fbpx

پاکستان میں انڈین فلمیں اور ڈرامے پروموٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں

صوبائی وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انڈین فلمیں اور ڈرامے کو پروموٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق الحمرا ہال میں ایشئین ایکسی لینس پرفارمنس ایوارڈ کی تقریب سے خطاب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اپنے فنکاروں کو اچھا پروٹوکول اور پیسہ دو، ملک کا نام روشن کریں گے۔

امتیازی سلوک کیا ہےمعاشرے میں اس کا سب سے زیادہ شکار کون لوگ ہوتے ہیں؟ دیکھئے…

انہوں نے کہا کہ چھ ماہ کلچر کا منسٹر رہا، اپنے دور میں اتنی سرگرمیاں کروائیں جتنی گزشتہ بیس، پچیس سال سے بھی نہ ہوئی تھیں، اس دوران میں نے ساڑھے پانچ سو میٹنگز کیں، میرے کام کی گواہی سید نور سمیت سب دیں گے۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ماں کے پیٹ سے کوئی قائد اعظم، علامہ اقبال، شیر میانداد بن کر نہیں آتا، سب محنت کے بل بوتے پر اوپر آتے ہیں، ہمیں، اپنے فنکاروں، گلوکاروں کو پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے،جب فنکاروں سے معمولی معاوضوں پر کام لیں گے تو پرفارمنس کہاں سے آ ئے گی-

میرٹ پر کامیابی پانا مداحوں کے بغیر ممکن نہیں رانی مکھر جی

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ببو برال یا مستانہ اپنی زندگی کے آخری ایام کسمپرسی میں کیوں گزاریں، اپنے فنکاروں کو اچھا پروٹوکول اور پیسہ دو، ملک کا نام روشن کریں گے۔

فیاض الحسن کا کہنا تھا کہ حکومت اور نجی اداروں کو چاہیے کہ فنکاروں کو بہترین معاوضے دیں، وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی قیادت میں کوشش کی لیکن درمیان میں کورونا آ گیاآئندہ چھ ماہ میں پورے پنجاب کے پاس ہیلتھ کارڈ ہو گا۔

اسٹیج اداکارہ دعا چوہدری کا تھانے پر دھاوا،ساتھیوں کو چھڑا کر لے گئیں

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!