fbpx

ایشیا کپ کا انعقاد: پاکستان کی سری لنکا کی حمایت کا فیصلہ

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) ایشیاکپ کے انعقاد کیلئے سری لنکا کی حمایت کرے گا۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق چیف ایگزیکٹو پی سی بی فیصل حسنین کا کہنا ہےکہ پاکستان چاہتا ہے کہ ایشیا کپ سری لنکا میں ہی ہو، آسٹریلیا کی کامیاب سیریز کے بعد اب ہماری ٹیم بھی سری لنکا میں موجود ہے، تاہم ٹورنامنٹ کے وینیو کا حتمی فیصلہ ایشین کرکٹ کونسل کو کرنا ہےایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) حکام سے بات ہوئی ہے وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے، ان کا ہر فیصلہ قبول کریں گے-


انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کی اہم میٹنگز آئندہ ہفتے ہونے جا رہی ہیں، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ہم نے ان اہم اجلاسوں کے لیے دو چیزیں ایجنڈے پر رکھی ہیں چیئرمین رمیز راجا کےہمراہ آئندہ ہفتےآئی سی سی کی سالانہ جنرل کونسل کے اجلاس میں شرکت کروں گا، یہ اجلاس آئندہ 8 سالہ فیوچر ٹور پروگرام (ایف ٹی پی) کی تیاری کے لیے بہت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایجنڈے میں پہلی چیز تو یہ ہے کہ فیوچر ٹور پروگرام پر بات ہو گی اور ہم اپنے حوالے سے دیگر بورڈز سے معاملات کو حتمی شکل دیں گے، 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے باقی 20 فیصد کو فائنل کریں گے کہ کون کب کہاں کھیلے گا اور کون میزبانی کرے گا، دوسرے بورڈز سے باہمی سیریز کو حتمی شکل دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں فرنچائز ٹی20 لیگز بڑھنےسے انٹرنیشنل کرکٹ کیلنڈر شدید متاثر ہورہا ہے،آئے روز لیگز سامنے آ رہی ہیں اورکچھ لیگز کی مدت بڑھ رہی ہے،یہ لیگزانٹرنیشنل کرکٹ کا وقت لے رہی ہیں جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ سے بورڈ ریونیو حاصل کرتا ہےلیکن اب لیگز انٹرنیشنل کرکٹ کا وقت لے رہی ہیں، پاکستان کو اس پر تحفظات ہیں اور فکر مندی ہے اس معاملے پر پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو ایک مجوزہ پلان بھیج چکا ہے-

چیف ایگزیکٹو پی سی بی نےکہا کہ اجلاس کی سائیڈ لائنز پر کرکٹ آسٹریلیا، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور سری لنکا سمیت دیگر بورڈز حتیٰ کہ سعودیہ کرکٹ بورڈ سے باہمی دلچسپی کے امور پر چیزوں کو حتمی شکل دیں گے جس میں فور نیشن اور ٹرائی نیشن ٹورنامنٹس کے ایجنڈے زیر غور ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے ہم چاہتے ہیں کہ آئی سی سی میٹنگز میں اس معاملے پر بات چیت ہو اور اس کا ایک طریقہ کار بنایا جائے اور نئی تجاویز رکھی جائیں اور معاملے کو ہر صورت میں ایگزیکٹوز کی میٹنگ میں زیر بحث لایا جائے، خوشی کی بات یہ ہے کہ دو اور بورڈز نے بھی آئی سی سی کو اس حوالے سے لکھا ہے کہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