fbpx

پاکستان میں میڈیا پر عائد اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندیاں ختم کی جائیں،بلاول بھٹو

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا آزادیِ صحافت کے عالمی دن پر پیغام ۔پیغام میں کہا پاکستان میں میڈیا پر عائد اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندیاں ختم کی جائیں پی ٹی آئی حکومت نے دہونس دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے آزادیِ صحافت کو پابندِ سلاسل کیا ہوا ہے عمران خان حکومت نے ہر شعبے میں اپنی ناجائزیوں، نااہلی اور سراسر ناکامیوں کو چھپانے کی خاطر میڈیا کا گلا دبایا ہوا ہے۔متعدد غیرجانبدار صحافیوں اور اینکرپرسن کو زبردستی ٹی وی اسکرینز سے ہٹایا گیا ہے۔اب وہ صحافی اپنے غیرجانبدارانہ تجزیوں اور تبصروں کا اظہار سوشل میڈیا پر کرتے ہیں۔پاکستان میں پریس کی آزادی کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ صفِ اول میں رہی ہے۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دورِ حکومت میں ان کالے قوانین کا خاتمہ کیا، جو ضیاء نے صحافت پر لاگو کیئے تھے۔پاکستان میں آزاد میڈیا کو دبانا، قوم کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔یہ عمل عوام کے جائز غصے اور مایوسی کے شعلوں پر مزید تیل چھڑکے گا آزادی صحافت ایک متحرک معاشرے و جمہوریت کا کلیدی حصہ ہوتا ہی، جو عوام کی آواز بنتی ہے تمام تر سنسرشپ بشمول خود ساختہ سنسرشپ کے، جو خفیہ خطرات کے ذریعے عائد ہے، کا خاتمہ کیا جائے۔میڈیا کو ایک آزاد نگران کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے پی ٹی آئی حکومت کے دوران، پریس فریڈم انڈیکس پر پاکستان کی تنزلی ہوئی ہے بلاول بھٹو زرداری کا اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا رپورٹرز ودآوَٹ بارڈرز کی جانب سے مرتب کردہ 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان 145 نمبر پر آگیا ہے عالمی یوم آزادی کے رواں برس کی تھیم، "انفارمیشن اے پبلک گُڈ”، کی مکمل تائید کرتا ہوں پاکستان میں اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف اسپانسرڈ میڈیا ٹرائلز کے دور کا خاتمہ کیا جائے
پاکستان پیپلز پارٹی آزاد میڈیا پر پابندیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی پی پی پی صحافی برادری کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی اپنی تاریخ کو زندہ رکھے گی پاکستان پیپلز پارٹی تب تک سکھ کا سانس نہیں لے گی، جب تک پاکستان میں صحافت حقیقی معنوں میں خودمختار و آزاد نہیں ہوجاتی اس طرح خودمختار و آزاد جس طرح کسی بھی ایک حقیقی جمہوری ملک میں صحافت ہوتی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.