fbpx

پاکستان کے کھوٹے سکے

پاکستان کے کھوٹے سکے
دوسری قسط
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

1970کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری، اس نے قومی اسمبلی کی کل 300 نشستوں میں سے 160 نشستیں جیتیں تاہم مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی کارکردگی کچھ بھی نہ رہی۔ اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں 81 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی اور اس نے مغربی پاکستان کے صوبوں سندھ اور پنجاب میں بھی بڑے بڑے سیاسی امیدواروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ 1970 کے انتخابات میں مذہبی رجحان رکھنے والی جماعتوں کو ناکامی کاسامناکرناپڑا،اس دوران اقتدارکی رسہ کشی اورسازشیں جاری
رہیں، انتخابات کے بعد سیاسی حالات ناقابل کنٹرول ہو گئے،ذوالفقارعلی بھٹونے اُدھرتم اِدھرہم کانعرہ لگایااور 16 دسمبر کو سقوطِ ڈھاکا کے بعد بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آ گیا۔20 دسمبر کو یحیی خان کی معزولی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صدر اور سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ یحیی سمیت کئی سینیئر جنرلز کو برطرف کردیا۔جنرل گل حسن کوچیف آف آرمی سٹاف بنادیا. شیخ مجیب کو خصوصی فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائے موت منسوخ کردی اور قوم سے نشریاتی خطاب میں وعدہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے ذمہ داروں کے تعین کے لئے ایک آزادانہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔مشرقی پاکستان میں شکست پاکستانی فوج کو بیک فٹ پر لے آئی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔کچھ ہی دنوں کے بعد جنرل گل حسن بھی ان کے دل سے اتر گئے اور انھیں ایک ایسے چیف کی ضرورت پڑ گئی جو آنکھیں بند کر ان کے ہر حکم کو بجا لائے۔بھٹو نے گل حسن کو برخاست کرنے کا حکم اپنے سٹینوگرافر کے بجائے اپنے ایک سینیئر ساتھی سے ٹائپ کروایا۔ جنرل گل حسن کی برخاستگی کے حکم کے بعد انھوں نے اپنے قابل اعتماد ساتھی ملک غلام مصطفی کھر سے جنرل گل حسن کے ساتھ لاہور جانے کو کہا تاکہ گل حسن سے اس وقت تک کوئی رابطہ نہ ہو جب تک کہ ان کے جانشین کی تقرری کا حکم جاری نہ ہو جائے۔اس فیصلے کی مخالفت کرنے والے ممکنہ عہدیداروں کو ایک فرضی اجلاس کے لیے طلب کیا گیا اور انھیں اس وقت تک وہاں رکھا گیا جب تک کہ گل حسن کا استعفی نہیں لے لیا گیا۔ ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنوں پر پولیس تعینات کر دی گئی،گل حسن کے بعد بھٹو نے اپنے قابل اعتماد جنرل ٹکہ خان کو پاکستانی فوج کا سربراہ مقرر کیا۔کچھ ہی مہینوں میں بھٹو کا تکبر اتنا بڑھ گیا کہ انھوں نے پارٹی کے سینیئر ساتھیوں کی بھی توہین شروع کر دی۔جب ٹکاخان کی مدت ملازمت ختم ہوئی تو انھوں نے بھٹو کو اپنے جانشین کے لیے ممکنہ سات لوگوں کی فہرست بھجوائی۔اس میں انھوں نے دانستہ طور پر جنرل ضیا الحق کا نام نہیں رکھا کیونکہ انھیں حال ہی میں لیفٹیننٹ جنرل کے طور پر ترقی دی گئی تھی۔ لیکن بھٹو نے انہی کے نام پر مہر ثبت کی۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ضیا ء نے بھٹو کی چاپلوسی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔1977 میں پاکستان قومی اتحاد نے انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف احتجاج کا ایک ملک گیر سلسلہ شروع ہو گیا۔ یوں اس ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان میں کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے، جو کسی کامیابی تک نہ پہنچ سکے۔جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور نوے دن کے اندر عام انتخابات کا وعدہ کیا۔ بعد میں انتخابات کا وعدہ پورا نہ ہو سکا اور جنرل ضیاء کا اقتدار گیارہ برس سے زائد عرصے تک قائم رہا۔ اس دوران چار اپریل 1979 میں قتل کے ایک مقدمے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ ایک ریفرنڈم کے ذریعے جنرل ضیا ء پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے۔1985 میں ضیا الحق نے سیاسی پارٹیوں کے بغیر پارلیمانی الیکشن کا انعقاد کرایا۔ جنرل ضیا الحق کا اقتدار اگست 1988 میں ایک ہوائی جہاز کے حادثے پر ختم ہوا۔ فوجی صدر اس حادثے میںجاں بحق ہو گیا تھا۔ افغان جنگ،افغان مہاجرین، ہیروئن اورکلاشنکوف کلچرجنرل ضیاء الحق کے دئے ہوئے تحفے ہیں جو آج تک پاکستان کی گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔ 1988میں ضیاء الحق کی وفات کے بعد سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ 16 نومبر1988 میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے2دسمبر1988 میں 35 سال کی عمر میں پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست 1990 میں 20ماہ کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹوکی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر، 1990 کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر بھٹو حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس نے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993 میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر1993 میں عام انتخابات ہوئے۔ جسمیں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اوربے نظیر بھٹو ایک مرتبہ پھروزیراعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر سردارفاروق احمد خان لغاری نے 1996 میں بد امنی اور بد عنوانی، کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بے نظیربھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ بے نظیربھٹونے اپنے پہلے دور میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکا کے کہنے پر رول بیک کرنے کے لیے تیار ہوگئیں تھیں لیکن آرمی کے دبا ئو کی وجہ سے ایسانہ کر سکیں ،اس بات کوبے نظیر بھٹو کی پاکستان دشمنی تصور کیا گیا۔ان کے خاوند آصف علی زرداری پر مالی بدعنوانی کے بیشتر الزامات لگے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس سلسلہ میں مقدمات قائم ہوئے۔اکتوبر 2007 میں بینظیر بھٹو امریکی امداد سے پرویزمشرف کی حکومت سے سازباز کے نتیجے میں اپنے خلاف مالی بدعنوانی کے تمام مقدمات ختم کروانے میں کامیاب ہو گئی۔قومی مفاہمت فرمان کے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران قومی احتساب دفتر نے عدالت کو بتایا گیا کہ آصف علی زرداری نے بینظیر کی حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے ناجائز اثاثے بنائے۔بے نظیر بھٹو نے لال مسجد آپریشن کی کھل کر حمایت کی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ امریکی افواج کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت دے دیں گی۔ جس کے بعد وہ پاکستان کے وجود کے لیے ایک خطرہ بن گئیں۔ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ ملک کے عظیم ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیرخان کو پوچھ گچھ کے لیے امریکا کے حوالے کر دیں گی۔محترمہ کے ان بیانات نے پاکستانی قوم میں بڑا اضطراب پیدا کر دیا۔ قوم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ کرسی کے حصول کے لیے امریکا اور مغرب کو خوش کرنے کی خاطر محترمہ کس حد تک گر سکتی ہیں۔پانچ نومبر 1996 کو دوسری بے نظیر بھٹوحکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضی بھٹو قتل کیس میں آیااور اس نے ہی ان کو قتل کیا۔ نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے، سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد، ہیلی کاپٹروں کی خریداری، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے، برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈسکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے۔ اس طرح کی فہرستیں بھی جاری ہوئیں کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے۔ برطانیہ میں نو، امریکا میں نو، بلجئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی۔ جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لیے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں۔ اس دوران آصف زرداری نے تقریبا دس سال قید میں کاٹے اور 2004 میں سارے مقدمات میں بری ہونے کے بعد ان کو رہا کر دیا گیا-جبکہ یہ سب الزامات برحق تھے۔۔ رشوت خوری کی شہرت کی وجہ سے مسٹرٹین پرسینٹ مشہورہوئے۔ نواز شریف نے ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے دو بار اقتدار کے دوران $ 418 ملین کا مالی فائدہ اٹھایا۔