fbpx

پاکستان ریڈ لیسٹ سے باہرہوگیا مگربرطانیہ کی پابندیوں سے نہ بچ سکا

لاہور:پاکستان ریڈ لیسٹ سے باہرہوگیا مگرانگریزوں کی پابندیوں سے نہ بچ سکا ،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان سے برطانیہ جانے والوں کوسخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، یہ مشکلات بعض اس قدربڑھ جاتی ہیں کہ جانے والے مصیبت میں پڑجاتے ہیں

اس حوالے سے کچھ ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ برطانوی حکومت نے کچھ زیادہ ہی پاکستان کے بارے میں پالیسی سخت کردی ہے ، حتی کہ پاکستانیوں کو طون عزیز سے جو کورونا ویکسین لگائی گئیں وہ برطانیہ میں قبول نہیں کی جارہیں

ادھر اس حوالے سے کہا جارہا ہےکہ پاکستان سے برطانیہ جانے والوں پہلے قرنطینہ کےمرحلے گزرنا پڑے گا

اس حوالے سے یہ بھی کہا جارہاہےکہ سب سے زیادہ وہ پریشان ہورہےہیں جن کی وہاں جابز ہیں اورجن کوبرطانیہ پہنچتےہی اپنے کام کاج میں لگ جانا ہےلیکن جب اس کےلیے یہ پروسیجرلازمی قراردیاجائے گا تووہ تو بیچارہ انتہائی تنگ ہوگا

برطانیہ میں اس حوالے سے کچھ پابندیاں 22 ستمبر سے لاگو کی گئیں جبکہ اس کے بعد 4 اکتوبر سے کچھ مزید چیزیں لازم قرار دی جائیں گی

اس تاریخ کے بعد تمام ممالک کو ریڈ، ایمبر اور گرین لسٹ میں تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ایمبر اور گرین لسٹ کی جگہ ممالک کو ایک نئی فہرست Rest of World ( ROW) میں شامل کیا جائے گا۔

اس لسٹ میں شامل ممالک سے آنے والے افراد کو اگر ویکسین کی دونوں خوراکیں لگ چکی ہوں گی تو انھیں انگلینڈ روانگی سے قبل تین دن کے اندر اندر پی سی آر ٹیسٹ نہیں کروانا ہوگا۔

لیکن ان مسافروں کو اپنی آمد کے دو دن بعد یعنی ’ڈے ٹو‘ ٹیسٹ کروانا ہوگا لیکن 4 اکتوبر سے نئے قوانین کے اطلاق کی صورت میں پی سی آر کی جگہ کم قیمت والا ’لیٹرل فلو ٹیسٹ‘ کروانا ہوگا۔اس میں شامل مملک سے آنے والے افرد کو 11 راتیں ہوٹل میں قرنطینہ کرنا ہوگا اور اکیلے سفر کرنے والے مسافروں کو اس کے لیے دو ہزار دو سو پچاسی پاؤنڈ ادا کرنے ہوں گے۔

اس Tier 2 سسٹم کے لاگو ہونے سے پہلے جن آٹھ ممالک کو 22 ستمبر سے ریڈ لسٹ سے ہٹایا گیا ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ان ممالک میں ترکی، مالدیپ، مصر، سری لنکا، عمان، بنگلہ دیش، اور کینیا بھی شامل ہیں۔

ادھر برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ریڈ لسٹ میں شامل ممالک سے برطانیہ آنے والے کسی ایک فرد کے لیے قرطینہ ہوٹل کے کمرے کی فیس 2285 پاؤنڈ ہے جس میں ٹرانسپورٹ، کھانے اور ٹیسٹوں کی لاگت بھی شامل ہے۔ ایک اضافی بالغ یا 11 سال سے زیادہ عمر کے بچے کے لیے یہ فیس 1430 پاؤنڈ تھی ور پانچ سے 11 سال تک کے بچے کے لیے 325 پاؤنڈ ادا کرنا لازم تھے۔

اور اگر آپ انگلینڈ روانگی سے قبل قرنطینہ پیکیج کا انتظام نہیں کرتے تو آپ کو اوپر دی گئی رقم کے علاوہ 4 ہزار پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔قرنطینہ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی صورت میں مسافر کو دس ہزار پاؤنڈ تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!