fbpx

پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید تقویت دی جائے گی،ذبیح اللہ مجاہد کی باغی ٹی وی پشتو سے خصوصی گفتگو

پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید تقویت دی جائے گی،ذبیح اللہ مجاہد کی باغی ٹی وی پشتو سے خصوصی گفتگو

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغان عبوری حکومت کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ اپنے اصولی موقف کے تحت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اس حوالے سے امارت اسلامیہ کا موقف بار بار دنیا کے سامنے رکھا گیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے باغی ٹی وی پشتو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی اپنے ہمسایہ ممالک سے قابلِ قدر تعلقات بنانے کے لیے کارکردگی کی امید رکھتے ہیں۔خاص طور میں یہ کہنا چاہوں گا کہ افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں پاکستان افغانوں کا دوسرا گھر ہے ہمارے مہاجرین بھائی اب بھی پاکستان میں زندگی بسر کررہے ہیں اور دونوں ممالک کے مابین ایک لمبی سرحد ہے۔ ہمارے زیادہ تر مفادات مشترک ہے۔ مذہب، زبان اور ثقافت کی اشتراک اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ افغانستان اور امارت اسلامیہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے، مضبوط اور سچائی پر مبنی ہو۔

ذبیح اللہ مجاہد نے باغی ٹی وی پشتو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اقتصادی لحاظ سے بھی دونوں ممالک کے مفادات مشترک ہے ٹرانزٹ ٹریڈ کے راستے بھی یکساں اور مشترک ہے اور افغانوں کے خرید و فروخت کا عمل زیادہ تر پاکستان کے ساتھ ہے۔ اس وجہ سے بھی امارت اسلامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ہم اپنی طرف سے یہ اطمینان بھی دلاتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید تقویت اور وسعت دی جائے گی مضبوظ ڈپلومیٹک اور تجارتی تعلقات کو اہمیت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ امارت اسلامیہ کا عام موقف یہ بھی ہے کہ ہماری سرزمین کو دوسرے کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا اس میں پاکستان بھی شامل ہے کہ افغانستان کی سرزمین ان کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے باغی ٹی وی پشتو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہم بھی متقابل سے یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان افغانوں کے لیے بہت کچھ کرسکتا ہے۔ پاکستان افغانوں کے لیے تجارت، تاجروں کے لیے سہولیات مہیا کرنے اور سامان کے انتقال میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس طرح افغان مہاجرین کے آمد و رفت، مریضوں کی آمد و رفت میں عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ امارت اسلامیہ اس بات کو ترجیح دیتی ہے کہ پاکستان افغانوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرے۔ ابھی بھی سرحدات پر مشکلات ہے افغانوں کی آمد رفت کے حوالے سے مشکلات زیادہ ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ان مشکلات کی وجہ سے خدا نخواستہ دونوں ممالک کے باشندوں کے مابین نفرتیں پیدا ہوجائے۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ یہ مشکلات جلد از جلد حل ہوجائے۔

واضح رہے کہ افغانستان کے وزیرخارجہ امیر خان متقی آج 3روزہ دورے پرپاکستان آئیں گے امیرخان متقی کے ہمراہ افغان وزرا کا وفد بھی ہوگا دورے میں پاک افغان تعلقات پربات چیت ہوگی افغان وزیرخارجہ اقتصادی تعلقات میں توسیع پر بات چیت کریں گے پاکستان اور افغانستان کے درمیان راہداری، تجارت، مہاجرین اور آمدورفت میں سہولیات پر بھی گفتگو ہوگی وفد افغان صورتحال پر 2 روزہ ٹرانیکا پلس اجلاس میں بھی شرکت کرے گا جو 11 اور 12 نومبر کو اسلام آباد میں ہو گا۔ جس میں پاکستان، روس، امریکہ اور چین کے وفود شرکت کریں گے۔

طالبان کی حمایت میں بولنے پر بھارت میں دو مقدمے درج

حامد کرزئی،عبداللہ عبداللہ سے طالبان رہنماؤں کی ملاقات، بڑی یقین دہانی کروا دی

طالبان رہنما متحرک، حامد کرزئی کے بعد گلبدین حکمت یار سے ملاقات

امریکا اور اس کے حواریوں کی طرح بھارت بھی کشمیر سے بھاگے گا، سید علی گیلانی

افغان طالبان کا خواتین سمیت سب شہریوں کو اپنی ملازمتوں پر جانے کی ہدایت

ترکی طالبان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار

امریکی سیکریٹری خارجہ کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں