fbpx

پاکستان پر جتنا بھی دباوَ آئے گا ہم چین کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی نہیں لائیں گے، وزیراعظم

پاکستان پر جتنا بھی دباوَ آئے گا ہم چین کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی نہیں لائیں گے، وزیراعظم

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا چین کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں،

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرپشن کے خلاف اقدامات کے لیے پرعزم ہے کرپشن سے ایلیٹ طبقہ فائدہ حاصل کرتاہے اور غریب متاثر ہوتاہے،چین نے غربت سے جس طرح اپنی عوام کو نکالا وہ حکمت عملی قابل تعریف ہے ،چین پاکستان کی مختلف شعبوں میں مدد کررہا ہے ،چین اورپاکستان کے تعلقات گہرے اور پرانے ہیں چینی صدرکی انسدادبدعنوانی کیخلاف مہم انتہائی مؤثرہے،سی پی سی ایک منفرد ماڈل ہے اوراسے خطے کوفائدہ ہوگا،مغربی جمہوریت کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بہترین نظام ہے،سی پی سی نے ایک ایسا متبادل نظام دیا جس نے تمام مغربی جمہوریتوں کومات دی،کمیونسٹ پارٹی کے ہیڈ کوارٹرکا دورہ کیا تو دیکھا ان کا تربیتی نظام انتخابی جمہوریت سے بہتر ہے میڈیا اورثقافتی تعلقات اتنے قریبی نہیں جتنے سیاسی تعلقات ہیں،آئندہ ہفتے گوادر کادورہ کررہاہوں وہاں سی پیک منصوبوں پرکام کی رفتار کا جائزہ لوں چین کی نظام حکومت میں لچک ہے ،جب کوئی چیز تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو نظام اس کی حمایت کرتاہے،ہم چین سے زراعت کے شعبے میں تعاون کے خواہاں ہیں ،چینی صدر شی جن پنگ کو جدید دور کا عظیم سیاستدان سمجھا جاتاہے چین نے کورونا ویکسین ہمیں عطیہ کی جس پر ان کے شکرگزار ہیں چین نے ہر وقت ہر مشکل میں پاکستان مدد کی ہم نے سی پیک منصوبوں کاجائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کی ،سی پیک کا اگلہ مرحلہ پاکستان کےلیے بہت حوصلہ افزا ہے ہمیں امید ہے کہ چینی صنعت ان خصوصی زونز کی طرف متوجہ ہوگی،ہمیں امید ہے کہ چینی صنعت ان خصوصی زونز کی طرف متوجہ ہوگی

لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

"پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر جتنا بھی دباوَ آئے گا ہم چین کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی نہیں لائیں گے امریکی صد کو سخت محنت اور جدوجہد نہیں کرنا پڑتی،دنیا چین کی پالیسیوں کی متعرف ہے ،لیڈر کی کامیابی خود بولتی ہے، ہم تعلقات میں جانبداری کامظاہرہ کیوں کریں ، سب سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں سی پیک سےاقتصادی مستقبل وابستہ ہے،سیاسی تعلقات روز بروز مضبوط ہورہے ہیں،سنکیانگ سے متعلق چین کے موقف کو تسلیم کرتے ہیں ،ہمیں چینی قیادت پر اعتماد ہیں،سنکیانگ کے حوالے سے مغربی میڈیا،حکومتوں اور چین کے موقف میں فرق ہے کشمیر سمیت دنیا میں ناانصافی کے متعدد واقعات ہوئے لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی،کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کیے جارہے ہیں ،مغربی میڈیا کی کم کوریج منافقانہ رویہ ہے،جب ادراے مضبوط ہوتے ہیں تو کھیل کو بھی فروغ ملتا ہے، ٹیلنٹ ابھرتاہے،پاکستان اور چین کے تعلقات پرانے ہیں اس کا بھارت کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں