fbpx

پاکستان کی لاٹری نکل آئی، سی آئی سے کے ڈائریکٹر پاکستان کیا لینے آئے؟

پاکستان کی لاٹری نکل آئی، سی آئی سے کے ڈائریکٹر پاکستان کیا لینے آئے؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت جہاں افغانستان پوری دنیا کا مرکز بنا ہوا ہے وہیں پاکستان میں پوری دنیا کی اہم شخصیات اور وزرائے خارجہ کی آنیاں جانیاں لگی ہوئی ہیں۔اورپورے خطے کی صورتحال بہت ہی دلچسپ موڑ پر ہے جبکہ پاکستان کے لیے یہ ایک سنسنی خیز فلم سے کم نہیں۔ جہاں ہر لمحہ فلم ایک نیا موڑ لے لیتی ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ان دوروں کے پیچھے کیا مقاصد ہیں؟ اور اس وقت امریکہ کیسے پاکستان کو استعمال کر کے اپنی عزت بچانا چاہتا ہے؟ اور اب کون سے ممالک مستقبل میں ایک دوسرے کے قریب آنے والے ہیں؟ پاکستان کی کایا کیسے پلٹی اور کیسے وہ ممالک جو پاکستان کو منہ نہیں لگا رہے تھے اب پاکستان کا شکریہ ادا کرتے نظر آرہے ہیں اور مستقبل میں سفارتی محاز پر پاکستان کے حالات کیا ہونے والے ہیں؟ پاکستان میں اس وقت جس اہم شخصیت کے دورے کا چرچہ ہے وہ سی آئی اے کے ڈائریکٹرWilliam Joseph Burnsکا دورہ ہے۔اس دورے کا مقصد کیا ہے۔ کیوں بار بار CIA کے چیف پاکستان کے چکر لگا رہے ہیں۔؟ اس دورے میں ان کی ملاقات چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ان کی ایک بہت ہی اہم ملاقات بھی ہوئی ہے جس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔اور یہ ملاقات صرف اور صرف افغانستان کی موجودہ صورتحال سے متعلق تھی۔ اور جو لوگ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے کرداد کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کرتے تھے وہ یہ جان لیں کہ سی آئی اے کے سربراہ نے پاکستان کے افغانستان میں کردار اور انخلا کے اقدامات کو بہت سراہا۔اور سرہاتے بھی کیوں نہ انہیں پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہے انہی کی ایجنسی ماضی میں پاکستان پر ڈبل گیم کے الزامات لگاتی رہی ہے۔ انہیں اتنا تو پتا ہو گا کہ پاکستان اب افغانستان کے معاملات میں کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ اور ساتھ ہی امریکی چیف انٹیلی جنس افسر نے ہر سطح پر پاکستان کے ساتھ سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے صدر ابھی تک پاکستان سے خفا ہیں۔اور یہاں پر میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ یہ سی آئی کے سربراہ کا پہلا دورہ پاکستان نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ پاکستان کے دورے پر آئے تھے جسے New york Timesنے خود رپورٹ کیا تھا۔ لیکن اس دورے کے باوجود بھی پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی اور پاکستانی حکام نے یہ واضح کر دیا تھا کہ پاکستان سی آئی اے کے ڈرون حملوں کے لیے اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ اور اگر دے گا تو اس سے کیے جانے والے آپریشنز کی اجازت بھی پاکستان ہی دے گا کہ وہ پاکستان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اور طالبان پر حملے کی اجازت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ وہ موقف تھا جو شاید کوئی بھی امید نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اس کا فائدہ آج ہمیں نظر آ رہا ہے۔ کہ اب امریکہ اپنی عزت بچانے کے لئے ایک بار پھر پاکستان کا سہارا لینا چاہتا ہے۔جس کی ایک تو صاف صاف وجہ یہ ہے کہ امریکہ اپنے جن لوگوں کو چھوڑ کر چلا گیا انہیں افغانستان سے ایک محفوظ طریقے سے باہر نکالنا ہے۔ افغانستان میں اس وقت جو ایمبیسی Fully functionalہے وہ پاکستان کی ہے اس لئے اب غیر ملکیوں کے پاس یہی آپشن ہے کہ وہ پاکستانی ایمبسی سے رابطہ کریں پاکستان کا ویزا لگوا کر پہلے پاکستان آئیں اور اس کے بعد یہاں سے وہ اپنے ملک واپس جائیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ صرف امریکہ ہی نہیں تمام مغربی ممالک کے لئے ایک دم سے پاکستان بہت اہم ہو گیا ہے۔ابھی چند روز پہلے برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد آئے تھے۔ اس سے پہلے نیدر لینڈ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ بھی اگست میں افغان حکومت گرنے کے بعد پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ اور نیدرلینڈ کے کسی بھی وزیر خارجہ کا یہ پندرہ سال میں پہلا دورہ تھا۔ویسے تو یہ بہت سادہ سی بات لگتی ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی پاکستان آئیں اور یہاں سے اپنے ملک چلے جائیں اور یہ کام پہلے ہی ہو بھی رہا ہے اور اس عمل کے زریعے پاکستان نے اب تک افغانستان سمیت چوبیس ممالک کے دس ہزار سے زائد شہریوں، جن میں بین الاقوامی اداروں کے ملازمین اور میڈیا ورکرز بھی شامل ہیں، ان کے انخلا میں معاونت کر چکا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ پاکستان اس وقت افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کا کیمپ نہیں بننا چاہتا کیونکہ پاکستان میں پہلے کئی لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں۔ ویسے بھی وہ افغان جن کے پاس اسپیشل انٹرسٹ ویزا ہے یا جنھوں نے افغانستان میں اتحادی افواج کے ساتھ کام کیا، وہ انھی ممالک کی ذمہ داری ہیں اس لئے ان افغان شہریوں کو مغربی ممالک منتقل کیا جانا چاہیے نہ کہ پاکستان میں۔ اس لئے مختلف ممالک کے حکام پاکستان کے دورے کرکے اور رابطے بڑھا کر پاکستان کو اپنی بات منوانے کے لئے راضی کرنا چاہتے ہیں۔ اور پاکستان ان سے کہہ رہا ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے وہ قیمت ادا کرو اور اپنا کام کروا لو۔۔ کسی کو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کو برطانیہ کی ریڈ لسٹ سے نکلوایا جائے، کسی کو FATF سے نکالنے میں مدد کی یقین دہانی لی جا رہی ہے۔ تو کسی سے IMFکو فنڈ ریلیز کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔پاکستان سے پہلے امریکی سی آئی اے کے سربراہ William johns burnsنے بھارت کا بھی دورہ کیا ہے۔ دراصل امریکا بھارت سے یہ چاہتا ہے کہ بھارت چند ہزار افغان پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں پناہ دے کرامریکہ کا بوجھ کم کرنے میں مدد کرے کیونکہ تمام افغانوں کو امریکا منتقل کرنا آسان نہیں ہے اور پاکستان پہلے ہی امریکہ کو جواب دے چکا ہے۔ ویسے بھی بھارت کی افغانستان میں کی گئی اتنے سالوں کی Investmentجس طرح سے ڈوبی ہے وہ امریکہ کے لئے اب اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ بلکہ وہ خود اپنے لئے بھی روس کی شکل میں نئے اتحادی ڈھونڈ رہا ہے تاکہ خطے میں اپنی پوزیشن کو بہتر کیا جا سکے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس بات کا ایک واضح ثبوت یہ بھی ہے کہ روسی مشیر قومی سلامتی Nikolai Platonovich کی نئی دہلی میں اجیت دیول کیساتھ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ اور برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سربراہ نے بھی بھارت کا دورہ کیا تھا۔روسی مشیر قومی سلامتی کے دورے کے 2 مقاصد ہیں ایک تو شنگھائی تعاون تنظیم کے حوالے سے مشاورت اور دوسرا افغانستان کے حوالے سے بات چیت کیونکہ بھارت کو بھی نظرآرہا ہے کہ اب امریکہ وہ سپر پاور نہیں رہا جو پہلے تھا اس لئے وہ اب روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
