fbpx

بریکنگ۔ پاکستان کا امن کی جانب اور ایک قدم، بھارت سے تجارت کی بحالی

بریکنگ۔ پاکستان کا امن کی جانب اور ایک قدم، بھارت سے تجارت کی بحالی

باغی ٹی وی رپورٹ : پاکستان اور بھارت کے درمیان برف پگھلنے کے بعد تعلقات معمول پرآنا شروع ہوچکے ہیں اس حوالے سے حکومت پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارت کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے .بھارت کے ساتھ تجارت کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے وزارت تجارت نے بھارت سے چینی،کپاس اور یارن درآمد کرنے کی سمری تیار ہے . وزارت تجارت 2 الگ سمریاں منظوری کیلئے کل ای سی سی میں پیش کرے گی. وزیر اعظم نے وزارت تجارت کو سمریاں ای سی سی میں پیش کرنے کی اجازت دیدی ہے . وزارت تجارت نے وزیراعظم کی اجازت کے بعد سمریاں ای سی سی کو بھجوائی ہیں.

اس سلسلے میں‌ بھارت سے 30 جون2021 تک کپاس اور یارن درآمد کرنے کی تجویز ہے . بھارت سے لینڈ روٹ کے ذریعے کپاس اور یارن درآمد کرنے کی تجویز دی گئی .حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کمی پوری کرنے کیلئے کپاس درآمد کرنا پڑتی ہے . بھارت سے کپاس اور یارن کی درآمد سستی پڑے گی. کپاس کی پیداوار میں تاریخی کمی کے باعث یارن پر بھی دباؤ پڑا ہے . پاکستان میں کپاس کی سالانہ کھپت ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ گانٹھیں ہیں پاکستان،امریکہ،بھارت،افغانستان سمیت دیگر ممالک سے کپاس درآمد کرتا ہے .

دوسری طرف باغی ٹی وی امید کرتا ہے کہ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز بھی شروع ہو جائے . اسی طرح انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بھی ایک دوسرے کے ساتھ پہلے کی طرح مل کر کام شروع کر دے گی .اس کے ساتھ ساتھ دیگر باہمی امور پر روابط بھی بحال ہو جائیں


خیال رہے کہ پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو معطل کردیا تھا. جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا تھا.اس کے بعد پاکستان اور بھارت کے حالات نہایت کشیدگی کیطرف جا چکے تھے ، میڈیا پر آئے روز یہ خبریں تھیں کہ اب جنگ ہوتی ہے . کیونکہ لائن آف کنٹرول پر بہت زیادہ کشیدگی رہی لیکن اب یہ کشیدگی معمول کی جانب گامزن ہے .

سعودی عرب یو اے ای کی کوششوں سے ایسا ہوا یو اے ای نے اہم کردار ادا کیا

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیان بہت اہم ہے جب انہوں نے کہ اب آگے بڑھنا ہو گا ایل او سی پر سیز فائر ہونا چاہیے ، ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھیں ، امن بحال ہونا چاہیے . ہمیں‌مسئلے حل کرنا چاہیے آرمی چیف کے بیان کے بعد کے بعد وزیر خارجہ نے یواے سی کے وزیر خارجہ سے رابطہ کیا جبکہ اس کے اگلے روز ہی سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا ۔

باغی ٹی وی یہ خبر بھی شائع کر چکا ہے کہ یو اے ای کے حکام نے پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ضمن میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ سیز فائر کے بعد تجارت کی بحالی ہو گی اور پاکستان نے اب اہم قدم اٹھایا ہے۔ مودی کے خط کے بعد پاکستانی وزیراعظم کے جواب دینے کے روز ہی یہ سمری سامنے آئی جس میں بھارت کے ساتھ تجارت کی بحالی کی بات کی گئی ہے

پاکستان نے دو برس قبل پلوامہ حملے اور بعد ازاں بالا کوٹ پر بھارت کے فرضی حملے کے بعد بھارت کے طیارے گرائے اور بھارتی پائلٹ کو گرفتار کیا جس کو امن کے لیے پاکستان نے بھارت واپس روانہ کیا بعد ازاں اگست 2019 میں بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کر دیئے تھے ۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو لے کر پاکستان نے عالمی دنیا کے سامنے کشمیریوں کی آواز بلند کی تا ہم اب حالات میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے ۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور عالمی دنیا کی بھی یہی خواہش ہے کہ اس خطے میں امن آئے ۔امن آئے تو تو دونوں ملک غربت اور بے روزگاری سے نکلنے میں کامیاب ہوں گئی

اس حوالے سے اہم بات یہ بھی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو جوابی خط لکھ دیا وزیراعظم عمران خان نے یوم پاکستان پر مبارکباد پر نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا، خط میں مزید کہا کہ حکومت اور عوام بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے پرامن اور دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں.جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کیلئے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کا حل ہونا ضروری ہے، تعمیری اور نتیجہ خیزا مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیداکرنا ضروری ہے،

وزیرا عظم کا کہنا تھا کہ تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے سازگار ماحول ضروری ہے،جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کیلئے مقبوضہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کا حل ہونا ضروری ہے،کورونا کیخلاف بھارتی عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں،

واضح رہے کہ 23 مارچ کو انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کو یومِ پاکستان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک پڑوسی ملک کے طور پر انڈیا پاکستان کے عوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے۔جس کے جواب رد عمل میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رد عمل دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی یہی خواہش رہی ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن قائم ہو اور تمام پڑوسی ممالک کے باہمی تعلقات مضبوط ہوں

بھارتی وزیراعظم مودی کے عمران خان کو خط لکھے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر عمران خان کو مودی کا یار کہا جا رہا ہے تاہم حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کو خطے میں امن کے لئے کردار ادا کرنا ہے۔افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار دنیا تسلیم کر چکی ہے ایسے میں پاک بھارت تجارت کی بحالی خوش آئند امر ہے ۔پاکستان نے کرتارپور راہداری کھول کر بھی خطے میں امن کا پیغام دیا تھا جس کو عالمی دنیا نے سراہا تھا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.