fbpx

پاک بھارت جنگ کے پاکستان پر اثرات اور نتائج تحریر: احسان الحق

کسی بھی ملک پر جنگ کے اثرات اچھے مرتب نہیں ہوتے مگر میرے خیال میں 1965 کی پاک بھارت جنگ کے اثرات پاکستان پر اقتصادی شعبے کے علاوہ باقی تمام شعبوں پر مثبت مرتب ہوئے. 1965ء کی جنگ سے پاکستان پر مجموعی طور پر خوشگوار اور اچھے اثرات مرتب ہوئے اور جنگ کے بہترین نتائج ملے. سب سے برا اثر پاکستان کی اقتصادی اور معاشی حالت پر پڑا. جنگ کا آغاز ہوتے ہی امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد بند کر دی. جس کی وجہ سے پاکستان کو دفاعی اور جنگی سازوسامان کی خریداری کے لئے کافی پیسہ خرچ کرنا پڑا اور دفاعی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہوا. امریکی اور غیرملکی امداد کی بندش کی وجہ سے غیر ملکی زرمبادلہ کے محفوظ ذخائر پر بہت برا اثر پڑا جس سے ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ آ گیا. اچانک اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا.

میرے خیال میں اقتصادی حالت بگڑنے کے علاوہ باقی تمام شعبوں میں بہتر اور مثبت اثرات مرتب ہوئے. جنگ کی وجہ سے جموں وکشمیر کے حقائق دنیا کے سامنے آئے اور دنیا کو مسئلہ کشمیر سمجھنے اور سمجھانے میں مدد ملی. دنیا بھر کے ممالک نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا. مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا اور اقوام عالم نے تسلیم کیا کہ جموں وکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا فیصلہ اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کی روشنی میں حل طلب ہے. حالانکہ اس سے پہلے مسئلہ کشمیر منجمد ہو چکا تھا اور اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں داخل دفتر ہو چکا تھا.

جنگ کی وجہ سے پاکستانی قوم میں جذبہ اتفاق و اتحاد پیدا ہوا. سیاسی جماعتوں کا اتحاد اور جنگ میں کردار قابل دید تھا. کونسل مسلم لیگ، جماعت اسلامی، نظام اسلامی پارٹی، عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی نے تمام سیاسی اختلافات بھلا کر پاکستان کے دفاع میں آگئیں حالانکہ سیاسی نظریات میں ایک دوسرے کے مخالف تھیں. پوری قوم نے سیاسی، مذہبی اور حکومتی اختلافات بھلا کر یک جان اور یک قوم ہونے کا ثبوت دیا حالانکہ اس سے پہلے خاص طور پر صدر مملکت ایوب خان کے "ایبڈو” قانون کی وجہ سے پاکستانی سیاست انتشار کا شکار تھی. ہر مکتبہ فکر اور ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے اپنے تئیں بخوبی اپنا اپنا کردار ادا کیا.

علمائے کرام نے بھی اپنا کردار بخوبی نبھاتے ہوئے عوام میں جذبہ حب الوطنی اور جذبہ جہاد پیدا کیا. لوگوں کو فوج اور پولیس کی مدد کرنے کے لئے تیار کیا. لوگوں نے اپنے گھروں، ہوٹلوں اور دوکانوں سے کھانے بنوا کر اور کھانے پینے کی اشیاء خرید کر میدان جنگ میں جوانوں تک پہنچائیں. سرکاری اور غیرسرکاری ملازمین نے اپنی تنخواہوں میں کٹوتی کرواتے ہوئے قومی خزانے میں رقوم جمع کروائیں. ادیبوں، شاعروں اور گلوکاروں نے اپنے فن اور طریقے سے جوانوں کی ڈھارس بندھوائی اور انکی خدمات اور بہادری و شجاعت کی تحسین کی.

