پاکستان کی مہنگی شادی اور مولانا طارق جمیل کے 10لاکھ کی اصل حقیقت کیا ہے مبشر لقمان نے بتادیا

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک پاکستانی بزنس مین شیخ محمود اقبال کی بیٹی کی شادی کی تقریب کے خوب چرچے رہے ہیں- اس شادی کی تقریب کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے مہنگی ترین شادی کی تقریب تھی تقریب میں مولانا کو نکاح کے لیے دیے گئے 10 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بھی انکشافات ہوئے-

باغی ٹی وی : مولانا طارق جمیل صاحب کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ایف بی آر کی جانب سے بھی مولانا کو نکاح کے لیے دیے گئے 10 لاکھ روپے کی ادائیگی کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں جس پر اب سینئیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے ویڈیو پیغام میں مولانا صاحب کی حمایت میں بیان دیا اور لوگوں سے اپنے علمائے دین کی قدر کرنے کی درخواست کی-


مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر جاری ویڈیو میں کہا کہ ایک بہت ہی افسوسناک اور دُکھ کی خبر میرے پاس آئی ہے جسے دو تین دن سے میں دیکھ رہاہوں کہ واٹس ایپ پر ہر آدمی اور عورت بغیر تحقیق کے آگے بھیج رہے ہیں کہ مولانا طارق جمیل نے ایک نکاح پڑھانے کے ماسٹر ٹائل اور جلال سنز والوں کے بچوں کے نکاح پڑھانے کے 10 لاکھ رپوے وصول کئے ہیں اور مجھے بڑا دکھ ہوا اس بات کہ ہم لوگ پتہ نہیں کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں اپنے علماء اکرام کی ہم کس طرح تضحیک کرانا چاہتے ہیں اور ہمارے علمائے دین چاہے جس مرضی مسلک سے ہوں چاہے اہلحدیث ہوں بریلوی ہوں حنفی ہوں دیو بندی ہوں اہل تشیع ہوں جو بھی ہوں ہمارے قابل احترام ہیں مشعل راہ ہیں اور ہر وقت ان کو نیچا کر کے اپنا قد اونچا نہیں کر سکتے-

مبشر لقمان نے کہا کہ مولانا طارق جمیل کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں تو ان کے اوپر جب بات ہوتی ہے تو مجھے ہمیشہ زیادہ تکلیف ہوتی ہے اورمیرا اور ان کا بڑا پیار کا رشتہ ہیں ہم ان سے پیار کرتے ہیں وہ ہم سے بڑی شفقت سے پیش آتے ہیں ہم ان سے دعا لیتے ہیں اور وہ ہمارے لئے دعا کرتے ہیں اور یہی ہمارا رشتہ ہے اور آج تک کبھی لین دین کی تو بات ہی نہیں ہوئی ہے اور میرا خیال انہوں نے ہزاروں نکاح تو پٹھائے ہوں گے شیاد لاکھ پڑھا دیئے ہوں اور یہ بات میں دعوے سے کہتا ہوں-

سینئیر صحافی نے کہا کہ مجھے ڈھیروں میسجز آئے فون آئے کہ آپ تو بڑی مولانا طارق جمیل کے بارے میں ہمیشہ بات کرتے ہیں لیکن دیکھیں انہوں نے نکاح پڑھانے کے دس لاکھ روپے لئے ہیں اور میں نے سب سے پوچھا کہ کیا اس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے اور بغیر ثبوت کے جب کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے متعلق بات اور خاص طور پر کوئی تہمت آگے فارورڈ کرتا ہے یا بغیر تحقیق کے بات کرتا ہے تو یہ اس کے منافق ہونے کی اولین نشانہ ہوتی ہے-

مبشر لقمان کے مطابق لوگوں نے مجھے کہا کہ آپ مولانا سے پتہ کریں اس بات کا جس پر میں نے کہا کہ میرے میں اتنی ہمت ہی نہیں ہے کہ میں ان سے پتہ کروں لیکن میں ثبوت کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ میں ان کی ذات ان کی شخصیت کو جانتا ہوں اور بالکل بھی نہیں ایسا نہیں کر سکتے اور پہلی بات تو یہ ہے کہ جس طرح اس شادی کو پاکستان میں ڈسکس کیا جا رہا ہے وہ لگتا ہے کہ پتہ نہیں کتنی بڑی چوری ہو گئی ہے-

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ماسٹر ٹائلز والوں اور جلال سنز والوں کو میں ان دونوں کو ذاتی طور پر نہیں جانتا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ وہ بہت پرانے بزنس مین ہیں بزنس کمیونٹی ہے وہ اگریہاں پر اپنے بچوں کی شادی کر رہے ہیں تو ان کا حق ہے وہ جو مرضی کریں اس پر جتنے مرضی خرچے کریں-

