fbpx

پاکستان کے کھوٹے سکے

پاکستان کے کھوٹے سکے

تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
پہلی قسط
حضرت قائداعظم محمدعلی جناح ہماری تاریخ کا وہ سنہرا نام ہے جن کی اعلیٰ جراتمند اور دوراندیش جہاندیدہ قیادت کی بدولت 14اگست 1947ء میں دنیا کے نقشے پر برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن پاکستان نمودارہوا، 1947 میں آزادی ایکٹ کے تحت قائداعظم محمدعلی جناح پاکستان کے پہلے گورنرجنرل بنے اورانہوںنے 1947 ء میں لیاقت علی خان کو پاکستان کا پہلا وزیر اعظم منتخب کیا ۔تحریک پاکستان میں شامل بہت سی عظیم ہستیوں کے آتے ہیں ان میں سے ایک نام بیرسٹر میاں عبدالعزیزکابھی جوقائداعظم کے معتمد ساتھیوں شمارہوتے ہیں،تحریک پاکستان میںبیرسٹر میاں عبدالعزیز کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1936ء میں مسلم لیگ کے اکابرین کا ایک اہم اجلاس لاہور میں میاں صاحب کے گھر پر منعقد ہوا جس میں قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان کے علاوہ بعض دیگر اہم رہنمائوں نے شرکت کی۔ میاں عبدالعزیز نے 1971 ء میں لاہور میں وفات پائی۔2006میں مسلم لیگ کی صدسالہ تقریبات کے موقع پر ادارہ نشریات نے ایک کتاب اردوبازارلاہورشائع کی جس کا عنوان ہے میاں عبدالعزیز مالواڈہ،یہ کتاب بیرسٹر میاں عبدالعزیز کے حالات زندگی کے بارے میں ہے، مذکورہ بالا کتاب کے باب نمبر 37کے مطابق 25اپریل1967
کو میاں عبدالعزیز سے ان کی قیام گاہ پر اس دور کی چند معروف شخصیات نے ملاقات کی،ملاقات کرنے والوں میں پروفیسر حمید احمد خاں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہوربھی شامل تھے انہوں نے استفسار کیاکہ پاکستان بننے کے بعد جب پہلی دفعہ قائداعظم تشریف لائے تو اس وقت کیا ہوا؟ اس پر میاں عبدالعزیز نے جواب دیاکہ پارٹی کے آخر میں سب کو ملنے کیلئے ہر ایک کے پاس تشریف لے گئے جب اس جگہ آئے جہاں میں تھا تو وہاں سر مراتب علی، ملک برکت علی اور ایک اور صاحب بھی تھے، ہم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ہیلو عبدالعزیز How are you قائداعظم نے کہا۔ چونکہ مجھے ان کا بڑا ادب اور لحاظ تھا وہاں تو مجھے ان کا اور بھی زیادہ ادب کرنا تھا کیونکہ انہوں نے ہی پاکستان لیکر دیا تھا۔ میں نے کہا اب اچھا ہوں لیکن عرض کرنا چاہتاہوں۔ میں نے کہا آپ کی زندگی کا بڑا خیال ہے مگر آپ مجھے بہت کمزور نظر آتے ہیں۔ مہربانی کر کے اپنی صحت کا فکر کیا کریں اور جو آدمی اپنی گورنمنٹ میں لیں وہ بڑے بااعتبار، ایماندار اور لائق آدمی ہوں۔انہوں نے فرمایا
"I have to do all work, what am I to do with these spurious coins in my pocket”
مجھے سارا کام کرنا ہے، میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں میں ان سے کیا کروں؟
آئیے ذرادیکھتے ہیں کہ 1947 ء سے لیکر 2022ء تک ان 75سالوں میں ان کھوٹے سکوں نے قائد اوران کے پاکستان اور محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے۔بی بی سی اردو کے مطابق یہ 14 جولائی 1948 کا دن تھا جب اس وقت کے گورنر جنرل محمد علی جناح کو ان کی علالت کے پیش نظر کوئٹہ سے زیارت منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ فقط 60 دن زندہ رہے اور 11ستمبر 1948کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے،یہ پراسرار گتھی آج تک حل نہیں ہوسکی کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو شدید بیماری کے عالم میں کوئٹہ سے زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا تھا۔30 جولائی1948کو جناح کے تمام معالجین زیارت پہنچ گئے، اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر اب تک خاموشی کے پراسرار پردے پڑے ہوئے ہیں اور جو لوگ اس سے واقف بھی ہیں ان کا یہی اصرار ہے کہ اس واقعے کو اب بھی راز ہی رہنے دیا جائے۔یہ واقعہ سب سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب مائی برادر میں قلم بند کیا تھا، محترمہ نے اپنی اس کتاب میں لکھاکہ جولائی کے اواخر میں ایک روز وزیراعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک زیارت پہنچ گئے۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر الہی بخش سے پوچھا کہ جناح کے مرض کے بارے میں ان کی تشخیص کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ انھیں فاطمہ جناح نے بلایا ہے اور وہ اپنے مریض کے بارے میں صرف ان ہی کو کچھ بتا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے اصرار کیا کہ وہ بطور وزیراعظم، گورنر جنرل کی صحت کے بارے میں فکر مندہیں لیکن تب بھی ڈاکٹر الہی بخش کا مئوقف یہی رہا کہ وہ اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ نہیں بتاسکتے۔