fbpx

پاکستان کے ادارے عدالتوں کو نہیں مانتے تو ان اداروں کو بند کر دیں،عدالت

پاکستان کے ادارے عدالتوں کو نہیں مانتے تو ان اداروں کو بند کر دیں،عدالت

سول جج سرگودھا اور اسسٹنٹ کمشنرسرگودھا کے درمیان تنازعہ ،عدالت نے کیس کی سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی ۔

عدالت نے معاملہ کے حل کے لے اعلی سطح کی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کر دیا ،عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی سیکرٹری داخلہ م ڈی جی ایف آئی اے کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ،ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ ہڑتال کرنے والے 49 بیوروکریٹس کی نشاندہی ہو گئی ہے ۔اسد باجوہ وفاقی وکیل نے کہا کہ بیوروکریٹ شوکت عظیم کے فون کی سی ڈی آر لی گئی ہے اسنے غلط فون دیا ،عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق کاروائی کس نے کرنی ہے عدالت نے سبق نہیں پڑھانا ۔عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ۔سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ ڈی جی اپنی بیٹی کی شادی اور کرونا کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پاکستان کے ادارے عدالتوں کو نہیں مانتے تو ان اداروں کو بند کر دیں ۔آپ نے زمہ داروں کے خلاف کیا کاروائی کی۔ سیکرٹری داخلہ کون ہیں ۔انکو بلائیں ۔اسسٹنٹ کمشنر کو معطل کیوں نہیں کیا۔ لگتا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کو حکومت نے عدلیہ کے خلاف بیان بازی پر ایوارڈ دیا ہے۔ کیوں ہڑتال کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی ۔ایف آئی اے کا کردار شرمناک ہے اپ تماشا دیکھ رہے ہیں ۔ایف آئی اے نے کام نہیں کرنا تو اسکو بند کر دیں ۔

عدالت کے طلب کرنے پر وفاقی سیکرٹری کمیونیکشن اینڈ ورکس پیش ہوگئے ،عدالت کے طلب کرنے پر چیرمین پیمرا اور ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم عبدالرب پیش ہوئے عدالت نے سول جج سے جھگڑا کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کروانے کی ہدایت کر رکھی ہے چیف جسٹس نے اسسٹنٹ کمشنر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تم اسسٹنٹ کمشنر کی پوسٹ پر رہنے کے اہل نہیں ہو۔گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں عدالت کا اگاہ کیا تھا کہ ہڑتال کی کال دینے والے بیوروکریٹ عظیم شوکت اعوان کا موبائل فرنزک کے لیے بھجوا دیا گیا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.