میں تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر مذہبی امتیاز موجود ہے حمزہ علی عباسی

پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار حمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کوئی سلطنت نہیں نا ہی یہاں بادشاہت ہے مزید منافقت سے پرہیز کریں-

باغی ٹی وی :حمزہ علی عباسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اسلام آباد میں مندر بنائے جانے کے تنازع کےحوالے سے ایک پیغام شیئر کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان کوئی سلطنت / بادشاہت نہیں ہے۔


انہوں نے لکھا کہ ہم مسلمانوں نے پاکستان کو نہیں مانا ، ہم ایک مسلم اکثریتی اسٹیٹ ہیں۔

حمزہ عباسی نے لکھا کہ 14 اگست 1947 کو جو مسلم اکثریت والے علاقوں میں مقیم تھا خود بخود پاکستان کا شہری بن گیا مزید منافقت سے پرہیز کریں-

حمزہ علی عباسی نے لکھا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر مذہبی امتیاز موجود ہے۔


حمزہ علی عباسی کی اس ٹویٹ پر ایک صارف یحیی عباسی نے کہا کہ ان تمام خواتین سے پوچھیں جن کی عصمت دری کی گئی تھی اور وہ تمام مرد جنہیں پاکستان ہجرت کے وقت ہلاک کیا گیا تھا۔ ہم ایک سلطنت بن گئے جس کو ریاست مدینہ کی پیروی کرنا تھی۔ تاہم ہماری اقلیتوں پر مظالم ہیں لیکن اس معاملے میں ہماری اکثریت بھی مظلوم ہے۔ جیسے کہ ساہیوال کا واقعہ اور ماڈل ٹاؤن۔


ایک صارف نے لکھا کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے .. یہ اسلام کے نام پر بنا ہے .. اور ہاں بہت سے مسلمان شہید ہوئے اور بہت جدوجہد کے بعد ہم نے اسے حاصل کیا .. یہ صحیح ہے کہ ہر شہری برابر ہے اور ہونا چاہئے .. کیا .. مساجد کی طرح مندر اور گرجا گھر بنائیں !! ؟؟

واضح رہے کہ سی ڈی اے نے اسلام آباد میں 2354مربع گز کا پلاٹ ہندو برادری کو مفت الاٹ کیا تھا تاکہ ہندو برادری ٹمپل، کمیونٹی سنٹر اور عبادت گاہ تعمیر کرسکے گزشتہ روز سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن نے ہندئوں کے پہلے مندر کی تعمیر یہ کہتے ہوئے روک دی تھی کہ بلڈنگ بائی لاز کے تحت اسلام آ باد میں کوئی بھی کنسٹرکشن بلڈنگ پلان کی منظوری کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر پر مفتی تقی عثمانی نے موقف پیش کردیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.