fbpx

پاکستان اور سیاحت تحریر: تعمیر حسین

سیاحت کسی بھی ملک کا مثبت پہلو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ھے۔  تمام ممالک کی یہ کوشش ھوتی ھے کہ زیادہ سے زیادہ سیاح ان کے ملک جائیں۔ جس سے نہ صرف اس ملک کا اچھا امیج پیدا ھوتا ھے بلکہ معیشت کو بھی سہارا ملتا ھے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ھوتے ھیں۔ کیونکہ سیاح جس علاقے میں بھی جائیں وھاں کی روایتی اشیاء کو خریدتے ھیں اور اپنے دوستوں اور فیملی کے لیے تحائف کے طور پر لے کر جاتے ھیں ۔

بعض ممالک کی معیشت کا تو انحصار ہی سیاحت پر ھے۔

 

پاکستان بھی سیاحت کے شعبے میں دنیا بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور پاکستان کے شمالی علاقوں کی مہم جُو سیاحت،ثقافتی ورثہ اور آثار قدیمہ کے نوادرات دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔ شمالی علاقہ جات نہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بے حد مشہور ھیں۔ شمالی علاقہ جات ، کشمیر کے بلند پہاڑ، گلگت کی برف پوش پہاڑی چوٹیاں اور وادی کیلاش یہ صرف چند مشہور تفریحی مقامات کے نام ھیں۔ الحمدللہ پاکستان کا چپہ چپہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ھے۔

پاکستان ان ممالک میں سے ایک ھے جہاں چاروں موسم پاے جاتے ہیں۔

پاکستان کے شہری علاقے سیاحوں کے لئے توجہ کا ساماں رکھتے ہیں جبکہ ملک کے دیہی علاقے آرٹ،دستکاری اور دلکش ثقافت کا شاندار نمونہ ہیں۔

دیہات اب بھی ثقافت کے مختلف رنگوں کو اپنے اندر سموئے ھوے ھیں۔

 آپ کسی جگہ گھوم رہے ہوں اور اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں آپ کو چھولیں بلکہ آپ سے لپٹ جائیں تو کیسا محسوس کریں گے؟

یہ ناممکن نہیں بلکہ حقیقت ھے،  اگر آپ پاکستان کے پہاڑی مقامات کی سیر کے لیے جائیں تو ایسا تجربہ آپ کو  اچانک ہوسکتا ہے۔

سمجھ نہیں آتا کہ کن الفاظ میں اس احساس کو بیان کریں، مگر ہمارے وطن کے رنگ ایسے ہی سدا بہار ہیں جو دل کو جیت لیتے ہیں۔ 

گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ خزاں کا ذکر بھی زیادہ تر ہوتا ہے کیونکہ اس موسم میں اس وادی کے رنگ دیکھنے والے ہوتے ہیں یعنی نارنجی، زرد، سرخ اور دیگر رنگ ہر جگہ پھیلے ہوتے ہیں۔

وادی سوات اپنی قدرتی خوبصورتی، برف پوش چوٹیوں، ان گِنت جھرنوں ، چراگاہوں، نہروں اور ندیوں، قدرتی پارکوں، جھیلوں اور گھنے و تاریک جنگلوں کی وجہ سے مشہور ہے.

بلوچستان کے ریگستانوں سے لے کر پنجاب کے سرسبز میدانوں تک پاکستان بے شمار سیاحتی مقامات رکھتا ھے 

لاھور شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان جیسے تاریخی مقامات رکھتا ھے تو سر زمین ملتان اولیاء اللہ کی سر زمین مشہور ھے اور وھاں جلیل القدر اولیا کے مزارات ھیں جن میں بہاوالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی شامل ھے۔

 لاھور کی فوڈ سٹریٹ کی تو شان ہی نرالی ھے۔ وھاں کے چٹ پٹے مزیدار روایتی پکوان لاھور کی پہچان ھیں۔  سیاحوں کے لیے خصوصی انتظامات موجود ھیں۔

 آپ روایتی ٹانگہ پر پرانہ لاھور بھی گھوم سکتے ھیں۔ اندرون لاھور اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ھوے ھے۔ 

مری ، اسلام آباد، کلر کہار، چکوال، خوشاب ، چترال، وادی کیلاش، سوات ، وزیرستان غرض کون کون سی جگہ کا نام لوں جو تاریخی اور سیاحتی مقامات نہ رکھتی ھو ؟  ہر شہر ، ہر علاقہ انفرادیت کا حامل ھے اور اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ھے۔  

 یہاں ضرورت اس بات کی ھے کہ حکومت پاکستان ان سیاحتی مراکز کو سہولیات فراہم کرے اور انٹرنیشنلی طور پر اس کو پروموٹ کرے تا کہ زیادہ سے زیادہ سیاح پاکستان کا رخ کریں ۔ اس سلسلے میں حکومت نے کے پی کے کے علاقوں میں خاصہ کام کیا ھے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ھے۔

اوورسیز پاکستانیوں کو چاھیے کہ جس ملک بھی جائیں پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کریں۔ وھاں پاکستان کے سیاحتی مقامات کے متعلق آگاہی پھیلائیں تا کہ وھاں کہ لوگوں میں پاکستان کے متعلق تجسس ھو اور پاکستان کی سیاحت کی انڈسٹری عروج کی بلندیوں کو چھوئے۔

جس طرح اس سال لاکھوں کی تعداد میں مقامی سیاح عید کے موقع پر سیاحتی مقامات کی طرف امڈے ھمیں  امید ھے کہ مستقبل قریب میں پاکستان غیر ملکی سیاحوں کا بھی مرکز ھو گا۔ 

پاکستان پائندہ باد

Official Twitter Account @J_Tameer  

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!