fbpx

پاکستان کو پولیو فری بنانے کا مشن خطرات سے دوچار

پاکستان کو پولیو فری بنانے کا مشن خطرات سے دوچار ہوگیا ہے۔پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کیلئے تمام علاقوں میں مرد ورکرز کو گھروں تک رسائی نہیں ملتی اور خواتین کو بھرتی کرنے میں مسائل درپیش ہیں۔

اسلام آباد میں کوآرڈینیٹر انسداد پولیو پروگرام ڈاکٹر شہزاد بیگ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتےہوئے بتایا کہ پاکستان کو پولیو فری بنانے کا پروگرام ابھی ادھورا نہیں ہے، پاکستان کو ماضی میں پولیو ختم کرنے کے 2 مواقع ملے مگر ناکامی ہوئی۔

شہزاد بیگ نے عزم ظاہر کیا کہ ملک کو پولیو سے پاک بنانے کا تیسرا موقع ملا ہے جس کو ضائع نہیں کرینگے۔

انھوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں خصوصاً وزیرستان کے ماحولیاتی نمونوں میں وائرس موجود ہے۔ ملک میں مجموعی طور پر 14 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے13شمالی وزیرستان میں نکلے۔

شہزاد بیگ نے مزید بتایا کہ پاکستان میں 75 ایسی جگہیں ہیں جہاں مہینے میں 2 دفعہ سیوریج کے نمونے لیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے تاہم بچوں کا تحفظ ضرور کرسکتے ہیں، ویکسینیشن سے متعلق غلط فہمیاں،والدین کا انکار اور تحفظات بڑے مسائل ہیں۔

پولیو پروگرام کے کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں دو طرفہ آمدورفت بھی وائرس پھیلنے کا سبب ہے اور جب انسداد پولیو کا مہم کا معیار گرتا ہےتوکیسز بڑھ جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ جولائی میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں رواں سال وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 11 ہو گئی.

جب کہ گزشتہ سال خطرناک وائرس کا ملک میں صرف ایک کیس سامنے آیا تھا۔