کشمیر میں افغانی طالبان آ رہے ہیں ،ہدف دہلی بھی ہو سکتا ہے، بھارت کی چیخ و پکار

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھارت سرکار پاکستان کی جانب سے کشمیر پر کامیاب سفارتکاری کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے، مودی سرکار نے پاکستان پر الزامات عائد کرنا شروع کر دئیے، بھارت سرکار نے الرٹ جاری کر دیا کہ پاکستان افغانوں کو کشمیر میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے وہیں الزام عائد کیا گیا کہ بھارتی ملٹری اکیڈمی پر پاکستان حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آج 18 واں دن ہے مقبوضہ کشمیر میں مکمل کرفیو نافذ ہے ،تمام تعلیمی ادارے بند ہیں، کاروباری مراکز کو تالے لگے ہوئے ہیں، انٹرنیٹ و موبائل سروس بھی بند ہے،کشمیریوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں. کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مودی سرکار نے حریت رہنماؤں سمیت کشمیر کے سیاسی لیڈروں کو بھی گرفتار و نظر بند کر رکھا ہے. اس کے باوجود کشمیری بھارت سرکار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، بارہمولا میں بھارتی فوج نے دو کشمیری شہید کئے، درجنوں‌ کشمیری نوجوانوں کو پیلٹ گنوں سے زخمی کیا گیا، ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، گھروں میں چھاپوں کے دوران کشمیری خواتین کے
ساتھ بھی دست درازی کی گئی.

ان حالات میں پاکستان نے بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، پاکستان کے وزیر خارجہ متحرک ہیں ،انہوں نے چین کا دورہ کیا، مختلف ممالک کے ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا، ایران کی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حق میں قرارداد پیش کی گئی، پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، کور کمانڈر کانفرنس ہوئی اور پاکستان نے کشمیریوں کا آخری حد تک ساتھ دینے کا اعلان کیا.

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کیا، چودہ اگست کو یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا گیا، پندرہ اگست کو پاکستان بھر میں یوم سیاہ منایا گیا، چیئرمین سینیٹ نے مختلف وفود تشکیل دییے ہیں جو مختلف ممالک کا دورہ کرکے کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کریں گے.

حریت رہنماؤں نے کشمیریوں کو ظلم کیخلاف بھرپور احتجاج کی کال دیدی ہے۔ حریت رہنماؤں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عوام کرفیو توڑ کر مزاحمت کرتے ہوئے آئیں اور سرینگر میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر مظاہرہ کریں۔ حریت رہنماؤں کی جانب سے اپیل کی گئی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے خلاف ہر کوئی اپنی آواز بلند کرے کیونکہ ہمیں صرف آزادی چاہیے۔ بچے، بوڑھے، خواتین اور نوجوان اس مارچ میں شرکت کریں تاکہ ان کی آواز دنیا تک پہنچ سکے

بھارت سرکار نے پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے بعد پاکستان پر ماضی کی طرح الزامات عائد کرنا شروع کر دئیے ہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت سرکار نے ایک الرٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 200 کے قریب افغانستان میں لڑنے والے طالبان کو کشمیر بھیج رہا ہے ،بھارت نے یہ الزام عائد کیا کہ افغانی طالبان کو لائن آف کنٹرول کے قریب لانچنگ کے لئے لایا گیا ہے پاکستان ان کو مقبوضہ کشمیر میں لانچ کرے گا جو نہ صرف جموں کشمیر بلکہ دہلی میں بھی بھارت کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں،.

بھارت سرکار نے الرٹ میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ماضی میں بھی عسکریت پسندوں کو بھیجتا رہا اب طالبان کو کشمیر بھیج رہا ہے، الرٹ میں بھارتی فوج کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ،الرٹ میں کہا گیا کہ پاکستان جن افغانی طالبان کو کشمیر بھیج رہا ہے وہ انتہائی تربیت یافتہ ہیں اور کچھ بھی کر سکتے ہیں،

بھارت نے پاکستان کے خلاف مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے راولا کوٹ میں ایک میٹنگ کی اورعسکریت پسندوں کو خصوصی احکامات دئیے، اب کی بار عسکریت پسندوں کا ہدف دہلی سمیت انڈی ملٹری اکیڈمی بھی ہو سکتی ہے.

بھارت سرکار ماضی میں بھی پاکستان پر الزام عائد کرتی رہی ہے، یہ بھارت کا پرانا وطیرہ ہے، دنیا دیکھ رہی ہے کہ کشمیر کی تحریک کشمیریوں کی ہے اور بھارتی مظالم کی وجہ سے برہان وانی پیدا ہو رہے ہیں جو پتھروں کے ساتھ بھارتی بندوقوں کا مقابلہ کر رہے ہیں.

1 تبصرہ
  1. Anwar Ahmad کہتے ہیں

    200 افغانی طالبان کشمیر میں ٧ لاکھ بھارتی فوج کو پچھاڑتے ہوئے دہلی پہچیں گے اور آرمی اکیڈیمی کیےلئے خطرے کا باعث ہیں۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ اس سے بڑا مزاحیہ فقرہ کوئی نہیں ہو سکتا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.