fbpx

پاکستان کی تاریں سب میرین کیبل کے ذریعے فرانس سے جُڑگئیں

لاہور:پاکستان اینڈ ایسٹ افریقہ کنیکٹنگ یورپ (پی ای اے سی ای) کیبل انٹرنیشنل نیٹ ورک کمپنی لمیٹڈ نے کراچی سے مارسیلیا، فرانس تک کنیکٹیویٹی کی فراہمی کے لئے سب میرین کیبل انفراسٹرکچر کی تعمیر مکمل کر لی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کیبل کا پاکستان مصر سیگمنٹ کراچی اور ظفرانہ (مصر) کو ملاتا ہے جس کی کل لمبائی 5,800 کلومیٹر ہے۔ پاکستان سے فرانس تک کنیکٹیویٹی مکمل ہونے کے بعد سروس کے لیے تیار ہے۔

بیان کے مطابق اس حوالے سے پیس کیبل کی انتظامیہ پر مشتمل سینئر عہدیداروں نے پی ٹی اے ہیڈ کوارٹرز میں چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل(ریٹائرڈ) عامر عظیم باجوہ سے آن لائن اور بالمشافہ ملاقات کے دوران آگاہ کیا۔ وفد میں پیس مینجمنٹ کے سی او او سن ژاؤہوا، پیس مینجمنٹ ڈائریکٹر ژانگ ڈونگہائی، کمرشل ڈائریکٹر کرس ژانگ، (آن لائن) اور پیس کیبل، کنٹری منیجر پاکستان، شعیب اشفاق قریشی، (بالمشافہ) شامل تھے۔

وفد کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کے لئے بھرپور دلچسپی ظاہر کی گئی اور پاکستان کو ڈیجیٹل طور پر منسلک کرنے کے عمل میں مزید تیزی لانے کے لیے اختراعی ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی سلوشنز کی ترقی کے حوالے سے بھی مستقبل کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

پیس کیبل ابتدائی طور پر پاکستان سے فرانس تک 15,000 کلومیٹر پر طویل زیر سمندر کیبل ہے، جو پاکستان سے سنگاپور تک 6,500 کلومیٹر تک کا اضافی پھیلاؤ رکھتی ہے، جس کا مین ٹرنک سنگاپور، پاکستان، کینیا، مصر اور فرانس میں ہے اور اس کی شاخیں مالدیپ، مالٹا، قبرص وغیرہ سے جڑی ہوئی ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق یہ سب میرین کیبل پاکستان کے بین الاقوامی روابط میں انتہائی تیزتر، اعلیٰ صلاحیت، کم تاخیر اور ریڈنڈینٹ کنیکٹویٹی میں اضافے کا باعث ہو گی۔