fbpx

پاکستان ہیومن رائٹس کا سندھ میں نسلی اورسیاسی تناؤ میں اضافے پر تشویش کا اظہار

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سندھ میں نسلی اور سیاسی تناؤ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

باغی ٹی وی : ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنے ایک بیان میں حیدرآباد میں بلال کا کا کے قتل کے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نسل پرستانہ بیانیہ مسترد کرنا انتظامیہ اور تمام ترقی پسند آوازوں کی ذمہ داری ہے۔

یاد رہے کہ حیدر آباد بائی پاس کے قریب 12 جولائی کو رات گئے ہوٹل میں مبینہ طور پر بل کی ادائیگی پر عملے اور نوجوان بلال کاکا کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد فائرنگ سے بلال جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوئے تھے بعدازاں شہری بلال کاکا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کردی گئی تھی-

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بلال کاکا کے جسم پرگولی کے نشانات نہیں ملے جبکہ سر پر زیادہ چوٹیں آنے اور پھیپھڑے پھٹنے سے بلال کی موت ہوئی بلال کاکا کے کندھوں،کمر سمیت جسم پر تشدد کے نشانات تھے بلال کو 12 جولائی کی صبح 4 بج کر 25 منٹ پر مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔

علاہ ازیں بلال کاکا کے قتل کے واقعےمیں غفلت برتنے پر 5 پولیس اہلکارو ں کو معطل کردیا گیا تھا ایس ایس پی حیدرآباد کا کہنا تھا کہ ہوٹل مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ واردات کے وقت موقع پر موجود پولیس موبائل میں موجود اہلکاروں نے کارروائی کیوں نہیں کی اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی۔

بعد ازاں مقتول کے ورثا نےقاسم آباد اور مٹیاری ہالہ بائی پاس پر میت کے ہمراہ احتجاج کیا ایس ایس پی امجد شیخ کا کہنا تھا کہ 5 نامزد ملزمان سمیت 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ قتل کے محرکات اور واردات کے موقع پر پولیس موبائل کی کارروائی نہ کرنے تحقیقات کی جائے گی ۔

علاوہ ازیں کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں احتجاج کے دوران بس ٹرمنل پر حملہ آور ملزمان نے ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس افسر سے سرکاری اسلحہ، گولیاں اور موبائل فون چھین لیا۔