، امریکی مصنف رے مونڈ ڈبلیو بیکر کی کتاب کیپیٹلزم اچیلیس ہیل میں انکشاف سامنے آگیا،یہ کتاب نواز شریف سمیت تاریخ کے سب سے زیادہ تسلط رکھنے والے سیاسی خاندانوں کی بدعنوانی اور ان کی جائیدادیں ، اور بے تحاشا دولت جمع کرنے کے بارے میں ہے۔اس کتاب کے مطابق 1990 میں وزیر اعظم کی حیثیت سے وزیر اعظم کے پہلے دور میں کم از کم 160 ملین ڈالر کا غبن کیا ، یہ کرپشن اپنے آبائی شہر لاہور سے اسلام آباد تک شاہراہ تعمیر کرنے کے معاہدے کے دوران کی گئی۔کم از کم140 ملین ڈالر کا پاکستان اسٹیٹ بینکس سے غیر محفوظ قرضوں سے فائدہ اٹھایا ۔ نواز شریف اور ان کے کاروباری ساتھیوں کے زیر انتظام ملوں کے ذریعہ برآمد کی جانے والی چینی پر سرکاری چھوٹ سے 60 ملین ڈالر سے زیادہ کا مال کمایا۔کم از کم 58 ملین ڈالر امریکا اور کینیڈا سے درآمدی گندم کی ادائیگی کی قیمتوں سے سکیم ہوئی۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گندم کے معاہدے میں ، شریف حکومت نے واشنگٹن میں اپنے ایک قریبی ساتھی کی نجی کمپنی کو قیمت سے کہیں زیادہ
ادائیگی کردی۔ گندم کی غلط انوائسز نے لاکھوں ڈالر نقد رقم بٹوری۔ نواز شریف کے دور میں ، بغیر معاوضہ بینک قرض اور بڑے پیمانے پرٹیکس چوری دولت مند ہونے کے لئے پسندیدہ راستہ بنی رہی۔نواز شریف کی کئی آف شور کمپنیوںسامنے آئیںجن میں برٹش ورجن آئی لینڈز میں نیسکول ، نیلسن ، اور شمروک کینام شامل ہیں، لندن میں پارک لین پر چار عظیم الشان فلیٹ بھی سامنے آئے،1999 میں پرویز مشرف نے تحقیقات کی ، نواز شریف پر مقدمہ چلا ، عمر قید کی سزا سنائی گئی ، لیکن پھر 2000 میں انہیں جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ 2013 کے عام انتخابات میں میاں محمد نواز شریف واضح اکثریت کے ساتھ تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔03 اپریل 2016کو پانامہ لیکس کے اسکینڈل نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے،صحافیوں کی عالمی تنظیم ICIJ نے دنیا بھر کے لاکھوں امیر ترین خاندانوں اور افراد کے پوشیدہ اثاثوں کا انکشاف کیا ۔ان خاندانوں میں پاکستان کا حکمران شریف خاندان بھی شامل ہے جس نے تسلیم کیا کہ لندن کے فلیٹس ان کی ملکیت ہیں،پانامہ لیکس کے معاملہ پر ملک میں 6ماہ سے زیادہ عرصہ بحرانی کیفیت طاری رہی ، اپوزیشن وزیراعظم سے استعفے کامطالبہ کرتی رہی،پانامہ سیکنڈل سپریم کورٹ میں پہنچ گیا جس پربالآخر سپریم کورٹ نے 01نومبر سے روزانہ کی بنیاد پر پانامہ کیس کی سماعت شروع کی اور آخر کار 23فروری 2017کوسپریم کورٹ نے تمام دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔اور پھر 20 اپریل 2017کو اپناتفصیلی فیصلہ سنا یا،اس طرح سپریم کورٹ نے کرپشن ثابت ہونے اوراثاثے چھپانے پروزیراعظم نواز شریف کوتاحیات نااہل قرار دے دیا۔
کارگل وارنے ہی نواز شریف اور جنرل مشرف کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کی۔ اکتوبر 1999 میں نواز شریف کو یہ اطلاعات دی جا رہی تھیں کہ جنرل مشرف ان کا تختہ الٹنے جا رہے ہیں۔ 12اکتوبر 1999کو نواز شریف نے اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو ان عہدے سے برطرف کیا تو فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور نواز شریف کو پابندِ سلاسل کر دیا۔ یہیں سے جنرل مشرف کے نو سالہ دورِ اقتدار کا آغاز ہوتا ہے۔
2001 میں 9/11کے واقعے کے بعد جنرل پرویز مشرف سے امریکہ نے افغانستان پر فوج کشی کے لئے پاکستانی ہوائی اڈوں کا مطالبہ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف امریکی جنگ میں پاکستانی قوم کو جھونک دیا بلکہ پاکستانی ہوائی اڈے بھی امریکی فوج کے حوالے کر دیے۔ کئی سال پاکستان اس جنگ کی آگ میں جلتا رہااوراب تک مشرف کی چھیڑی ہوئی پرائی جنگ سے نبرد آزما ہے اوراس دوران مشرف نے ایک نعرہ لگایا تھاسب سے پہلے پاکستان ۔
جنرل پرویز مشرف اپنی کتابIn The Line of Fire میں وہ یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ 2001میں شروع ہونے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو دہشتگردی کے شبے میں امریکہ کے حوالے کیا۔ یہ انکشافات کتاب کے اردو ترجمے میں موجود نہیں اور جنرل مشرف بھی کہتے ہیں کہ ان لوگوں میں کوئی پاکستانی شہری نہیں تھا لیکن عافیہ صدیقی کا کیس ثابت کرتا ہے کہ ان میں پاکستانی شہریت رکھنے والے افراد بھی شامل تھے(جاری ہے)