ کے مقابلے میں منصوبہ لانے کی تجویز بھی دی ہے۔ امریکی صدر نے بورس جانسن کو مشورہ دیا ہے کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ جیسا اقدام جمہوری ریاستوں سے آنا چاہیے۔۔ یعنی ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ امریکا کی پالیسی میں پاکستان پر پریشر بڑھانے کا مکمل ارادہ ہے اور اس سلسلے میں پہلے چند قدم اٹھائے بھی جا چکے ہیں۔ وزیر اعظم کو دعوت نامہ نہ بھجوانا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ۔ ایران کے ساتھ 400 بلین ڈالر کے 25 سالہ سٹریٹجک پارٹنر شپ کے معاہدے کے بعد چین کے وزیر خارجہ کا ۔۔۔ ایک فون کال پر پالیسی بدل لینے والے ممالک ۔۔۔ والا بیان صاف طور پر پاکستان کی جانب اشارہ ہے اور نرم الفاظ میں یہ بھی دباؤ بڑھانے کا ایک قدم ہے۔۔ باقی ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے رکھیں اور اپنے آپ کو تسلی دیتے رہیں کہ پاکستان کا ڈائریکٹ نام نہیں لیا گیا یا بیان چینی وزیر خارجہ نے نہیں ایرانی وزیر خارجہ کا ہے۔ یا چینی وزیر خارجہ کا اشارہ بھارت یا سعودی عرب کی جانب تھا۔ تو مسائل نے تو خود حل ہونا نہیں ۔ اور نہ ہی ایسے ہماری مشکلات کم ہوسکتی ہیں آخر ہم کب تک اپنے آپ سے جھوٹ بولیں گے ۔ صورتحال یہ ہے کہ چین اور امریکہ دونوں بڑی طاقتیں ہمیں پوری طرح اپنے کیمپ میں کھینچنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور اس کے لیے بھرپور کوشش بھی کر رہی ہیں۔ ۔ ہم مکمل طور پر ایک بلاک میں جانے کا خطرہ بھی افورڈ نہیں کر سکتے اور کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ایک توازن قائم رکھا جا سکے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیونکہ جیسا شروعات میں ذکر کیا کہ معیشت ، آئی ایم ایف سے قرضے کی قسط ، ایف اے ٹی ایف کے لیے ہم کو چین کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب بھی دیکھنا پڑتا ہے اورچاہتے نہ چاہتے ہوئے اسکی ماننی بھی پڑتی ہے ۔ دوسری جانب سی پیک ہے اور ہر عالمی فورم اور معاملہ چین ساتھ کھڑا ہوتا ہے ۔ اور پاکستان کے خلاف ہر چیز اور ہر حربے کو سلامتی کونسل میں ویٹو بھی کرتا ہے ۔ اس لیے اب پاکستانی ریاست کا اصل امتحان شروع ہو چکا ہے۔ اس امتحان میں دھمکیاں بھی ہوں گی۔ سخت اقدامات بھی ہوں گے اور لالچ بھی دیے جائیں گے۔ ان سب سے بچتے ہوئے ہم کیسے اپنے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ یہ ضروری ہے ۔۔ دوسری جانب سوال یہ ہے کہ کیا چین اور پاکستان میں تعلقات اتنے ہی خراب ہو چکے ہیں کہ یوں چین دوسرے ملک میں کھڑا ہو کر اس انداز سے ہماری تضحیک کرے گا؟ چین تو پاکستان کے خلاف قراردادوں کو آج بھی سیدھاویٹو کر دیتا ہے۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ وہ یوں پاکستان کو کوسنے دیتا پھرے؟ دوسری جانب امریکہ کی بھارت سے قربت اور پاکستان سے سرد مہری بڑھتی جا رہی ہے ۔ بھارت نے امریکہ کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات قائم کرکے چار دفاعی معاہدے کرلیے ہیں۔ وہ رُوس کے ساتھ ساتھ امریکہ فرانس اور اسرائیل سے بڑے پیمانے پر اسلحہ خرید رہا ہے۔ پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے لیے نئے خطرات جنم لے چکے ہیں۔امریکی ماہرین کھل کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو اگر امریکہ کے لیے اہم ہونا ہے تو اسے خود کو بہت تبدیل کرنا ہوگا یعنی اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ اِن بنیادی تبدیلیوں کاآسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ چین سے فاصلہ کرو۔ بھارت کی جنوبی ایشیا میں بالادستی قبول کرو۔ کشمیر کو بھول جاؤ اور امریکہ بھارت اتحادکی ماتحت ریاست بن کر رہو۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اوپر بیان کیے گئے یہ وہ تمام بنیادی سوال یا ایشوز جن کا ہم کو بیرونی محاذ پر سامنا ہے ۔ اور یہ کافی مشکل صورتحال ہے ۔ کیونکہ اس وقت geo strategic locationہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ ہر کوئی ہم کو اپنے جانب کھنچنے کے چکروں میں ہے ۔ امریکہ اور چین کے علاوہ عرب ممالک بھی ہم زور لگاتے رہے ہیں کیونکہ ہم ایران کے ہمسائے ہیں ۔ اس کے علاوہ افغانستان میں جہاں امریکی مفادات ہیں تو روس ، چین ، ایران ، بھارت سب کے ۔۔۔ stakes ہیں ۔ اور سب کا زور پھر پاکستان پر ہی آتا ہے ۔ تو ایک وہ کہتے ہیں نا ۔۔۔ گونجل ۔۔۔ بنا ہوا ہے جس میں پاکستان پھنسا ہوا ہے ۔ آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ میں خارجہ پالیسی کا ماہر تو نہیں ہوں ۔ مگر ایک مثال دے سکتا ہوں ۔ آپ دیکھیں ترکی امریکی اتحاد نیٹو کا حصّہ ہے لیکن اس نے رُوس کے ساتھ بھی اچھے تعلقات استوار کیے ہوئے ہیں۔ ترکی کی کمپنیوں نے رُوس میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ ترکی کے طالبعلم رُوس جا کرسائنس اورٹیکنالوجی کے تعلیم حاصل کرتے ہیں جسکے نتیجہ میں ترکی کی مقامی صنعت کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔ ہم تو اب کسی امریکی اتحاد کا حصہ بھی نہیں ہیں بلکہ امریکہ نے بھارت سے ملکر ہم پر کئی طرح کی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں جن میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنا بھی شامل ہے۔ پر یہ طے ہے ہم کو یقینی طور پر آئندہ دنوں میں امریکہ اور چین کے درمیان کے کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا ہوگا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.