روس میں بھارتی سفیر ڈی بی ورما بھی کہہ چکا ہے کہ طالبان کیساتھ دوحہ بات چیت کے خاطر خواہ نتائج نہیں ملے ۔ اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ بھارت اور روس افغانستان کے حوالے سے مل کر کام کریں۔کیونکہ اگر طالبان کیساتھ تعلقات قائم نہ ہو سکے تو بھارت کو مستقبل میں بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے لئے پاکستان اس لئے بھی بہت اہم ہو گیا ہے کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کابل میں ایک جامع حکومت لانے کے لیے اہم کردار ادا کرے کیونکہ طالبان کی طرف سے جس عبوری حکومت کا اعلان کیا گیا ہے اس میں گروپ کے پرانے سپاہی ہی غالب ہیں۔اور امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ Antony Blinkunکہہ چکے ہیں کہ امریکہ وعدے اور فرائض پورے کرنے پر طالبان حکومت کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔ورنہ ایسا نہیں ہوگا۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان کی آئندہ حکومت بنیادی انسانی حقوق برقرار رکھے گی تو یہ وہ حکومت ہوگی جس کے ساتھ ہم کام کرسکتے ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہم ان کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔لیکن یہاں پر میں آپ کو بتاوں کہ امریکہ ابھی بھی آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے اس کو افغانستان کے ہمسائے میں کوئی نہ کوئی ایسا ملک چاہیے ہے کہ جہاں سے وہ افغانستان اور اس خطے پر نظر رکھ سکے۔ کیونکہ وہ چین کو اپنے لئے ایک بہت بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔موجودہ صورتحال میں بال کافی حد تک پاکستان کے کورٹ میں ہے جیسا کہ شیخ رشید نے بھی کچھ دن پہلے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس وقت کوئی بھی سپر پاور خطے میں پاکستان کو بائی پاس نہیں کر سکتی۔ اس لئے اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم اپنے مفادات کا تحفظ کیسے کرسکتے ہیں تاکہ کوئی بھی ملک اس بار بھی ماضی والا طریقہ کار نہ اختیار کرسکے کہ جب پاکستان کی ضرورت ہے تو تعلق بہتر کر لیا جائے اور جب اپنا مفاد پورا ہوجائے تو نظریں پھیر لی جائیں۔ ہم خود دیکھ چکے ہیں کہ جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا تو کوئی ملک اس جنگ میں ہمارا مضبوط اتحادی ثابت نہیں ہوا تھا۔اس لئے ہمیں دیکھنا ہے کہ جو اعلان اور وعدے کیے جا رہے ہیں کیا یہ ممالک ان پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ ہمیں ان کی ضرورت، مفاد اور حکمت عملی پر نظر رکھ کر آنے والے دنوں میں اہم فیصلے کرنے ہوں گے۔ پاکستان کہ پاس یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ خود پر سے پابندیاں ہٹوا سکے، ایف اے ٹی ایف سے خود کو گرے لسٹ سے نکلوا سکے، مسئلہ کشمیر کا حل ہو سکے یا سفارتی مدد مل سکے، معاشی، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے ایک اہم مقام حاصل کیا جا سکے۔ای وقت تھا جب امریکی Intelligence agency کے کئی کئی سو لوگ افغانستا ن میں موجودف تھے لیکن امریکی انخلا کے بعد اب وہاں اسے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس وقت CIAچاہتی ہے کہ پاکستان Counter terrorism کے معاملات میں امریکہ سے مدد کرے اور اس کی اس Deficiency کو کسی نہ کسی طریقے سے پورا کرے۔ ایک طرف امریکہ پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف اس کے صدر بائیڈن پاکستان کو اکڑ دیکھا رہے ہیں دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لیکن پاکستان اس دفعہ ان حالات کو پاکستان کی خوشحالی، امن ا مان اوراپنی Reputation بہتر کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