fbpx

پاکستان آپ سے مخاطب ہے — حافظ گلزارعالم

چند روز قبل اس ارادے سے لکھنے بیٹھا کہ اس آزادی کے موقع پر ایسا کچھ لکھوں کہ دل میں ملک عزیز پاکستان کی محبت میں اضافہ ہو، اور یہ محبت اس قدر ہو کہ وطن عزیز کے لئے کچھ کر گزرنے کا جزبہ دل میں پیدا ہو۔ یا کم از کم اتنا ہی احساس ہمارے دل میں پیدا ہو کہ ہمارے کسی قول و فعل سے وطن عزیز کی عزت پر کوئ آنچ نہ آئے۔

پھر خیال آیا بڑے بڑے محب وطن لکھاری، شعراء اور مفکرین اس باب میں لکھ چکے ہیں۔ ہم انہی کو سنجیدگی سے پڑھ کر یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں، میرے لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر پھر خیال ہوا کہ گو میری یہ بساط نہیں مگر انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام آجائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔ کہ کل بروز قیامت ملک عزیز پاکستان کے لئے اور کچھ نہیں تو یہی تحریر پیش کرسکوں۔ کہ یارب تیرے نام پر بنے اس پیارے ملک پاکستان سے محبت میں یہ ایک تحریر لایا ہوں۔

مگر کچھ نہ سمجھ آیا۔ ابتدا کہاں سے ہو انتہا کہاں ہو۔ اسی اثناء میں آنکھ لگ گئ، کیا دیکھتا ہوں کہ اک خلق خدا جمع ہے۔ اور یوں لگ رہا ہے جیسے بعد الفجر نماز پڑھ کر سارے پاکستانی اک میدان میں جمع ہوں، جس میں بچے بوڑھے مرد خواتین جمع ہیں۔ البتہ سب خواتین باپردہ ہیں۔ اور مردوں سے الگ ہیں۔ سب کی زبانوں پر اک ہی نعرہ ہے: پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاااللہ

اسٹیج سے اعلان ہوا کہ آج ہمارا پیارا ملک پاکستان اپنی 75 ویں سالگرہ پر ہم سے خود مخاطب ہونا چاہتے ہیں۔ سب کا جوش و خروش عروج پر ہے، خوشی سے چہرے کھل رہے، آنکھیں پر نم ہیں۔ اور کچھ لوگوں کے تو سر ندامت سے جھکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس پیارے ملک سے کسی بھی سطح کی بے وفائ، اسے لوٹا یا اس کے مقاصد سے روگردانی کی۔

انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ اور ملک پاکستان بارعب وجیہ صورت میں متشکل ہو کر اسٹیج پر تشریف لائے۔ اور گویا ہوئے
” تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے جسکے نام پر میں آزاد ہو۔ درود سلام ہو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کی آل پر اور آپکے تمام اصحاب پر

میرے بیٹو !
امید ہے تم سب ٹھیک ہوگے۔ تمھاری بقا سلامتی اور خوشحالی کی ہر دم دعا کرتا ہوں۔ اللہ تمھیں ہمیشہ سلامت رکھے اور ہر اندرونی بیرونی شرور سے تمھاری حفاظت کرے۔ آمین

میں پاکستان ہوں۔ سندھ پنجاب بلوچستان خیبر پختونخواہ میرے حصے ہیں۔ مجھے اپنا ہر حصہ اور ان میں رہنے والا ہر پاکستانی عزیز ہے۔ تم سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور ہو۔ مگر تمھاری اصل پہچان پاکستانی ہونا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم مسلمان ہو۔ خدارا قومیتیں تعارف کیلئے ہیں،نہ کہ فخر کیلئے۔ گو کہ فطری طور پر اپنی قوم سے محبت ہر ایک کو ہوتی ہے۔ مگر اس بنیاد پر خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنا، دوسروں کو کمتر سمجھنا میرے اللہ کو پسند نہیں۔ میرے اللہ کو پسند نہیں، تو مجھے بھی پسند نہیں۔ کیونکہ میری بنیاد ہی اللہ کے نام پر رکھی گئ۔ میرے بننے کے وقت ہر شخص کی زبان پر یہ نعرہ تھا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔

میں پاکستان ہوں۔ میرے نام میں ہی پاکیزگی ہے۔ مجھے ہر طرح کی گندگی سے پاک رکھو۔ مجھے تم پر فخر ہے۔ مجھے تم سے امیدیں ہیں۔ میری امیدوں کا پاس رکھنا۔

میں پاکستان ہوں۔ میری نسبت مدینہ منورہ سے ہے۔ میری اس نسبت کا بھی پاس رکھنا۔ مجھے مدینہ کے والی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں عزیر رکھنا۔ میرا ہر پاکستانی مکمل سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا آئینہ ہو۔
کہیں میں آپ کے سامنے رسوا نہ ہو جاؤں۔

مجھے لاکھوں مسلمانوں کی تن من تن دھن کی قربانی سے حاصل کیا گیا ہے۔ ان قربانیوں کی لاج رکھنا۔ ان سے بے وفائی نہ کرنا۔ ۔

یہاں بسنے والے غیر مسلم بھی تمھارے بھائ ہیں۔ کسی کو بے جا۔ تکلیف نہ دینا میرے نبی کا حجۃ الوداع کا خطبہ یاد ہے نا؟ آپ نے فرمایا تھا ہر شخص کی جان مال عزت آبرو تم پر حرام ہے۔ کسی کالے کو کسےگورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئ فضیلت حاصل نہیں۔ لہذا خدا کے بندو بھائ بھائ بن کر رہو۔

میرے قائد محمد علی جناح اور میرے مفکر علامہ محمد اقبال کے فرامین پڑھا کرو، انہیں یاد رکھو، اور ان پر عمل کرو۔
میں انہی حضرات کی انتھک محنتوں سے آزاد ہوا۔ اور میری بقا بھی انہی کے اصولوں پر عمل کرنے میں ہے۔ لہذا قائد کا یہ اصول ہمیشہ پلے باندھے رکھو: ایمان،اتحاد اور تنظیم۔ یعنی اللہ کی ذات پر کامل ایمان، آپس میں پیار و محبت سے متحد ہو کر رہنا اور ہر کام میں نظم و ضبط اپنائے رکھنا۔ اور مفکر پاکستان کا یہ پیغام یاد رکھنا

عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہاں گیر تری
ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں