fbpx

پاکستان، ایران، چین اور روس طالبان سے معاہدے پر کام کر رہے ہیں امریکی صدر

امریکا کے صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ پاکستان، ایران، چین اور روس متنازع معاملات پر افغان طالبان سے بات اور معاہدے کے لیے کام کر رہے ہیں یہ بات واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا کے صدر جو بائیڈن نے کہی ہے۔

باغی ٹی وی : امریکا کے صدر نے کہا ہے کہ طالبان کے کنٹرول کے بعد چین ان کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کرے گا پاکستان، ایران، چین اور روس اب بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ طالبان کیا کر رہے ہیں جو بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس حوالے سے فکر مند ہیں کہ چین اس گروپ کو فنڈز دے گا، جس پر امریکہ نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں-

طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان پر امریکا کا تشویش کا اظہار

جس پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چین کے طالبان کے ساتھ حقیقی مسائل ہیں، لہذا وہ ان کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کریں گے جیسا کہ پاکستان، روس اور ایران کرتے ہیں وہ سب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اب کیا کریں۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا ہے، فی الحال طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کینیڈین وزیر اعظم پر انتخابی مہم کے دوران پتھراؤ

امریکہ اور اس کے سات اتحادیوں پر مشتمل گروپ نے طالبان کو تسلیم نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ واشنگٹن نے طالبان کے افغانستان کے مالی ذخائر تک رسائی کو روک دیا ہےلیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین، روس یا دیگر ممالک طالبان کو فنڈز فراہم کرتے ہیں تو امریکہ کا یہ معاشی اقدام بے معنی ہو جائے گا۔

اس سے قبل اس سے پہلے ترجمان محکمہ خارجہ نے طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ طالبان کو ان کی باتوں سے نہیں، ان کے اقدامات سے پرکھیں گے۔

گزشتہ روز افغانستان میں قائم ہونے والی حکومت کے سربراہ ملا محمد حسن اخوند طالبان کی رہبری شوریٰ کے سربراہ ہیں۔