fbpx

پاکستان اور اقوام عالم .تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

آجکل دو اصطلاحات بہت زیادہ استعمال ہو رہی ہیں۔
1۔ پہلی Full spectrum deterrence
2۔ دوسری Minimum level deterrence

یہلے ہم Deterrence کو سمجھ لیں تو یہ دونوں اصطلاحات سمجھ آ جائیں گی۔ کسی کو خوف میں ڈال کر اس کو اس کے مقاصد سے باز رکھنے کے عمل کو Deterrence کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ ایسے ہے کہ آپ اپنے ہتھیاروں کے بل پر خوف پیدا کرکے دشمن کو کسی جارحیت سے روکنے کو Deterrence کہیں گے۔
١٩٩٨ء سے پاکستان ایٹمی قوت کے طور دنیا کے نقشہ پر ابھرا۔ اگر آپ ٢٨ مئی ١٩٩٨ء سے فورا” پہلے کے زمانے میں بھارتی مشیروں، وزیروں اور میڈیا کی ہرزہ سرائیاں ملاحظہ فرمائیں تو قارئین بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ علاقہ میں اپنی برتری کے زعم میں مبتلاء ہو چکا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کھلم کھلا جارحیت کے پیغامات دے رہا تھا۔دوسری جانب کشمیر میں اور مشرقی پنجاب میں بھارتی کاروائیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ دنیا ابھی ورطہُ حیرت میں تھی کہ تمام عالمی قوتوں نے پاکستان پر دباؤ پڑھا دیا کہ ایٹمی دھماکے سے باز رہے۔
ان حالات میں امریکہ تو بہت سی مراعات اور تب کے وزیراعظم (جن کیلئے ایک امریکی جریدہ میں خبر چھپی تھی کہ یہ سب کچھ بیچ سکتا ہے دولت کی خاطر) سے فون پر رابطے اور سفراء کے ذریعہ مختلف حیلہ و بہانوں سے دباؤ بڑھایا گیا۔
اس وقت ایک پروگرام میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بیان کے مطابق، تمام سیاسی، دانشوروں اور فوجی قیادت اس پر متفق تھی کہ فورا” دھماکے کرکے اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور انہی دھماکوں سے بھارتی جارحیت کو رد کیا جا سکتا ہے۔ اس پر بہت بار مشاورت بھی کی گئی لیکن وزیراعظم مُصر رہے کہ انتظار کیا جائے۔ یہ گرچہ الگ پورا باب ہے لیکن یہاں اختصار سے تذکرہ کر دیا تاکہ ذہنوں میں یادیں تازہ ہو جائیں۔ خیر کہ پاکستان نے بھی دھماکے ٢٨ مئی ١٩٩٨ء کو کرکے ایٹمی قوت کے طور پر اپنا لوہا منوایا۔ یہ ایٹمی ہتھیار پاکستان کی سالمیت کی ضمانت قرار پائے۔ ان دھماکوں کے ساتھ ہی اچانک تمام رویے جو بھارتی قیادت کی طرف سے دھمکیوں اور میڈیا کے نفرت انگیز رویوں سے سامنے آ رہے تھے، پیشاب کی جھاگ ثابت ہوئے۔ ہر طرف بشمول سوشل میڈیا، سب کو سانپ سونگھ گیا۔ پاکستان نے اپنی اس طاقت کو ظاہر کیا تھا جو ایک عرصہ سے تیار تو کر چکا تھا لیکن اپنے ہتھیاروں کو مناسب موقع کیلئے ذخیرہ کر رکھا تھا۔
ان ہتھیاروں اور قوت کا مظاہرہ کر کے پاکستان دنیا میں تو الگ مقام حاصل کر چکا ہی تھا لیکن اسلامی دنیا کیلئے پہلا مسلم ملک تھا جو اب تک واحد ہے ایٹمی قوت کے ساتھ، لہذا مسلم امہ کیلئے خاص طور پر قائدانہ مقام حاصل کر لیا۔

