fbpx

پاکستان اور افغانستان کو طویل مدت کے لیے قدرتی گیس فراہم کی جا سکتی ہے،روسی نائب وزیراعظم

ماسکو: روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو طویل مدت کے لیے قدرتی گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔

باغی ٹی وی: روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کو دیئے گئے انٹرویو میں روسی نائب وزیراعظم نے کہا کہ مغرب کو یامل- یورپ گیس پائپ لائن کے ذریعے گیس فراہم کرنے لیے تیار ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان کو بھی طویل مدت کے لیے گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔

جنوبی کوریا کا شہری پیرا گلائیڈنگ کےدوران 50 فٹ کی بلندی سےگرکرہلاک

نائب وزیراعظم کی جانب سے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی گئی ہے کہ جب پاکستان کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے اور ملک میں توانائی کا بحران محسوس کیا جا رہا ہے۔

الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ گیس کی قلت کے باعث یورپی مارکیٹ بہت اہم ہے اور ہمارے پاس گیس کی دوبارہ سپلائی کا بھرپور موقع ہے، گیس کی فراہمی کی مثال یامل –یورپ پائپ لائن ہے جو سیاسی اسباب کے باعث بند کئی گئی تھی۔

روس کے نائب وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ میں مرکز بنانے کے بعد اس کے ذریعے اضافی گیس فراہم کرنے کے لیے بھی روس کی بات چیت جاری ہے، توقع ہے 2022 میں یورپ کو 21 ارب کیوبک میٹر ایل این جی گیس فراہم کی گئی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال ہم نے یورپ کو گیس کی سپلائی بڑھائی ہے، گزشتہ گیارہ ماہ میں 19 ارب 4 کروڑ کیوبک میٹر گیس سپلائی کی گئی جو اس ماہ کے اختتام پر 21 ارب کیوبک میٹر تک پہنچ جائے گی۔

نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ روس طویل مدت کے لیے افغانستان اور پاکستان کی مارکیٹس کو بھی وسطی ایشیا اور یا پھر ایران کے ذریعے قدرتی گیس فراہم کر سکتا ہے، گھریلو استعمال کے لیے گیس کے استعمال کو بڑھانے کے لیے روس اور آذربائیجان کے درمیان بھی معاہدہ طے پایا گیا ہے۔

یوکرین جنگ پرمذاکرات چاہتے ہیں، لیکن مغربی ممالک انکار کر رہے ہیں،روسی صدر

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں جب آذربائیجان گیس کی پیداوار میں اضافہ کرے گا تو ہم تبادلے پر بات کر سکیں گے، ماسکو کی جانب سے کازکستان اور ازبکستان کو بھی بڑی مقدار میں گیس سپلائی کرنے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ یامال۔یورپ پائپ لائن مغرب سے جاتی ہے لیکن پولینڈ کی طرف سے جرمنی میں ذخیرہ شدہ گیس پر ڈرائنگ کے حق میں روس سے گیس کی خریداری سے منہ موڑنے کے باعث دسمبر 2021 کے بعد سے اس گیس پائپ لائن کے ذریعے سپلائی منقطع ہے۔

روسی گیس سپلائر کمپنی گیز پروم نے سپلائی منقطع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو کی جانب سے یامل۔یورپ پائپ لائن کے پولش سیکشن کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے بعد وہ پولینڈ کے راستے سے گیس سپلائی نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے وفاقی وزیر مملکت سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک کی سربراہی میں ماسکو کا دورہ کیا تھا جس کے دوران روس سے پیٹرول خریدنے کے حوالے سے گفت و شنید ہوئی تھی وفاقی وزیر مملکت برائے پیٹرولیم نے اپنے دورہ روس کو کامیاب قرار دیا تھا جبکہ اس سے قبل پاکستان نے روس سے گندم خریدنے کی بھی منظوری دی تھی۔

خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…