fbpx

پاکستان میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ۔ تحریر: ثاقب محمود

وطن عزیز میں ٹریفک آئے روز بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کئی ایک مسائل بھی جنم لے رہے ہیں ۔ جن کا حل بہت ضروری ہے اگر ان مسائل کا فوری حل کے لئے پلان ترتیب نہ دیا گیا تو مستقبل قریب میں بہت سنگین
مسائل اور حوادث جنم لے سکتے ہیں ۔ اب جبکہ بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے دور کے ساتھ ہمیں بھی بدلنا چاہئے جس میں سب سے پہلے ٹریفک کے نظام کو بھی اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو سب سے پہلے آتے ہیں ہم گاڑیوں کے رجسٹریشن کے نظام کی طرف جس کا اپڈیٹ ہونا بہت ضروری ہے ۔مثلا” گاڑی کی رجسٹریشن بک روٹ پرمٹ وغیرہ کو ایک جدید سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جائے جیسے سعودی عرب میں مرور کا سسٹم ہے۔ اگر آپ گاڑی ڈرائیور کو دینا چاہتے ہیں تو بھی آنلائن اس کے آئی ڈی کارڈ کے اوپر یعنی اقامے کے اوپر ہوگی اس کا یے فائدہ ہوگا کے کوئی بھی ٹریفک چالان ہوگا تو وہ ڈائریکٹ اسی بندے کے نام جائے گا جو گاڑی کو استعمال کر رہا ہوگا۔چاہے رینٹ کی گاڑی بھی کوئی رینٹ پے لے گا تو وہ آنلائن مستخدم یعنی استعمال کرنے والے کے نام ہوگی اس کے دو فائدے ایک تو جرائم پیشہ افراد رینٹ کی گاڑی استعمال نہیں کر سکیں گے اور دوسرا حکومت کو پتا ہوگا سسٹم میں ڈیٹیل ہونگی کس نے کتنا کاروبار کیا اور ساتھ میں ٹیکس کے سسٹم سے بھی منسلک ہو جہاں ڈائریکٹ انکم ٹیکس کٹ جائے۔گاڑی کا رجسٹریشن سسٹم صرف ایک کارڈ پر ہو جو کے مالک تبدیل ہونے کے ساتھ تبدیل ہو جائے ۔اس کے علاوہ جو لوگ اوپن لیٹر پر بغیر نام کے گاڑیاں چلا رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے گاڑی نام پر کروانا اولین شرط ہونی چاہیے ۔ایک ہی کارڈ پر لکھا ہو کے گاڑی پبلک سروس ہے یا پرائیویٹ بجائے اس کے کے دو بڑی بڑی بکس اٹھائے پھرے ٹوکن پاسنگ پرمٹ الگ الگ کی بجائے ایک ہی کارڈ پر ہونی چاہیے پاسنگ کا سٹکر شیشے پر آویزاں ہو تاکہ آفیسر دور سے ہی دیکھ پائے کے گاڑی فٹنس کلئیر ہے یا نہیں سب گا ڑیوں کو ڈیجیٹل کرنے سے فائدہ یے ہوگا کے ٹریفک پولیس اگر کسی کا ای چالان کرے گا تو ڈائریکٹ اس کے موبائل پر میسج جائے گا بجائے اس کے کہ ٹریفک پولیس والے روکیں گھنٹوں بحث ہو یا رشوت لے کر چھوڑ دی جائے یا کسی رشتے دار افسر سے سفارش کروا کر چھوٹ جانے والا کلچر ختم ہو جائے گا ٹریفک سارجنٹ بغیر بحث کیے ای چالان کرے گا جو استعمال کنندہ کے کھاتے میں ڈائریکٹ جائے گا ۔گاڑی