پالیسی:
یہاں پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان کی پرامن پالیسی جاری رہے گی اور پاکستان ایک ذمہ دار قوم ہے جو اپنے اثاثوں کی ناصرف حفاظت کر سکتا ہے بلکہ اس قوت کو غیر ذمہ دارانہ طور پر استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس پالیسی کو عام زبان میں Minimum level Deterrence کہا جاتا ہے۔ اس پالیسی کا اعلان کرکے پاکستان نے بہت محتاط اور بینظیر کمانڈ سٹرکچر بنایا اور اپنے اہم اثاثوں کی محافظت اور اس کے استعمال کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے۔ کچھ ہی عرصہ میں دنیا کو مطمئن کر دیا کہ پاکستان انتہائی ذمہ دار ملک ہے اور اس ملک کی قیادت کسی طور پر اپنی سالمیت پر سودا بازی کو قبول نہ کریگی۔
بعد ازاں پاکستان بھارتی جارحیت کا منہ توڑنے کے بعد اپنی معیشت کی طرف متوجہ ہوا۔ ہر پاکستانی نے اس ضمن میں محنت کی اور پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے لگا۔ لیکن حکمرانوں نے قرضہ کی لعنت بھری دلدل میں پاکستان کو ڈبو کر تمام معیشت کو عالمی معاشی اداروں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ عام عوام کو قرضوں سے خریدی ہوئی سستی روٹی دیکر خوش رکھا جبکہ دوسری طرف اپنے بینک بیلنس اور جائدادیں دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلاتے رہے۔ وہ تمام یورپی ممالک جو کالے دھن کو لعنت کہتے نہ تھکتے تھے، جانتے بوجھتے اپنی آنکھیں بند رکھے ہوئے تھے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کیا جا سکے۔
١٩٩٨ء کے بعد اچانک آہستہ آہستہ پاک فوج کے خلاف ایک منظم مہم شروع کی گئی لیکن وہ اقتدار کی بساط لپیٹتے ہی ختم ہو گئی۔ مشرف دور میں ایسی تمام مہمات کسی مقام پر نظر نہ آتی تھیں۔

مشرف دور کی واحد غلطی ق لیگ کیساتھ ملکر آمر سے سیاستدان بننے کی خواہش نے جنرل مشرف کو دوراہے پر لاکھڑا کیا اور این آر او کا فیصلہ ان کے اقتدار کے تابوت میں واحد کیل ثابت ہوا۔
پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں نے مشرف دور کے اکٹھے ہوئے خزانوں کو جن کی مالیت تقریبا” ٦٥ ارب ڈالر سے زائد ذخیرہ کہا جاتا ہے، اپنے مفادات میں استعمال کیا۔ ١٠ سال کی قلیل مدت میں پاکستان کو عملا” معاشی طور پر ایک بار پھر عالمی اداروں کے مرہون منت بنا دیا گیا۔
امریکی جارحیت افغانستان کے خلاف جاری رہی اور ساتھ ہی امریکہ پاکستان کو بلیک میل کرتا رہا، جبکہ امریکہ نے بھارت سے ہر سطح پر تعلقات کو استوار کیا اور معاشی و دفاعی معاہدے کئے لیکن ایسے نازک وقت میں اپنے پرانے دوست پاکستان کو یکسر نظرانداز ہی نہ کیا بلکہ بعض مقامات پر بھارت کی حمایت کرکے پاکستان کو زدوکوب کرنے کی بہیمانہ کوششیں ہوئیں۔
پھر زمین و آسمان نے دیکھا کہ بھارت نے اپنے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو کر پاکستان کو اندرونی و بیرونی خلفشار میں مبتلا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن پاکستان کے اداروں نے اپنی بہترین کاوشوں کے ذریعہ ایسی ہر کوشش کو بالآخر ناکام بنا دیا۔ اس تمام جنگی صورتحال میں پاکستان کو بہت خون کی قربانی پیش کرنا پڑی۔ لیکن آخر میں آزادی کا چراغ مزید تیز لو کیساتھ جلتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس وقت تک پاکستان نے پرامن ملک اور تمام عالمی قوتوں کیساتھ دوستانہ رویہ رکھا۔ محتاط پالیسی کو جاری رکھا گیا اور بعض اوقات ثبوت ملنے کے باوجود بھارت پر الزام تراشی سے اجتناب برتا تاکہ دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو معمول پر رکھنے کی بھرپور کوشش جاری رہے۔ لیکن بنیا کب انسانیت دکھا سکتا ہے؟ ایسی ہر کوشش کو پاکستان کی کمزوری سمجھ کر بنیے نے اپنی پاکستان مخالف کارروائیوں میں تیزی دکھاتا رہا۔
یہ صورتحال پاکستان کیلئے ناقابل قبول تو رہی لیکن پاکستان نے کبھی اپنی پالیسی کو نہ بدلا۔ ٢٠٠١ء سے جنرل مشرف نے پہلی بار جارحانہ دفاع کی پالیسی کا اعلان کیا۔اس اعلان کیساتھ ہی پاکستان میں حالات پر سکون ہونا شروع ہو گئے، جبکہ بھارت کی طرف کشمیر میں اور مشرقی پنجاب میں منظم تحریکوں نے زور پکڑ لیا۔ جلد ہی بھارت نے بھی پاکستان میں دہشت گردی کی لہر پیدا کرنا شروع کی جس کیلئے ہمارے اندر موجود بےوقوف پاکستانی جنت کے شوقین پاکستانی طالبان کی صورت میں مارکیٹوں، اہم سرکاری عمارتوں اور مختلف سکولوں میں پھٹتے نظر آئے۔ لیکن امریکہ کی طرف سے پاکستان سے Do More کے مطالبہ نے پاکستان کو عجیب پریشانی سے دوچار کیا۔ امریکہ خود پاکستان میں آپریشن کا خواہاں تھا، لیکن مشرف حکومت سے کمال سمجھداری سے امریکی خواب چکنا چور کر دیا اور اپنا علاقہ ایسے تمام بیرون ملک سے آئے اور پاکستانی دہشتگردی میں ملوث افراد کا صفایا کرنا شروع کر دیا۔ پاک فوج کا کردار اس پورے آپریشن میں قابل ستائش اور قربانیوں کی لازوال داستان بن گیا۔