فاطمہ جناح آگے لکھتی ہیںکہ میں اس وقت بھائی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب مجھے بتایا گیا کہ وزیراعظم اور کابینہ کے سیکریٹری جنرل ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کی اطلاع بھائی کو دی تو وہ مسکرائے اور بولے، فاطی! تم جانتی ہو وہ یہاں کیوں آیا ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میری بیماری کتنی شدید ہے اور یہ کہ میں اب کتنے دن زندہ رہوں گا۔ 17اکتوبر 1979 کو پاکستان ٹائمز لاہور میں شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا دی لاسٹ ڈیز آف دی قائد اعظم۔ اس مضمون میں انھوں نے ممتاز ماہر قانون ایم اے رحمن کے ایک خط کا حوالہ دیا،اس خط میں ایم اے رحمن نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر کرنل الہی بخش کے بیٹے ہمایوں خان نے بھی انھیں اس واقعے کے بارے میں بتایا تھا،جب لیاقت علی خان کمرے سے باہر نکلے تو میرے والد فورا َکمرے میں داخل ہوئے اور قائداعظم کو دوا کھلانا چاہی۔ انھوں نے دیکھا کہ قائد اعظم پر سخت اضطرابی افسردگی طاری ہے اور انھوں نے دوا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ اس کے بعد والد صاحب کی بھرپور کوشش اور اصرار کے باوجود قائد اعظم نے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔قائداعظم کے انتقال کے فوراََ بعد لیاقت علی خان نے میرے والد کو بلوا بھیجا،لیاقت علی خان کافی دیر تک میرے والد کو زیر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب ان کی ملاقات ختم ہوئی اور میرے والد کمرے سے نکلنے لگے تو لیاقت علی خان نے انھیں واپس بلوایا اور انھیں تنبیہ کی اگر انھوں نے کسی اور ذریعے سے اس ملاقات کے بارے میں کچھ سنا تو انھیں، یعنی میرے والد صاحب کوسنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
16 اکتوبر 1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی برادران ملت کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ پھر تحکمانہ لہجے میں پشتو جملہ سنائی دیا ، یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی جس نے پشتو میں حکم دیا تھا کہ گولی کس نے چلائی؟ مارو اسے!نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر اس کے بعد ریوالور کے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلے پندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ لیاقت علی خان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنمائوں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔لیاقت علی خان کے قتل کے بعد 6شخصیات 1951 سے 1958 تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں ،ان میں11 دسمبر 1957 کو ملک فیروز خان نون بھی شامل ہیں جوپاکستان کے 7ویں وزیراعظم مقرر ہوئے۔گیارہ برسوں میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے والے ملک فیروز خان نون ری پبلیکن پارٹی کے لیڈر تھے۔ ان کے پاس دفاع و اقتصادی امور ، دولت مشترکہ ، ریاستیں ، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے بھی رہے تھے۔ ان کے دس ماہ کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958 کو گوادر کی پاکستان کو منتقلی ہوئی اور 30 لاکھ ڈالروں کے عوض پاکستان کو 2.400 مربع میل کا علاقہ مل گیا تھا۔ انعام میں صدر پاکستان میجر جنرل سکندر مرزانے 7 اکتوبر 1958 کو انھیں برطرف کرکے آئین کو معطل کیا ، اسمبلیاں توڑ دیں اور ملک بھر میں مارشل لا لگا دیا تھا۔
