ورلڈ ہیڈر ایڈ

پورا پاکستان 10 بلین ٹری سونامی کی چھتری تلے متحد ہے، 20 جولائی شجرکاری کا قومی دن ہو گا، ملک امین اسلم

وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ پورا پاکستان 10 بلین ٹری سونامی کی چھتری تلے متحد ہے اور یہ منصوبہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی علامت کے طور پر ابھرا ہے یہی وجہ ہے کہ تمام صوبے آج ایک پیج پر ہیں کہ آنے والی نصلوں کیلئے مل کر درخت لگائیں۔ جو صوبائی حکومت شجرکاری میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی اس کی مقتدر جماعت کیلئے منفی سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستانی عوام اس منصوبے کو بہت سنجیدہ لے رہی ہے۔ بلین ٹری سونامی خیبر پختونخواہ کی عالمی سطح پر پہچان بن چکا ہے اور دنیا خیبر پختونخواہ کو بلین ٹری سونامی کے حوالے سے جانتی ہے۔ 20 جولائی کو شجرکاری برائے پاکستان کے نام سے قومی دن کے طور پر منایا جائے گا جس کا با ضابطہ افتتاح وزیر اعظم پاکستان درخت لگا کر کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چوتھے وفاقی فاریسٹری بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی فاریسٹری بورڈ کا اجلاس بروز بدھ اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وزیر مملکت محترمہ زرتاج گل وزیر، وفاقی سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی، چاروں صوبوں کے سیکرٹری جنگلات بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان،پاک فوج، پاکستان ریلوے، محکمہ قومی شاہرات، غیر سرکاری تنظیموں اور عالمی ماحولیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ 10 ارب درختوں کا منصوبہ قومی وحدت کی علامت بن چکا ہے یہی وجہ ہے آج تمام صوبے ایک ایجنڈے پر متفق ہیں اور وفاق کے ساتھ مل کر منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پرجوش ہیں۔ وزیر مملکت محترمہ زرتاج گل وزیر نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوانے جنگلات کی بحالی میں فقیدالمثال کام کیا ہے اور اس اکیلے سے مزید توقعات وابسطہ کرنا نا انصافی ہوگی۔ وقت آگیا ہے کہ دوسرے صوبے بھی آگے بڑھیں اور اپنے حصے کا کام کریں۔ انہوں نے کچھ صوبوں کی طرف سے حالیہ سال کا ٹارگٹ حاصل نہ کر سکنے پر سوال اٹھایا۔

مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے صوبوں کی جانب سے حالیہ مون سون شجرکاری کا قلیل حدف رکھنے پر مایوسی کا اظہار کیا اور ہدایات دیں کہ صوبے فوری طور پر اپنے اپنے اہداف پر نظر ثانی کرتے ہوئے جولائی کے اواخر سے 14 اگست تک کا مربوط پلان دیں۔ انہوں نے صوبوں کی جانب سے 10 بلین ٹری پراجیکٹ پر انفرادی طور پر بھی سوالات کیے اور ان پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ بورڈ نے تعلیمی معیار اور انتظامی امور کی خامیوں کی شکایات کی روشنی میں مطالبہ کیا کہ پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور کو وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا جائے۔ صوبہ سندھ اور خیبر پختونخواہ نے اس تجویز کی مخالفت جبکہ باقی تمام وفاقی اکائیوں نے اس کی توثیق کی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ قومی یکجہتی اور وفاق کی علامت ہے اور اس کے وفاق کے زیر انتظام آنے کیلئے یہی دلیل کافی ہے۔ اس معاملہ پر وزارت بین الصوبائی رابطہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مشیر نے جنگلات کے موجودہ قوانین کی نرمی پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگلات کی کٹائی روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ پوری دنیا میں جنگلات کے حوالے سے قوانین سخت سے سخت تر ہوتے جا رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے اپنے اپنے قوانین پر نظر ثانی کریں اور سخت سزائیں تجویزکریں۔ ماضی میں جنگلات کو شدید نظر انداز کیا گیا ہے۔ ہماری حکومت اب ایسا نہیں ہونے دے گی۔ وزیر اعظم پاکستان نے مشکل ترین نامساعد معاشی حالات میں بھی اس منصوبے کیلئے ساڑھے سات ارب روپے مختص کیے جس سے اس منصوبے کی اہمیت اور بھی اجاگر ہو جاتی ہے۔ اجلاس میں سہ ماہی مالی قسطوں کی ادائیگی، گزارہ جنگلات کیلئے زمین کا حصول، شجرکاری میں خواتین کی حصہ داری، خیبر پختونخواہ میں محکمہ سیاحت اور محکمہ جنگلات کے مابین اختلافات، ٹمبر ٹیکس، شہری جنگلات اور بون چیلنج جیسے معاملات زیر بحث آئے۔ مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ہفتہ ایکنک کے اجلاس میں 10 بلین ٹری سونامی پرجیکٹ کا پی۔سی۔ون منظور ہو جائے گا جس کے بعد وہ پریس کانفرنس کے ذریعے اس کے مندرجات عوامی آگاہی کیلئے پیش کریں گے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.