fbpx

پاکستان کے ہمسایہ ممالک تحریر:فرقان اسلم

وطنِ عزیز پاکستان 14 اگست 1947ء کو معرضِ وجود میں آیا۔ پاکستان بننے کے لیے مسلمانانِ ہند نے ایک طویل جدوجہدکی اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔ اور طرح طرح کے ظلم و ستم سہے۔ پھر کہیں جاکر اللّٰہ پاک نے اس عظیم نعمت سے نوازا۔ پاکستان ایک نور ہے اور نور کو زوال نہیں آتا۔

بظاہر تو تقسیم کے وقت وطنِ عزیز کے مسلمانوں کے ہاتھ کچھ خاص زر و دولت نہ آیا۔ بلکہ یہاں آکر بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اللّٰہ پاک کے خاص کرم اور فضل کی بدولت کئی مسائل اور جنگوں کے باوجود پاکستان قائم ہے اور انشاءاللہ تاقیامت قائم رہے گا۔ 40 سال کے قریب ملک پر فوج نے حکمرانی کی اور 34 سال یہ ملک جمہوری حکمرانوں کے زیرِ تسلط رہا۔

اب ہم پاکستان کے محل وقوع پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان براعظم ایشیا میں ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک لوکیشن پر واقع ہے۔ جس پر ہر ملک کی نظر ہے۔ پاکستان دنیا میں دفاعی اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اب پاکستان کے ہمسایہ ممالک کی بات کرتے ہیں۔

(1) پاکستان کے ایک طرف ہندوستان ہمارا ایک بڑا ہمسایہ ملک واقع ہے۔ جو رقبے میں پاکستان سے سات گنا بڑا ہے اور آبادی میں بھی پاکستان سے بہت بڑا ہے۔ جس کے ساتھ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک امن قائم نہیں ہوسکا۔ کیونکہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اور کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اس لیے جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔ اس لیے اس مسئلے کا جلد سے جلد حل ضروری ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس کی وجہ سے کئی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ اس مسئلے کا سب سے آسان اور پرامن حل ریفرنڈم ہے کہ کشمیر کے عوام کیا چاہتے ہیں۔ لیکن ہندوستان یہ کرنے پر راضی نہیں کیونکہ کشمیری عوام پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں۔ 

(2) پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا ہمسایہ افغانستان ہے دونوں ملکوں کی سر حد تقریباً 2500 کلومیٹر طویل ہے۔ جیسا کہ افغانستان کی تاریخ کا سب کو علم ہے کہ یہ ملک تقریباً پچھلے 45 سال سے حالت جنگ میں ہے اور پاکستان نے اتنے سالوں سے افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور 50 لاکھ افغان مہاجرین کو گھر کا فرد بنا کے رکھا ہے لیکن افغان جنگ صرف ان تک محدود نہ رہی بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ بالخصوص خیبر پختونخواہ اور پورے پاکستان کو متاثر کیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں کیونکہ دونوں اسلامی ملک ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو لیکن شرپسند عناصر نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ اب افغانستان کے حالات پہلے کی نسبت بہت حد تک ٹھیک ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی توقع کی جارہی ہے۔ 

(3) تیسری جانب ایران ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ جو گزشتہ کئی دہائیوں سے تقریباً پوری دنیا کی طرف سے پابندیوں کا شکار ہے۔ حالانکہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن عالمی پالیسیوں کی وجہ سے ہم ایران کے ساتھ زیادہ اچھے تجارتی تعلقات استوار نہیں کر سکتے اور ہماری خوشحالی میں بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ حالانکہ اگر ہمارے اچھے تعلقات قائم ہوں تو دونوں ممالک کو بہت فائدہ ہوگا۔ پچھلے چند سالوں ایران اور ایران کے تعلقات میں کافی بہتری آرہی ہے۔

(4) چوتھا ہمسایہ ملک چین ہے جو پاکستان کا بہترین دوست ہے۔ اور ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کی مدد بھی کرتا ہے۔ بلکہ ایک محاورہ بھی بنا ہوا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔ پاکستان اور چین کے ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور دونوں ملکوں کے مفادات کیلئے بہت اہم اور ضروری ہے اور پاکستان کیلئے امید کی کرن اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اس کوریڈور کی تکمیل کے بعد پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو گا۔ انشاءاللہ 

اگر آپ کا ہمسایہ اچھا ہو تو یہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ ان کے ہر طرح کا لین دین اور تعلقات ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ممالک کے بھی تعلقات ہوتے ہیں۔ اصل میں خارجہ پالیسی اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کسی ملک کی سفارت کاری بہترین ہوگی تو اس ملک کے تعلقات بھی بہترین ہوں گے۔جب بھی پاکستان کے کسی ملک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ 

اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰہ پاک وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور اسے اسلام اور امن کا گہوارہ بنائے۔ ہمیں بھی اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے دن رات کوشش کرنی چاہیئے اور اللّٰہ سے امید رکھنے چاہیئے۔ اللّٰہ تعالیٰ ملک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ 

سدا رہنا پاکستان زندہ باد۔۔!!

@RanaFurqan313