fbpx

پاکستان کو بچانا ہے تو گو نیازی گو کے ساتھ گو زرداری گو کہنا ہوگا،مصطفی کمال

پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان کو بچانا ہے تو گو نیازی گو کے ساتھ گو زرداری گو کہنا ہوگا۔ رکشہ چلانے والی نااہل تحریک انصاف کو ایف 16 اڑانے کو دے دیا گیا ہے، جہاز تو تباہ ہوگا ہی، یہ رن وے بھی تباہ کریں گے اور کسی ٹرمینل کے اندر گھس کر اسکا بھی ستیا ناس کریں گے۔
کرپٹ پیپلز پارٹی نااہل تحریک انصاف کے پیچھے چھپ کر سیاسی غازی بننا چاہتی ہے۔ پاک سر زمین پارٹی کرپٹ پیپلز پارٹی کو نااہل تحریک انصاف کے پیچھے چھپنے نہیں دے گی۔ پاک سر زمین پارٹی نے تحریک انصاف کی نااہل اور کرپٹ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کی کرپٹ، نااہل، اقربا پرور اور تعصب زدہ سندھ حکومت کے خلاف تسلسل کیساتھ ملک گیر احتجاجی مظاہروں کی سیریز کا اعلان کردیا۔
احتجاجی مظاہروں کی سیریز کا پہلا اور منفرد مظاہرہ 2 نومبر کو ضلع وسطی میں کیا جائے گا۔ تحریک انصاف کی نااہل وفاقی حکومت نے ٹی ایل پی کا معاملہ بگاڑ دیا ہے، عاشقان رسولﷺ یا پولیس والوں کے خون کا بہنا بدترین حکومتی نااہلی کا ثبوت ہے۔ یہ جس بات کا نوٹس لیتے ہیں اسے مزید بگاڑ دیتے ہیں۔ وفاق میں حکومت بنانے سے پہلے تحریک انصاف نے عوام سے لوٹی رقم واپس لانے کے دعوے کئے، لیکن آج تک لوٹی گئی رقم کا ایک روپیہ تک واپس نہیں لائے، عمران خان کو کراچی سے مینڈیٹ ملا، شہر سے صدر مملکت اور گورنر ہونے کے باوجود عمران خان نے پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی کو پیپلز پارٹی کی کرپشن اور تعصب سے بچانا بھول کر وفاقی حکومت کے دوام کیلئے سندھ میں ظالم، کرپٹ اور تعصب زدہ پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دے دی۔
پاکستان میں تبدیلی نہیں بلکہ تباہی آئی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ تین سال اور سندھ میں گزشتہ تیرہ سال سے کچھ بھی ٹھیک نہیں ہورہا ہے۔ شاہد خاقان عباسی پر مہنگی ایل این جی خریدنے کا مقدمہ بنایا، اب خود اس سے مزید مہنگی ایل این جی خرید رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کے غیر منتخب اور لاعلم ترین ایڈمنسٹریٹر فرماتے ہیں کہ تعلیم اور صحت چلانا بلدیہ کا کام نہیں، صرف صفائی کرنا کام ہے۔
دنیا بھر میں ایئرپورٹس، پورٹس، پولیس، تعلیم، صحت، انفرا اسٹرکچر تک کا نظام مقامی حکومتیں سنبھالتی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے غیر منتخب اور لاعلم ترین ایڈمنسٹریٹر بلدیاتی اداروں پر پیپلز پارٹی کے قبضے میں ایسے دے رہے ہیں جیسے بلدیہ کے ادارے پیپلز پارٹی کی ذاتی جاگیر ہو۔ اب انکی نظر کراچی ہارٹ ڈیزیز اسپتال، کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور عباسی شہید اسپتال پر ہے۔
خود تو پیپلزپارٹی سے کراچی سے کشمور تک ایک اسپتال نہیں چل رہا لیکن پاکستان کی معاشی شہ رگ کے بلدیاتی اداروں پر صرف اس لیے قبضہ کرنا چاہتی ہے کہ نااہلوں کو رشوت لیکر اس میں بھرتی کیا جائے۔ سندھی بھائیوں کو بھی لاکھوں روپے لیکر نوکری دی جارہی ہے۔ ایک کانسٹیبل کی نوکری بھی 12 سے 13 لاکھ میں بیچ رہے ہیں، اب جو رشوت دیکر نوکری حاصل کرئے گا وہ تو صرف رشوت کا بازار ہی گرم رکھے گا۔
روزگار پر پہلا حق ان کا ہے جو اس علاقے کا رہائشی ہے۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما کے بھائی ندیم قمر جو ریٹائر ہونے کے باوجود این آئی سی وی ڈی سے 60 لاکھ تنخواہ وصول کررہے ہیں، جنہوں نے غیر قانونی طور پر این آئی سی وی ڈی کے اکاؤنٹ سے 13 کروڑ نکلوائے۔ جن پر خود نیب کے مقدمات ہیں، وہ کراچی ہارٹ ڈیزیز اسپتال کا دورہ کرکہ اس پر قبضہ کرنے کی نوید سنا کر چلے گئے۔