fbpx

پاکستان میں انٹرنیٹ پر اپنی شناخت اور ڈیٹا کی حفاظت کے مسئلے .تحریر:حمیداللہ شاہین

پاکستان میں رائج سائبر کرائم قوانین کے تحت کسی کے موبائل یا کمپیوٹر سے ڈیٹا چرانا، بری نیت سے اسے پھیلانا یا اس میں کسی قسم کی مداخلت جرم شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا تصاویر، ویڈیوز یا تحریری مواد اور کسی بھی دیگر صورت میں ہو سکتا ہے۔آج کل سائبر کرائم میں اضافے کی وجہ سے جدید دور کے معاشرے میں ہم لوگوں کا اپنی سیکیورٹی کو لے کر ایک بہت اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ اپنی معلومات اور شناخت ظاہر کرنے سے گھبراتے ہیں۔
زیادہ تر سائبر کریمینلز مالی فوائد کے لئے سائبر کرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں، جبکہ کئی سائبر کرائمرز شوقین ہیکرز، سیاسی طور پر اختیار ملنے والے ہیکرز، یا ملازمین ہیکرز جو کمپنی کے راز تک رسائی حاصل کرنے کے لئے یا انہیں دوسری کمنیوں تک پہنچانے کے لیے اپنا حربہ استعمال کرتے ہوئے سائبر کرائم کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کو اکثر کریڈٹ کارڈ فراڈ ، بنک کی معلومات فراڈ، آن لائن خرید و فروخت فراڈ، کسی کو انٹرنیٹ پہ بدنام کرنا، شناخت کی چوری، پاسپورٹ یا شناختی کارڈ کے نمبروں کی چوری اور سوشل میڈیا ایپس جیسے فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ ہیک کی شکل میں مختلف ڈیجیٹل خطرات کا سامنا ہے۔
ہمیں ہر وقت الیکٹرانک فراڈ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہم موبائل، ای میل، یا ویب سائٹ کے ذریعے اپنی ضروری معلومات نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہمیں ایسے معاملات میں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آن لائن جدیدسیکیورٹی مقامی ریاستوں، فوج اور تنظیموں کے لئے بھی اہم ہے کیونکہ وہ اپنے ملک اور اس کے شہریوں کے بارے میں بہت زیادہ خفیہ ڈیٹا اور ریکارڈ رکھتے ہیں۔  تاہم مختلف ملکوں کے متعدد محکموں اور تنظیموں کو ناکافی جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات اور وسائل کی کمی کی وجہ سے ڈیٹا کے تحفظ میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  حساس محکموں اور ہیکرز جاسوسوں کے دہشت گردوں کے ذریعہ خفیہ ڈیٹا یا حساس معلومات کی چوری کسی بھی ملک میں سنگین خطرہ لاحق ہوسکتی ہے۔
لہذا ڈیجیٹل سیکیورٹی ہر محکمے کے لئے بے حد اہمیت رکھتی ہے اور یہ ہر فرد کے لئے بھی ضروری ہے۔  ڈیجیٹل خطرات کے پیش نظر صارفین کو چاہئے کہ وہ ڈیٹا کی حفاظت کے بارے میں چوکس رہیں۔  کسی بھی فرد کے لئے انٹرنیٹ کی دنیا میں پائے جانے والے مختلف قسم کے خطرات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

انٹرنیٹ نے وسیع پیمانے پر مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن ایسے شدید خطرات ہیں جن سے بچا نہیں جاسکتا۔  فیس بک ، انسٹاگرام ، ٹویٹر ، واٹس ایپ جیسے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں پر کسی فرد کے ذریعہ شیئر کی گئی تصاویر ، ویڈیوز اور دیگر ذاتی معلومات سنگین اور حتی کہ جان لیوا واقعات کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ خواتین کو ہراساں کرنے کے لئے ان کی شناخت چوری کرکے مو بائل فون نمبر اور جعلی تصاویر لگانے کی شکایات بہت بڑھ چکی ہیں، ڈیجیٹل خطرات سے کیسے بچایا جائے اور ورچوئل دنیا اور حقیقی دنیا کے مابین فرق کو سمجھنا ہر فرد کا واحد فرض ہے۔  مثبت آن لائن ماحول پیدا کرنے کے لئے ہر فرد کو ڈیجیٹل شہری کے حقوق اور ذمہ داریوں کا پتہ ہونا چاہئے۔
وقت کی بنیادی ضرورت ہے کہ حکومت پاکستان اور بلوچستان کو مستقبل میں ہمارے ملک سازوں کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے اسکول اور کالج کی سطح کے نصاب میں ڈیجیٹل سیکیورٹی آگاہی شامل کی جائے۔ اساتذہ کے لئے اس بارے میں اسکول کالج اور یونیورسٹیوں کی سطح پہ ورکشاپ قائم کرنے چاہئے، اہم بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ سائبر کو اپنے شہریوں کے لئے زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کے لئے پاکستان سائبر کرائم ایکٹ 2016 کو اعلی جذبے سے نافذ کیا جائے۔کچھ عرصے سے انٹر نیٹ کی دنیا میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کے لئے جدید ترین طریقے اپنائے جانے کے بعد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ پاکستان میں اس حوالے سے ٹھوس اور پائیدار قانون سازی عمل میں لائی جائے ۔

پاکستان دنیا کے ان 42ممالک میں شامل ہے جن کے پاس سائبر کرائم کے لئے کسی نہ کسی شکل میں قانون ہمیشہ سے موجود رہا ہے ۔اگرچہ بعض حلقوں کی طرف سے اس حوالے سے قانون میں سقم اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے جیسے خدشات سامنے آئے ہیں ۔ تاہم ہمارے ملک میں آزادی اظہار کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو تمام قواعد و ضوابط سے مبرا ہو کراستعمال کیا جاتا رہا ہے جس کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔
پاکستان میں سائبر کرائم کی شکایات میں ماضی کی نسبت اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس سے جہاں یہ پتا چلتا ہے کہ ملک میں سائبر کرائم سے متعلق آگہی بڑھی ہے، وہیں اس حقیقت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ معاشرے میں سائبر کرائم بڑھ رہے ہیں۔
حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس حوالے سے سائبر کرائم ادارہ کو مضبوط بنایا جائے، انہیں ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے جبکہ تمام سوشل میڈیا ایپس اور ویب سائٹ کو اسکا پابند رکھنا چاہئے کہ بغیر کسی تصدیق کے کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا نہ پھیلایا جائے، موبائل کمیونیکیشن اور موبائل میکرز کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ ہر صارف کی نقل و حرکت اور موبائل کے استعمال پہ نظر رکھنی چاہئے۔
حکومت کو چاہئے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم یونٹ کو بہترین اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیٹا اور ریکارڈ کی مانیٹرنگ دینی چاہئے۔
بقلم!
حمیداللہ شاہین