جلد ہی سول حکومت پیپلزپارٹی کی قیادت میں سامنے آئی اور جنرل مشرف کو وہ NRO جو دیا تھا، ایک پچھتاوا بن کر رہ گیا۔ اب زرداری سٹریٹجی کی بات ہونے لگی۔ زرداری صاحب نے ایک طرف جنرل مشرف کو وردی اتار کر گھر کی راہ دکھائی تو دوسری طرف نواز لیگ کو کمال ہوشیاری سے اپنے ساتھ ملا کر "باریوں” پر راضی کر لیا۔ عام عوام کے سامنے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے والے سیاستدانوں نے اندرون خانہ اپنے الو سیدھے کرنا شروع کر دئیے۔
جلد ہی زرداری صاحب کی حکومت کے خاتمہ کے بعد نواز لیگ نے معاہدہ کے تحت حکومت بنائی اور دفاعی پالیسیاں سب کی سب جارحانہ کی بجائے کلی طور پر مدافعانہ بن کر رہ گئیں۔ یہی دور تھا جب بھارت نے ایک جانب کشمیر میں ہاتھ سے نکلتے حالات کو قابو کیا تو دوسری جانب مشرقی پنجاب کی بھی تمام مزاحمتی تنظیموں کی کمر کو توڑ ڈالا۔ اسی زمانے میں فوج کے خلاف عوام میں ابتری پھیلائی گئی اور بدنام کیا جانے لگا۔
حالیہ افغانستان میں تبدیلیوں اور عالمی قوتوں کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے، پاکستان نے بھی اپنی پالیسی کو عالمی قوتوں کی پالیسی، خاص طور پر بھارتی میڈیا اور بھارتی پالیسی کو مدنظر رکھ کر تبدیل کی۔ ہمیشہ امن کی بات کرنے والے ملک کو بزدل یا مجبور سمجھ کر پاکستان میں بدامنی اور عوام میں بےچینی کا سبب بننے والے بھارت اور چند اور پاکستان مخالف ممالک کی سرگرمیاں اس بات پر پاکستان کو مجبور کرتی ہیں کہ اپنی پالیسی کو یکسر بدلا جائے، لیکن پہلی بار پاکستان کے وزیراعظم نے "Absolutely Not” کا نعرہ لگایا جسے بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔
یہ نعرہ ہی نہیں ہے بلکہ اقوام مغرب اس کو چیلنج کے طور پر ملاحظہ کر رہی ہیں۔وہ قوم جو ایک عرصہ تک ان کیلئے "شرفو” کی حیثیت رکھتی تھی، آج انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کر رہی ہے جو انکے لئے ناقابل قبول ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ "گھاس” کھا کر زندہ رہنا سیکھ لیا جائے، لیکن قومی وقار اور قومی سلامتی کیلئے سب ایک ہوکر کھڑے ہو جائیں۔ شعب ابی طالب (ع) میں تین سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی درختوں کے پتے، جڑیں اور کم پانی پر گزارا کیا تھا؟ کیوں؟ تاکہ امت مسلمہ کے افراد وقت پڑنے پر اپنے ایمان کو بیچنے پر مشکلات کو، مصیبتوں کو قبول کریں لیکن اپنے ایمان کو مت بیچیں۔
اس نعرہ کا مطلب ہی اب یہ ہے کہ جیسا تعلق تم رکھو گے ویسا جواب یہاں سے ملے گا۔اب یہی پالیسی رہے گی۔ ارجنٹائن کو JF17 Thunder کو بیچنا پاکستان کی معیشیت کیلئے اہم ہے تو بھلا چند میچ پاکستان کی ترجیح نہیں ہو سکتے۔ آپ کو پاکستان نے کبھی مجبور نہ کیا کہ بھارت کو تو سرخ لسٹ سے نکال دیا تھا ایک عرصہ پہلے جبکہ وہاں کرونا کی تباہ کاریاں ثبوت کیساتھ ظاہر ہیں جبکہ پاکستان کو فقط بھارت کو راضی رکھنے کیلئے سرخ لسٹ میں رکھا گیا۔
دوسری جانب FATF بھی قابل غور ہے۔ کشمیر میں بھارتی کردار، پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کی کارروائیاں، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سرحدوں پر کاروائیاں، ۔۔۔۔۔ کیا تمام دنیا اندھی ہے یا دیکھنا نہیں چاہتی؟

فیصلہ آپ کیجئے۔

پاکستان زندہ باد

کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی،لاہور

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!