fbpx

پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تحریر : انجینئر عنصر اعوان

حال ہی میں پاکستان کی انگلینڈ کے ساتھ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز اختتام پذیر ہوئی ہے. ون ڈے سیریز میں بری طرح شکست کھانے کے بعد پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی عمدہ پرفارمنس کی بدولت کچھ امید کی کرن نظر آئی جو فی الوقتی ثابت ہوئی اور بقیہ دو میچز میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی طرف سے پچھلی ون ڈے والی ناقص کارکردگی کو دہرایا گیا. اب ٹیم ویسٹ انڈیز پہنچ چکی ہے جہاں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی جانی ہے. جو کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے کھیلی جائے والی پاکستان کی آخری سیریز ہے. یہ پاکستان کے پاس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں متوقع الیون بنانے کا آخری موقع ہے.
انگلینڈ کے ساتھ ہونے والی حالیہ سیریز میں مڈل آرڈر بیٹنگ اور باؤلنگ مکمل طور پر فلاپ ہوئی. یہ بات یقینی نظر آئی کہ بابر اعظم جس میچ میں رنز بنائے گا پاکستان کے وہ ہی میچ جیتنے کے چانسز ہیں بابر اعظم اور محمد رضوان کے علاوہ کسی بیٹسمین کی طرف سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھائی نہیں دی. مڈل آرڈر میں کوئی بھی بیٹسمین زمہ داری قبول کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا. اس وقت شعیب ملک صرف واحد بیٹسمین ہے جو پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ کو سہارا دے سکتا ہے. اس لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سکواڈ میں شعیب ملک کی شمولیت اشد ضروری ہے.
اسی طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم کی باؤلنگ کا بھی یہی حال نظر آیا انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پاکستان کی باؤلنگ مکمل طور پر فلاپ دکھائی دی. تمام باؤلرز وکٹیں نہ لینے کے ساتھ رنز کو روکنے میں بھی مکمل ناکام نظر آئے. حسن علی کے علاوہ کوئی بھی باؤلر خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا. ون ڈے میں 331 رنز بنانے کے باوجود پاکستانی باؤلرز ٹارگٹ کا دفاع نہ کر سکے جبکہ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں بھی ریکارڈ 232 رنز بنانے کے باوجود بڑی مشکل سے میچ جیت پائے. جبکہ پاکستان کی باؤلنگ ہمیشہ سے دنیا کی بہترین باؤلنگ لائن میں شمار ہوتی آئی ہے. پاکستان اگر ٹی ٹوئنٹی میں 160 پلس سکور کر دیتا تو مخالف ٹیم کے لیے ٹارگٹ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا تھا. مگر حالیہ سیریز میں 200 پلس کا سکور بچانا بھی مشکل نظر آیا.
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل دیگر ٹیمز کے مقابلے کے لیے پاکستانی باؤلنگ کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے جو کے محمد عامر اور وہاب ریاض کی قومی سکواڈ میں شمولیت سے ہی ممکن ہو سکتی ہے. ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہونے والی حالیہ سیریز میں پاکستان کو چاہیے کے سکواڈ میں موجود تمام پلئیرز کو مواقع فراہم کئے جائیں اور ورلڈ کپ کے لئے متوازن سکواڈ کا انتخاب کیا جائے. مصباح الحق اور وقار یونس کو چاہیے کہ آنکھوں سے انا کی پٹی اتار کر شعیب ملک، محمد عامر اور وہاب ریاض کو ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کر کے ایک متوازن ٹیم ورلڈ کپ میں بھیجیں نہیں تو ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کی کارکردگی انگلینڈ سیریز سے مختلف نہیں ہو گی.