fbpx

پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

منکی پوکس مرض کے پھیلاؤ کاخدشہ،وزیراعلیٰ پنجاب کا محکمہ صحت کو چوکس رہنے کا حکم

پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، اس ضمن میں قومی ادارہ صحت اسلام آباد نے منکی پوکس کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا

وفاقی اور صوبائی حکام منکی پاکس مشتبہ کیسز کے حوالے سے ہائی الرٹ کر دیا گیا ملک کے داخلی راستوں بشمول ایئر پورٹس پر مسافروں کی نگرانی کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئیں،سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کو بھی آئسولیشن وارڈ قائم کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی،ماہرین قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا میں منکی پاکس کے 92 کنفرم اور 28 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں،منکی پاکس جانوروں کے بعد اب انسانوں میں منتقل ہوگیا ہے،منکی پاکس متاثرہ شخص کو ہاتھ لگانے اور رطوبت لگنے سے لگتا ہے، اسپتالوں میں طبی عملے کو منکی پاکس کے مشتبہ مریضوں سے احتیاط سے پیش آنے کا مشورہ بھی دیا گیا،

منکی پوکس مرض کے پھیلاؤ کاخدشہ،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے محکمہ صحت کو چوکس رہنے کا حکم دے دیا،حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت عالمی ادارہ صحت کی وضع کردہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو یقینی بنائے،منکی پوکس کے مرض سے بچاؤ کیلئے ضروری احتیاطی تدابیر فی الفور اختیار کی جائیں ائیر پورٹس پر مسافروں کی سکریننگ کا موثر میکنیزم وضع کیاجائے،مرض کا پھیلاؤ روکنے کیلئے پیشگی حفاظتی اقدامات بروقت اٹھائے جائیں،وزیراعلیٰ پنجاب نے منکی پوکس مرض کے حوالے سے مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کی ہدایت کر دی،

قبل ازیں سندھ کے محکمہ صحت نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے ،محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ منکی پاکس بیماری کے 111 کیسز انگلینڈ اور امریکہ میں رپورٹ ہوگئے پاکستان میں بھی منکی پاکس بیماری پھیلنے کا خدشہ ہے منکی پاکس کی علامات میں سر اور پٹھوں میں درد محسوس ہوتا ہے منکی پاکس سے چہرے اور جسم پر پھوڑے ظاہر ہو سکتے ہیں

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے منکی پاکس سے نمٹنے کے لیے ضرور ی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ وبازدہ ممالک سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کی جانی چاہیے بیماری کے پھیلاؤ سے بچنے اور روک تھام کے لیے لیبارٹری اور سرویلنس کے عمل کو بڑھانے کے لئے حکم نامہ جاری کر دیا گیا

اس بیماری میں مبتلا ہونے والے سارے افراد نوجوان مرد ہیں، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں یہ بیماری کیسی لگی ہے اب تک مونکی پاکس کے کیسز مغربی اور وسطی افریقہ سے واپس آنے والے مسافروں اور ان کے رشتہ داروں تک محدود تھے جہاں یہ وائرس عام ہے۔ لیکن ماہرین کو اب خدشہ ہے کہ یہ بیماری یورپ میں بھی پھیل رہی ہے۔

واضح رہے کہ مونکی پاکس بہت کم پائی جانے والی لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے خطرناک بیماری ہے جو وسطی اور مغربی افریقہ کے علاقوں میں پائی جاتی ہے یہ بیماری نزلے جیسی علامات اور بغل کے نیچے سوجن کا باعث بنتی ہے۔ اس کے بعد مریض چکن پاکس جیسی خارش کا شکار ہو جاتا ہےیہ بیماری عام طور پر سانس کے ذریعے پھیلتی ہے لیکن اس خاص کیس میں محکمہ صحت کے حکام کا خیال ہے کہ مریض کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر افراد کو زیادہ خطرہ نہیں ہوتا-

ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

ہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں

ورپ اور مغرب میں‌ بندروں کی مہلک بیماری انسانوں میں پھیلنے لگی