fbpx

سائوتھ ایشین گیمز اور ایشین گیمز کے لیئے پاکستان بیس بال ٹیم کی تیاریاں شروع

کوٹری:سائوتھ ایشین گیمز اور ایشین گیمز کے لیئے پاکستان فیڈریشن بیس بال کی جانب سے ٹریننگ کیمپ لگانے کا فیصلہ احسن قدم ہے۔ پہلے مرحلے میں پچرز وکیچرز کی تربیت کے مذکورہ کیمپ اجوہ سٹی گجرانوالہ میں اگلے ہفتے میں شروع کردیا جائے گا جسکی نگرانی اجوہ سٹی کے سی ای او  محمد تنویر کریں گے جبکہ ہیڈ کوچ مصدق  حنیف، کوچ طارق ندیم اور 7 اپریل کو پاکستان پہنچ رہے امریکن کوچ رینڈل آرمز، پاکستان فیڈریشن بیس بال  کے ٹریننگ اسٹاف کے ہمراہ کوچنگ مہیا کرینگے۔پاکستان فیڈریشن بیس بال کے صدر سید فخر علی شاہ کے کیمپ لگانے کے اس بروقت فیصلے کو بیس بال اور اسپورٹس حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔اس ضمن میں سید فخر علی شاہ کا کہنا ہے کہ ان چیمپیئن شپس میں ہمارا مقابلہ ایشین و ورلڈ کی ٹاپ ٹیموں سے ہونا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک مشکل صورتحال ہوگی تاہم ہم پاکستان ٹیم کو بہتر سے بہتر بنا کر دنیا بھر میں پاکستان کو بہتر ٹیم کے طور پر سامنے لانا چاہتے ہیں تاکہ وطن عزیز کا نام روشن ہو اور ہمارے کھلاڑی بھی اپنے آپ کو کسی سے کم نہ سمجھیں اور مقابلے کی فضا قائم رہے۔

فیڈریشن نے پہلےفروری میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کو اسلام آباد میں کیمپ لگانے کی درخواست دی تھی اور کوئی جواب نہ ملنے پر گزشتہ ماہ یاد دہانی کرائی گئی تھی۔اس ضمن میں ڈی جی  پاکستان اسپورٹس بورڈ کرنل(ر) آصف زمان نے جلد کیمپ کا آغاز کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔چونکہ ہمارا مقابلہ دنیا کی ان ٹاپ تھری رینکنگ ٹیموں یعنی جاپان، تائیوان اور کوریا ہے سے ہے کہ جہاں ہزاروں کی تعداد میں بیس بال اسٹیڈیم ہونے کے ساتھ ساتھ حکومتی، کووآپریٹو سیکٹر اور عوامی سپورٹ حاصل ہے۔ جاپان ورلڈ نمبر 1 ہونے کے ساتھ ساتھ اولمپک چیمپیئن بھی ہے جبکہ کوریا نے کویڈ 19 کے بعد سب سے پہلے بیس بال لیگ شروع کرکے اپنی تمام تر تیاریاں شروع کردی تھیں۔ہمیں معلوم ہے کہ ہم ترقی پذیر ملک ہیں مگر بے پناہ صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کی مالک پی ایف بی چاہتی ہے کہ ہم ان ٹیموں سے بہترین مقابلہ کرنے کے قابل ہوجائیں۔ اس لیئے  "کہیں دیر نہ ہوجائے” کو زہن میں رکھتے ہوئے سید فخر علی شاہ نے امریکن کوچ سے معاہدہ کیا اور اپنے طور پر گجرانوالہ میں کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔انکا کہنا ہے کہ جب پی ایس بی سگنل دے گی تو مذکورہ کیمپپ اسلام آباد شفٹ کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان ایشیائی رینکنگ میں نمبر 5 اور ورلڈ رینکنگ میں 31 ویں نمبر پر ہے جبکہ ویسٹ ایشیائی چیمپیئن شپس میں زیادہ تر گولڈ میڈلسٹ یا سلور میڈلسٹ ہی رہتا ہے۔اس لیئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر فیڈریشن کی مکمل سرپرستی کی جائے اور صوبوں کے دارالخلافوں میں 1-1 بیس بال اسٹیڈیم اور انکے اہم ڈویژنز میں کم از کم 1-1 بیس بال گرائونڈز بنائے جائیں جنکی پاکستان فیڈریشن بیس بال کی نگرانی میں حکومت سطح پر باقائدہ طور سرپرستی کی جائے تاکہ پاکستان کی رینکنگ میں مذید بہتری آسکے۔حکومت کے علاوہ مختلف اسپانسرز اور سول سوسائیٹی اور اسپورٹس لوورز شخصیات کو بھی پاکستان کی گزشتہ کارکردگی اور رینکنک کو نظر میں رکھتے ہوئے بیس بال کھیل پر بھی توجہ دینی چاہیئے تاکہ پاکستان میں اس کھیل کے بانی سید خاور شاہ مرحوم کے مشن کو مذید کامیابیوں کے ساتھ آگے بڑھایا جاتا رہے۔