fbpx

پاکستان اور سایبر جنگ کی تیاری تحریر: شہزاد احمد

ہم اپنے بڑوں سے سنتے تھے کہ مستقبل میں جنگ بغیر بندوقوں کی ہوگی ہم اس بات کو سن کر ہم حیران ہوا کرتے تھے کہ بندوق کے بغیر بھی کوئی جنگ ہوتی ہے بھلا- جیسے ہی ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے اور دنیا ایڈوانس اور ہورہی ہے ایسے ہی بڑوں کی باتیں سچ ہونے لگ گئی ہے-
ان بغیر بندوق کے جنگ میں سے ایک جنگ کا نام ہے سائبر کرائم دنیا کے ممالک میلوں دور فاصلے پر اپنے ہی سرزمین اپنے ہی گھر سے ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ سکیں گے- اس جنگ میں نہ کسی بندوق کی ضرورت ہوگی نہ کسی جنگی جہاز کی ضرورت ہو گی اور نہ کسی ٹینک کا ضرورت ہوگا۔ بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے دوسرے کی سسٹم تباہ کر رہے ہوں گے- دنیا میں 2019 سے کرونا وائرس پھیلنے لگا ہے اور تب سے ہی اس جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہےـ
دنیا کا تقریبا سارا نظام ہی انٹرنیٹ پر منحصر ہو چکا ہے- خواہ وہ کسی ملک کا الیکشن ہو تعلیمی نظام ہو معیشت ہو اکانومی ہو بزنس ہو تقریبا سب آن لائن ہو چکے ہیں-
پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لگ ڈاؤن کے دوران ہزاروں سائبر اٹیکس ہوئے ہیں جن میں سے کچھ بزنس کے زوم سیشنز، پر تعلیم کے زوم سیشنز پر، گورنمنٹ ویب سائٹس، پر پرائیویٹ اداروں پر ہوئے ہیں-
ان میں سے ایک یہ تھا جب پاکستان میں آن لائن تعلیم کا کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں تھا اور سٹوڈنٹس آن لائن امتحان لینے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ کچھ انٹرنیٹ کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے تھے اسی اثنا میں (ایچ ای سی) ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کا ویب سائٹ ہیک ہو گیا-
ہمارا پڑوسی ملک بھارت آئی ٹی کے دوڑ میں ہم سے بہت آگے ہیں اور ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خدانخواستہ وہ کبھی بھی ہمارے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں-
خصوصا ہمارے خطے میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہے-
کوئی ہمارا ساتھ چاہے گا تو کوئی ہمارا خلاف ہوگا، کسی کو ہماری ضرورت ہوگی، جبکہ کسی کو ہم چاہیں گے-
جس طرح جنگ کے دوران پاکستان عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے کوئی امداد بھیج رہا ہوتا ہے تو کوئی اسلحہ لے کر باہر کی طرف جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام میں سائبر سیکیورٹی اور سائبر کرائم کے عوامل کا شعور ہونا چاہیے تاکہ مشکل وقت میں اپنی اور اپنے ملک کی دفاع کرسکیں۔
پاکستان اندرونی اور بیرونی سائبر سیکیورٹی کے مسائل سے دوچار ہیں-
پاکستانی حکومت کو غصہ، مذمت، جیل اور پھر رہائی جیسے فلسفوں سے نکل کر عملی اقدامات کرنے چاہیے۔
موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان سائبر کرائم کے قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے اس کو مزید سخت اور فعال کرنا چاہیے
بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتی سطح پر کوئی بھی سائبر سکیورٹی اویرنس پروگرام یا کمپین نہیں چلایا جا رہا ہے جو کہ بعد میں ہمارے لیے بہت خطرہ بن سکتا ہے جس طرح کوئی سیاسی جماعت یا حکومت اپنی الیکشن کمپین مقامی زبانوں، محلوں اور گھروں میں جاکر کرتا ہے اسی طرح سے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مقامی زبانوں میں سائبر سیکیورٹی اویرنس پروگرام چلانے چاہیے تاکہ پاکستانی عوام سائبر کرائم کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور اپنے ملک کی دفاع کے لئے مکمل تیار ہو۔ پاکستان زندہ باد
(@imshehzadahmad)