پاکستان، افغان جنگ اور تحریک آزادی کشمیر — عبدالرحمن

گزشتہ چند دنوں سے کچھ تحریریں پڑھنے کو مل رہی جن افغان اور کشمیر گوریلا وار کا موازنہ کیا جارہا ہے ایک مؤقف یہ ہے کہ اگر افغانستان میں امریکی شکست کا ذمہ دار پاکستان ہے تو پھر کشمیر میں ہونے والے ستم کا ذمہ دار بھی پاکستان ہے کہ ایک طرف اس نے وقت کی سپر پاور کو ناکوں چنے چبوادیے تو دوسری طرف ہندوستان جیسے مکار سے کشمیر کو نہ بچا سکا
کیا کشمیر یا افغانستان کی جنگ کی ہار جیت کا مکمل ذمہ دار صرف پاکستان ہے یا اس میں افغانیوں اور کشمیریوں کا بھی کردار ہے آئیے اس سے متعلق چند نقاط پر بات کرتے ہیں

سب سے پہلے افغان قوم کی بات کرتے ہیں ذرا تاریخ دیکھیں تو یہ ہمیشہ سے جنگجو رہے ہیں غوری، غزنوی اور سوری سب انھی میں سے تھے اور ماضی قریب میں پچھلی ایک صدی سے یہ مسلسل جنگ کررہے ہیں پہلے برطانیہ پھر روس اور اب امریکہ گویا ان کی موجودہ نسل حالت جنگ میں ہی پیدا ہوئی اور پھر ان کو عسکری محاذ پر مختلف قوتوں کی علی الاعلان یا پھر بھرپور خفیہ حمایت ہی نہیں عملی مدد بھی شامل رہی روس کے خلاف امریکہ اور مکمل مسلم دنیا نے ان کی بھرپور مدد و حمایت کی اور امریکہ کے خلاف مسلم دنیا بالخصوص پاکستان نے ان کی مکمل مدد جاری رکھی

اس کے برعکس کشمیری قوم قیام پاکستان سے پہلے راجا ہری سنگھ سے لے اب تک مسلسل غلامی میں رہی اور(ماضی میں ) ان کا جذبہ حریت افغانوں سے موازنہ کرنا سراسر بے ایمانی ہوگا 65 کی جنگ میں پاکستان نے بہت کوشش کی کہ
منظم ہوئی عوام نے اس کی بھر پور حمایت تو کی اور مسلح جدوجہد میں تیزی آئی
یہ منظم اور بھرپور عسکری جدوجہد کا پہلا دور تھا جب کشمیریوں نے ہتھیار اٹھانے شروع کیے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کا اس میں کیا کردار تھا اور اس عسکری جدوجہد کو انجام تک پہچانے کے لیے شروع کی جانے والی کارگل جنگ اپنوں کی بے وفائیوں کی نظر ہوگئی اور پھر اس کے بعد امریکہ افغانستان میں آگیا اور پاکستان کے لیے مغربی محاذ بھی کھل گیا چونکہ امریکہ کا مقصد پاکستان اچھی طرح سمجھ چکا تھا
اور پھر پاکستان کو کچھ کڑوے گھونٹ بھرنے پڑے جن میں ایل او سی پر باڑ بھی شامل تھی ان تمام عوامل کی بنیاد پر کشمیر کی عسکری جدوجہد سست روی کا شکار ہو گئی
ادھر امریکہ افغانستان میں ایک سال
بھی نہیں ہوا تھا تو جذبہ حریت سے سرشار فاتح افغان قوم نے اس کو دن میں تارے دکھانا شروع کردیئے اور بھرپور گوریلا وار شروع کر دی
اگر آپ دیکھیں کہ تقریباً ایک لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں لیکن ان میں سے بندوق اٹھاکر لڑکر شہید ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے تو یقیناً آپ مایوس ہوں گے
2013 تک کشمیر کی حالت یہی رہی کہ لڑنے والوں کی اکثریت مقامی نہیں تھی اس دوران یقیناً سفارتی سطح پر پاکستان کے حکمرانوں نے سفارتی محاذ بالکل ٹھنڈا رکھا لیکن مودی کے مظالم اور پھر برہان مظفر وانی کی شہادت نے ایک بار پھر کشمیریوں کو بھارت کے خلاف عسکری طور پر کھڑا کردیا اور پاکستان کی کھلم کھلا عسکری حمایت کے لیے پاکستان موقع کی تلاش میں ہے مگر پاکستان پہل نہیں کرنا چاہتا ان شاء ﷲ تحریک آزادی کشمیر اس بار ضرور اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.