1958 میں ایوب خان نے اقتدارپرقبضہ کرلیا،مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو جن سے سب سے زیادہ خطرہ تھاان میں سے سکندرمرزا کو بندوق کی نوک پر لندن اورحسین شہید سہروردی کو بیروت جانے پر مجبور کردیا گیا،جنرل ایوب خان کی پالیسیوں اور اقدامات کا خصوصی جائزہ لیا جائے تو ان کا بنیادی مقصد اپنیحکومت کو بحال رکھنا اور طول دینا ہی تھا،ایوب خان کے دور سے ہی ہمیں بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ سینٹو اور سیٹو معاہدوں کے بعد ہمیں مفت میں اسلحہ ملا کرتا تھا۔ اس وجہ سے ہمارے ڈیفنس بجٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ اسی طرح ہمیں امریکہ سے تقریبا مفت گندم آتی تھی جسے ہم مارکیٹ میں بیچ کر سویلین بجٹ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ایوب خان کو اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے جاگیرداروں اور کاروباری لوگوں کی حمایت چاہیے تھے توانہوں نے نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کو یکم جون 1960 کو مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا،جو ستمبر 1966 میں مستعفی ہوئے۔ نواب آف کالا باغ پنجاب میں صدر ایوب کی اصل طاقت تھے۔ بڑے جاگیردار اور ڈکٹیٹرانہ مزاج رکھتے تھے جو 26 نومبر 1967 کو ان کا اپنے چھوٹے تیسرے بیٹے اسد اللہ خان سے جائداد پر جھگڑا ہوا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے اپنے بیٹے پر فائر کیا، جس کے جواب میں بیٹے نے 5 گولیاں مار کر انہیں قتل کر دیا۔ ایوب خان کے دورحکومت میں بہت زیادہ کرپشن شروع ہو گئی تھی۔ ان کے صاحبزادے گوہر ایوب گندھارا انڈسٹری کے مالک بن گئے۔ پھر انتخابات میں فاطمہ جناح کو جس طریقے سے ہرایا گیا وہ سب کو معلوم ہے۔ جو موجودہ دور کی خرابیاں ہیں یہ سب ایوب خان کے دورسے شروع ہو گئی تھیں۔ وہ اقتصادی ترقی نہیں تھی بلکہ چند افراد کے ہاتھوں میں بڑھتی ہوئی دولت اور طاقت کی بہتات تھی جس نے محرومیوں کو جنم دیا اور یوں اشتعال انگیزی کو فروغ ملا،پی آئی ڈی سی صنعتیں قائم کرکے اپنے دوستوں میں اونے پونے داموں میں فروخت کر دیتی تھی، منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ صرف 20 گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں،جس سے عدم مساوات بڑھی،اس دوران مشرقی اور مغربی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ۔ ہم ان کا پٹسن بیچ کر مغربی پاکستان پر خرچ کرتے تھے جس کی وجہ مشرقی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔پاکستان سے علیحدگی کے جراثیم ایوب خان کے دور میں ہی پیدا ہوئے تھے کیونکہ جنرل ایوب خان کی جانب سے برسوں تک مغربی پاکستان پر ترجیحی بنیادوں پر کام کئے تھے، جس وجہ سے مشرقی پاکستانیوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔ وہ اِس مسلسل بے دھیانی کو نظر انداز نہیں کرسکتے تھے خاص طور پر جب جنرل ایوب خان نے تین بڑے منصوبوں، جن میں نئے دارالحکومت اسلام آباد کی تعمیراور دو بڑے آبی منصوبے(منگلا اور تربیلا) صرف مغربی پاکستان تک ہی محدود رکھے۔علاوہ ازیں جنرل ایوب خان نے کبھی بھی مشرقی پاکستان سے ایک بھی بھروسہ مند ساتھی نہیں رکھا کیونکہ ان کے تمام خاص آدمیوں کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔یوں ان کی حکومت نے ہی بنگلہ دیش کی علیحدگی کا بیج بویا اور اس پودے کو بے تحاشہ پانی فراہم کیا گیا، پھر اگلے چند برسوں میں سقوطِ ڈھاکا کا واقع پیش آگیا۔25 مارچ 1969 کو ایوب خان اقتدار سے الگ ہوگئے، جس کے بعدجنرل یحیی خان نے باقاعدہ مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر دیا اور اگلے سال عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ یحیی خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر، 1971 میں ختم ہوئے جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک نظر بند بھی کیا گیا۔یحیی خان ایک بہت بڑا شرابی تھا ،اس کی ترجیح وہسکی تھی، یحیی خان کے ایک عورت اکلیم اخترسے تعلقات تھے جو بعد ازاں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوئیں، جوپاکستان کے صدر جنرل یحیی خان کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے قریبی تعلقات کی بنا پر وہ جنرل یحیی کو آغا جانی کے نام سے پکارتی تھیں۔ ان تعلقات کی بنیاد پر وہ نہایت مقبول اور انتہائی اختیارات کی حامل شمار ہوتی تھیں۔ اسی طاقت اور اختیار کی وجہ سے انھیں جنرل رانی کہا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل یحیی کے دور میں جنرل کے بعد اکلیم اختر پاکستان کی سب سے بااختیار شخصیت ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، مگر پھر بھی انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا۔(جاری ہے)