fbpx

پاکستان افغان معاملے پرعالمی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے عسکری حکام کی بریفنگ

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔

باغی ٹی وی : جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اعلیٰ عسکری حکام نے پارلیمانی قیادت کو قومی سلامتی کے امور پر بریفنگ دی اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں اعلیٰ عسکری حکام نے ملک کی سیاسی و پارلیمانی قیادت، اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ، صوبائی و آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت کو اہم خارجہ امور، داخلی سلامتی، اندرونی و بیرونی چیلنجز، خطے میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں خصوصاً تنازع کشمیر اور افغانستان کی صورتحال پر جامع بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان برادر افعان عوام کی حمایت اور تائید جاری رکھے گا اور افغانستان میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ بھر پور کوشش ہے کہ موجودہ حالات کسی اور انسانی و معاشی بحران کو جنم نہ دیں۔

پارلیمانی کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں پرخلوص طور پر مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، پاکستان اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام خطے میں امن اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ موجودہ حالات کسی اور انسانی و معاشی بحران کو جنم نہ دیں جو افعان عوام کی مشکلات میں اصافے کا باعث ہوں اور اس سلسلے میں پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہےاراکین اسمبلی اور دیگر قائدین کو بریفنگ میں اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور ساتھ پاک-افغان سرحد پر بارڈر کنٹرول کے نظام کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

اعلامیے کے مطابق سیاسی و پارلیمانی قیادت نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور افغانستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اس حوالے سے کہا گیا کہ ان کی رائے میں ایسے اجلاس نہ صرف اہم قومی امور پر قومی اتفاق رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ مختلف قومی موضوعات پر ہم آہنگی کو تقویت دینے کا بھی باعث بنتے ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور سید یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی سمیت دیگر وفاقی وزرا اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ نے شرکت کی۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائےاعلیٰ، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر، اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی علاوہ ازیں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار سمیت دیگر اعلیٰ عسکری حکام بھی موجود تھے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا بند کمرہ اجلاس شروع ہوا تو میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس تقریباً ساڑھے 5 گھنٹے تک جاری رہا۔

میڈیا پر پابندی کے حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ میڈیا پر سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی ہے اور پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر میڈیا کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی اور میڈیا گیٹ نمبر ایک تک محدود رہے گا۔

اجلاس کے بعد شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج کے اجلاس میں زبردست ماحول تھا اور ایسا ہوتے رہنا چاہیےتحریک طالبان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ کالعدم ٹی ٹی پی کا معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کا کہا گیا ہے انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال اور کالعدم ٹی ٹی پی کا معاملہ زیر بحث آیا ہے اور اجلاس میں لمبے سوال جواب ہوئے اور کھل کر باتیں ہوئیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!