fbpx

پاکستان عالمی طاقتوں کی مجبوری . تحریر: محمد عثمان

پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور پوری دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہے.
ایٹمی ملک ہونا پاکستان کوجہاں ناقابل شکست و تسخیر بناتا ہے وہاں بے پناہ مسائل کا شکار بھی کرتا ہے.

پاکستان معاشی لحاظ سے ایک کمزورملک ہے جس کی بدولت طاقتورممالک اس خطے کو اپنے مفادات کی خاطراستعمال کرتے ہیں.
پچھلی دو دہائیاں اس بات کا غمازکرتی ہیں جس طرح امریکہ نے اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کواستعمال کیا. صرف امریکہ ہی نہیں دیگرمغربی ممالک بھی پاکستان کی معاشی کمزوری کی بدولت اس کو مفادات کی جنگ میں گھیسٹتے ہیں. جہاں چائنہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا ہے وہاں اپنے مفادات کے لیے پاکستان کو اچھے طریقے سے استعمال بھی کررہا ہے.

تمام ایٹمی ملک سپرپاورکی دوڑمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اوراپنی برتری ثابت کرنے کے لیے پاکستان جیسے کمزورملک کو استعمال کررہے ہیں. پاکستان بھی ان ترقی یافتہ ممالک کی طرح اس سپرپاورکی دوڑمیں شامل ہوگیا ہے. اگرچہ ناگفتہ بہ معاشی حالات ہیں مگرجیوگرافکل اورجیوپولیٹیکل صورتحال کے پیش نظراب منظر نامہ تبدیلی کی طرف گامزن ہوگیا ہے.

پاکستان پہلے برطانیہ وامریکہ کا اتحادی شمارہوتا تھا جس کے لیے پاکستان نے بے پناہ قربانیاں بھی دیں اوراپنی معیشت بھی برباد کی مگر حاصل کچھ نہ ہوا. پرائی جنگ میں ساجھے داربن کراربوں ڈالرزکے infrastructure کا نقصان کیا لکھوں جانیں قربان کیں اوربدلے میں دہشتگردی کا لیبل لگوایا. اب پاکستان نے جو چائنہ کے ساتھ مل کر پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈورشروع کیا ہے اس سے پوری دنیا میں منظرنامہ تبدیل ہو کررہ گیا ہے.

عرب ممالک جو اسلامی بنیاد پرپاکستان کے دوست ممالک سمجھے جاتے ہیں اب نظربدل رہے ہیں کیونکہ اماراتی سمندری بالادستی ختم ہونے جا رہی ہے اس لیے انہیں بھی شدید تکلیف پہنچ رہی ہے. ازلی دشمن بھارت جس نے کبھی بھی کوئی موقع جانے نہیں دیا پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے خواہ وہ کوئی بھی پلیٹ فارم ہو. یہ الگ بات ہے کہ اسے ہربارمنہ کی کھانی پڑی ہے. اب پاکستان نے بھی اپنی strategy بدل لی ہے امریکہ بہادرکوabsolutely not کا میسج دے کر پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ ہم آپ کے محتاج نہیں اورنہ آپ کے ذرخرید غلام ہیں.

جیو پولیٹیکل اورجیولاجیکل فیکڑ پردیکھیں تو افغانستان میں وقت سے پہلے امریکی انخلا اورپاکستان کا کرارا جواب دنیا کے منظر نامے پر نئی راہیں متعین کرنے کا اعلان ہے. پاکستان، چائنہ، روس، ترکی اورملائشیا نیا اتحاد ہونے جا رہا ہے. جس سے اسرائیل، بھارت اورامریکہ شدید شش و پنج میں مبتلا ہیں. امریکہ کی افغانستان سے وقت سے پہلے انخلا پربھارت نوحہ کناں ہے بھارت نے پاکستان کے خلاف افغانستان میں بہت زیادہ investment کر رکھی تھی اب وہ ساری ڈوبنے کے امکان روشن ہیں.

طالبان کی افغانستان میں بڑھتی مقبولیت اورحکومت بنانے کے واضح اثرات دیکھ کر بھارت شدید خائف ہوکراسرائیل کی طرف بھاگا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں روکے مگرامریکہ تو شاید بہانے کے انتطار میں تھا اوربگرام ائیر بیس کو رات کی تاریکی میں خاموشی سے خالی کر کے دم دبا کربھاگ رہا ہے یہ سب دیکھ کر بھارت شدید رنج اور پریشانی میں ایک ایک کر کے افغانستان میں اپنے کونصل خانے خالی کر رہا ہے.

اس فیصلے پراسرائیلی حکومت امریکہ کو بھارتی نقصان باورکرانے کے لیے ایک کانفرنس کرنا چاہتی ہے. مگرایک امریکی اعلی عہدے دار کا ماننا ہے کہ اس میٹنگ میں پاکستان کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا بھارت کا کیوں کہ پاکستان اتنا ہی اہم ایٹمی ملک ہے جتنا بھارت اگرچہ پاکستان کی اکنامک پوزیشن بھارت کے مقابلے کم ہے لیکن دفاعی لحاظ سے اہمیت برابر ہے.

سپرپاور کیلئے زیادہ سہولت ہے اگر جغرافیائی اعتبار سے محفوظ مقام پرہو دوسرے اہم قوت ہونے کیلئے معیشت اورعسکری قوت کے ساتھ ایک اور چیز ہے اوروہ ہے قدرتی جغرافیائی نقشہ جس پرپاکستان مکمل پورا اترتا ہے. بھارت پاکستان سے 6 گنا بڑا ہے. معیشت بھی اچھی ہے اورآبادی بھی بہت ہے لیکن جغرافیائی اعتبار سے وہ ایک بند مقام پر ہے اسے opening دستیاب ہی نہیں ہے. ایک طرف پاکستان دوسری طرف چین اور پھر ایک مشکل پہاڑی ملک نیپال غیراہم بھوٹان اوربنگلہ دیش جہاں سے محض مشرق بعید کے ایک دو ممالک تک رسائی ہے.

بھارت جغرافیائی اعتبار سے کبھی بھی وہ اہمیت حاصل کر ہی نہیں سکتا جو پاکستان کو ہے. چائنہ اپنا ٹارگٹ فٹ کیے بیٹھا ہے آنے والی طالبان حکومت سے سب کچھ طے شدہ پروگرام کے تحت سٹریم لائن ہے طالبان بھی اب جبر و تشدد کو ترک کر کے عمدہ حکومت کے لیے پرامید ہیں. اگرطالبان سے معاملات طے پا جاتے ہیں تو روس پہلے ہی پاکستان کو blank check آفر کر چکا ہے کہ اب پاکستان کو دیکھنا ہے کہ اس کا مفاد کس جگہ پر کتنا اہم اورکتنا بڑا ہے.

ترکی آنے والے وقتوں میں ایک بڑی معیشت ہے جو براہ راست پاکستان کے لیے خوش آئند ہے، ملائشیا پہلے ہی پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے. اب اگر پاکستان چاہے تو ان تمام اتحاد کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرسکتا ہے مگر معاشی بد حالی اورکچھ غیرمعمولی نادیدہ قوتیں اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے کرپاکستان کو محکوم رکھیں گے. لیکن عالمی سیاسی منظر نامے پراورسنٹرل ایشائی ممالک میں طاقت کے توازن میں پاکستان غیر معمولی حیثیت حاصل کرچکا ہے. اب پاکستان کے بغیرسپرپاوربننا ناممکن ہے اس تناظرمیں اگردیکھا جائے تویہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان ہی اصل میں سپرپاورہے.

‎@one_pak_