اچھے نتائج اور اثرات مرتب ہونے کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ مشکل کی گھڑی میں دوستوں کی پہنچان ہو گئی. برادر اسلامی اور دوست ممالک نے دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان کی ہر طرح سے مدد کی. 8 ستمبر کو سری لنکا اور ایران نے پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے تعاون کی پیش کش کی. چین نے پاکستان کے لئے بھارت کو دھمکی دی. 9 ستمبر کو انڈونیشیا نے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی پرزور پیشکش کی اور انڈونیشیا کی عوام نے بھارتی سفارت خانے کو آگ لگا دی. ترکی نے اسلحہ کی فراہمی میں مدد کی. الجزائر، سعودی عرب، اردن سمیت بہت سارے اسلامی ممالک نے جنگ کے دوران مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے.

جنگ کے مثبت اثرات کے بعد بہترین نتائج بھی برآمد ہوئے، الحمدللہ، الحمدللہ رب العالمین.

جنگی اعدادوشمار کے مطابق 6 ستمبر 1965 سے لیکر 23 ستمبر 1965 تک، 17 روزہ جنگ میں بھارت کو بھاری نقصان ہوا. پاکستان نے دشمن کے 1617 مربع میل علاقے پر قبضہ کیا اور اس کے برعکس پاکستان کو 446 مربع میل سے ہاتھ دھونا پڑا. پاکستان نے جن بھارتی علاقوں پر قبضہ کیا ان کی تفصیل یہ ہے.

اکھنور سیکٹر میں 430 مربع میل،

لاہور سیکٹر میں 1 مربع میل، 

کھیم کرن علاقہ میں 36 مربع میل،

سلیمانکی فاضل کا 40 مربع میل،

راجھستان میرپورخاص 1200 مربع میل.

بھارت نے کارگل، ٹیٹوال، پونچھ، لاہور سیالکوٹ، میرپور راجھستان میں پیش قدمی کی اور مجموعی طور پر 446 مربع میل پر قبضہ کیا.

بھارت کے 8200 کے قریب فوجی ہلاک ہوئے جبکہ پاک فوج کے 830 جوانوں نے جام شہادت نوش فرمایا. فضائی جنگ یک طرفہ ثابت ہوئی. پاکستانی شاہینوں نے بھارت کے 113 یا 115 طیاروں کو مار گرایا یا تباہ کیا. دوسری طرف پاکستان کو محض 14 طیاروں کا نقصان اٹھانا پڑا.

2 فروری 1966 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی قیدیوں اور زخمیوں کا تبادلہ ہوا. حسینی والا ہیڈ روکس کے مقام پر دونوں ممالک نے فوجی دستوں کا تبادلہ کیا. بھارت نے پاکستان کے کل 694 افراد کو پاکستان کے حوالے کیا جن میں 155 افسر، 14 جونیئر آفیسر کمیشنڈ اور 525 جوان شامل تھے. پاکستان نے بھارت کے کل 683 قیدیوں کو بھارت کے حوالے کیا جن میں 122 افسر، 541 جوان اور 20 جونئیر کمیشنڈ آفیسر شامل تھے. پاکستان نے 12 زخمی اور بیمار لوگوں کو بھی بھارت کے حوالے کیا جب کہ پاکستان نے 19 زخمی پاکستانی وصول کئے.

1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ہمیں احساس ہوا کہ اسلحے میں خود کفیل ہونا ناگزیر ہو چکا ہے کیوں کہ جب تک اہم اسلحے اور دفاع میں خودکفیل نہیں ہو جاتے اس وقت تک بھارت سے ہمیں مسلسل خطرہ لاحق رہے گا. پاکستان سیٹو اور سنٹو کا رکن تھا مگر اس کے باوجود رکن ممالک نے پاکستان کی کسی قسم کی مدد نہ کی. آج الحمدالله پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور دفاع میں بھی جدت کے ساتھ خودکفیل ہے. میرے خیال میں اس دفاع اور اسلحے کی پیداوار میں خودکفالت 1965 جنگ کی وجہ سے ہے.

‎@mian_ihsaan

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!