انہوں نے بھارتی بزنس مین مکیش امبانی کی بیٹی کی مہنگی ترین شادی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ امبانی کے بچوں کی جب شادی ہوتی ہے تو ہم بڑے جو ش و خروش سے ویڈیوز تصاویر آگے شئیر کرتے لیکن جب ہمارا کوئی بزنس مین ایسے کر رہا ہو وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ سیلیبریٹ کر رہا ہو تو سب کے لئے بلیک مارک بن جاتا ہے ایک عجیب ذہنیت ہے اور اوپر سے ایف بی آر کا میں نے نوٹس دیکھا ہے کہ آپ نے شادی پر کیا کر دیا کیا نہیں کر دیا یعنی اس کا مطلب ہے کہ ایف بی آر بھی سوشل میڈیا کے پیچھے لگا ہوا ہے اس ملک کا اتنا بڑا ادارہ ہے –

یہ عیاشی نہیں‌توپھرکسےعیاشی کہتے ہیں‌!پاکستان کی مہنگی ترین شادی،اربوں روپےاڑادیئے،ایف بی آرسرپکڑکربیٹھ گئی

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ ایف بی آر کا کام تھا کہ اگر ان کو زیادہ پرابلم تھا تو وہ ان فیملیز کو یہ نوٹس دے سکتا تھا کہ ہمیں بتائیں ہمیں خبر یہ مل رہی ہے کہ اتنا خرچہ ہوا ور آپ ہمیں یہ بتائیں کہ یہ ٹوٹل خرچ کتنا ہوا ہے کیونکہ جن وینڈرز کو آپ نے پیسے دیئے ہوں گے ہو سکتا ہے وہ ٹیکس پر چوری کریں اور اگر ہمیں آپ بتا دیں گے تو ہمیں یہ پتہ ہو گا کہ کس کو کیا ملا ہے ان کا اس حساب سے ٹیکس ہو سکتا ہے –

بجائے اس کے کہ یہ ثابت کریں کہ ہمارے کاروبارہ لوگ ویڈنگ پر شادی میں چوری کر رہے ہیں لوگ تھیم ویڈنگز کرتے ہیں لوگ یہاں کرتے ہی نہیں باہر کے ممالک میں جا کر شادی کر رہے ہیں اور جو پاکستان میں تھیم ویڈینگ کر رہا ہے اور جس کی وجہ سے ہیں پتہ نہیں کتنے لوگوں کا روزگار لگ رہا ہے کتنے لوگوں کاکام چل رہا ہے اس پر ہم لوگ انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور اپنے علمائےدین کے اوپر تضحیک والی گفگتو کر رہے ہیں-

مبشر لقمان نے تنقید کرنے والوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ پلیز ایسے مت کریں ہمارے پاس ویسے ہی رہنما نہیں ہیں ہمارے پاس ویسے ہی قابل تقلید لوگ بہت کم ہیں اور جو ہیں ان کی قدر کرنا سیکھیں مولانا طارق جمیل انتہائی ہمارے شفیق عالم ہیں عالم دین ہیں ان کے متعلق بات کرنے سے پہلے یا تو تحیق کر لیں یا پھر سوچ سمجھ کر بات کریں میری آپ سب سے درخواست ہے-

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک پاکستانی شادی کی تقریب کے کچھ روز سے خوب چرچے ہو رہے تھے۔ اس شادی کی تقریب کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے مہنگی ترین شادی کی تقریب تھی۔ شادی کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایف بی آر نے نوٹس لیتے ہوئے بزنس مین سے شادی میں ہونے والے اخراجات کی تفصیلات طلب کی تھیں

بزنس مین شیخ محمود دیرینہ دوست ہیں انکی بیٹی کا نکاح پڑھانے کے عوض کیسے پیسے لے…

یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس بزنس مین کے شریف فیملی سے خصوصی تعلقات ہیں اورشیخ محمد اقبال نامی بزنس مین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس کی تمام دولت کا بھی حساب شروع ہوگیا ہےکہ اس نے کمایا کہاں سے اوراتنی عیاشی کے پیچھے کیا حقائق ہیں‌؟

جس کے بعد مولانا طارق جمیل نے ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹس میں تقریب نکاح میں دس لاکھ لینے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ، محمود صاحب میرے پرانے دوست ہیں انہوں نے اپنی بیٹی کے نکاح پر مجھے دعوت دی اپنے دوست کی بیٹی کے نکاح کیلئے میں کیسے پیسے لے سکتا ہوں۔ اپنے اوپر لگے الزام کو اخلاقی انحطاط قرار دیتے ہوئے انہوں نے ایسے الزام لگانے والوں کی ہدایت کی دعا کی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.