کےنمبر پر چالان ہوگا۔اس کے بعد انشورنس بہت ضروری ہے جو کہ تصادم ہونے کے بعد گاڑی والے دونوں فریقین میں صلح کروائے اور روڈ پر جھگڑا ختم ہو گاڑی کے ایکسیڈنٹ کے بعد تیری غلطی اور میری غلطی والا کام بھی ختم ہو اور طاقتور کا کمزور پر دھونس جمانا بھی ختم ہو ۔روڈ پر آٹومیٹک کیمراز ہوں کھلی جگہوں پر جو کے اوور سپیڈ گاڑیوں کے فوری آٹو چالان کیپچر کریں۔ اس کے علاوہ تمام مین سگنلز پر آٹو میٹک کیمراز ہونے ضروری ہیں جس سے ٹریفک وارڈن کی کھپت میں کمی ہوگی اور اچھا ریونیو اکھٹا ہوگا اور تقریبا” ایک سال کے اندر ٹریفک جرائم میں کمی واقع ہوگی ۔ اور حادثات ٹریفک جام اور دیگر مسائل میں نمایاں کمی نظر آئے گی ۔انشورنس کمپنیز میں اچھے خاصے لوگوں کو ملازمت کے مواقع میسر آئیں گے ۔عوام میں شعور پیدا ہوگا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی ۔
لیکن اس سب کے لئے ضروری ہے ایک مکمل میکنزم جو ٹریفک پولیس انشورنس کمپنیز اور دیگر
اداروں کے مدد سے تیار ہو ۔
خصوصا” ڈیجیٹل کیمراز اور فاسٹ نیٹ ورک موبائل ڈیوائسز کی ایک جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے ۔ہم عرب امارات اور سعودی عرب کے ٹریفک نظام کو دیکھتے ہوئے اپنے ٹریفک کے نظام میں بہتری لا سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ چھوٹی دستی ٹرانسپورٹ جیسا کے موٹر سائیکل رکشہ چنگ چی وغیرہ جو کے اکثر انتہائی خطرناک اور مہلک حادثات کا باعث بنتے ہیں ۔ان کا چیک اینڈ بیلنس رکھنا ضروری ہے جن کی حد سے بڑھی تعداد بھی خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے بچے ڈبل کو چھوڑیں ٹرپل سواری اور بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائکل چلاتے نظر آتے ہیں جو کے کم عمری اور ناتجربہ کاری اور تیز رفتاری کے باعث کثیر تعداد میں حوادث کا باعث بنتے ہیں ۔حکومت کو چاہئے کے کم عمر بچوں کے بائک چلانے پر مکمل پابندی عائد کرے اور بغیر لائسنس کے ڈرائیو پر بھی مکمل پابندی ہو ۔جو ماں باپ اپنے 18 سال سے کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل دیں ان کے خلاف بھی سخت کاروائی اور موٹر سائیکل ضبط ہونا چاہیے ۔
حکومت کو پتا ہو کے شہر میں
کتنی ٹرانسپورٹ کی گنجائش ہے اور کتنی تعداد میں موجود ہے ۔
حد سے زیادہ کوئی بھی چیز ہوگی تو وہ گزرتے وقت کے ساتھ مشکلات پیدا کرے گی۔ آپ راولپنڈی یا لاہور کے کسی چوک میں چلے جائیں آپ کو رکشوں اور موٹر سائیکل کی بھرمار نظر آئے گی اگر آپ غور کریں گے تو ٹریفک کے جنگل میں پھنسے آپ کا سر دکھ جائے گا ۔پبلک ٹرانسپورٹ کا کرایہ میٹر پر بننا چاہئے یا کوئی معقول نظام ہو تاکہ عوام پبلک ٹرانسپورٹ سے سہی معنوں میں مستفید ہو سکے ۔
اللہ ہماری معاشرے میں سدھار
کے لئے اس چھوٹی سی تحریر کو پر اثر بنائے اور اس کے فوائد کے ثمر سے وطن عزیز کو نوازے آمین ۔

@Ssatti_