پاکستان نے امریکا اور بھارت کے مابین "بیکا معاہدے” پر سخت تشویش کااظہارکردیا

پاکستان نے امریکا اور بھارت کے مابین بیکا معاہدے پر سخت تشویش کااظہارکردیا

باغی ٹی وی : ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کو جدید فوجی ہارڈویئر، ٹیکنالوجی اور معلومات کی فراہمی کا معاملہ پاکستان مسلسل اجاگر کرتا رہا اور بھارت کی جانب سے جوہری طاقت میں اضافہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہے۔

بھارت اور امریکا نے پاکستان کے خلاف خوفناک معاہدہ کر لیا


ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام کو لاحق خطرات کو اجاگر کرتا رہا ہے، بھارتی اسلحے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے ہتھیاروں کا نظام شامل ہے۔
ترجمان کے مطابق بھارت کا میزائل تجربوں میں غیر معمولی اضافہ خطرناک روایتی اور نیوکلیئر بِلڈ اپ کی عکاس ہیں، بھارتی روایتی اور جوہری اسلحے میں بے پناہ اضافے سے جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک استحکام پر منفی اثر پڑا ہے۔

خیال رہے کہ چین کی عسکری طاقت کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت اور امریکا کے درمیان سیٹلائٹ ڈیٹا تک رسائی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔

امریکا اور بھارت کے درمیان اہم دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں اور اس معاہدے کو خطے میں بھارت کی برتری کیلئے اہم سمجھا جارہا ہے۔

بیکا اس سلسلے میں امریکا اور بھارت کے درمیان چوتھا اور آخری بنیادی دفاعی سمجھوتہ ہے۔ اس سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان جنرل سیکیورٹی اینڈ ملٹری انفارمیشن ایگریمنٹ (2002)، لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ (2016)، کمیونیکیشن کمپیٹی بلیٹی اینڈ سیکیورٹی ایگریمنٹ (2018) کے معاہدے ہوچکے ہیں۔

بیکا کے تحت بھارت کو مختلف فضائی اور میدانی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوجائے گی جس کا مقصد چین کی عسکری طاقت کا مقابلہ کرنا ہے۔

اس معاہدے کے تحت بھارت اور امریکا نقشوں، ناٹیکل اور ایروناٹیکل چارٹس، کمرشل و دیگر غیر حساس تصاویر، جیو فزیکل، جیو میگنیٹک اور گریویٹی ڈیٹا کا تبادلہ کرسکیں گے۔

اس معاہدے کے تحت امریکا بھارت کے ساتھ حساس سیٹلائٹ اور سینسر ڈیٹا کا تبادلہ بھی کرے گا جس کی مدد سے بھارت اپنے عسکری اہداف کو مہارت کے ساتھ نشانہ بنانے کا اہل ہوجائے گا۔

اس کے علاوہ بھارت بحرِ ہند میں چینی جنگی جہازوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھ سکے گا۔سیٹلائٹ ڈیٹا تک رسائی کے باعث بھارت کو میزائل اور ڈرونز کی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.