fbpx

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ شہدادپور ضلع سانگھڑ  100 سالہ پروجیکٹ تحریر محمد عثمان

اندرون سندھ ضلع سانگھڑ تحصیل شہدادپور ٹنڈوآدم روڈ پر واقع ( پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ) 100 سالہ پروجیکٹ ۔ آج سے آٹھ سال قبل دریافت ہونے والا (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ نہ صرف شہدادپور ، بلکہ ملک پاکستان کے لیے بھی ایک سنہری باب ثابت ہوگا ۔ اس پروجیکٹ کے ساتھ 13مختلف چھوٹی Sui کا لنک جڑا ہوا ہے اور ساتھ ہی 23 مختلف جگہوں سے دریافت ہونے والے تیل اور گیس کے ذخائر کا لنک بھی اس پروجیکٹ سے ملا ہوا ہے جو روزانہ ایک بلین کیوبک فِٹ (BCF) گیس پیدا کرتا ہے اور مُلکِ پاکستان کی 22 فیصد گیس(SSGCL) اس پروجیکٹ سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ کو چین  کے سپرد کیا گیا ہے ۔ اس(PPL) پروجیکٹ میں 1793 لوگ ملازمت کرتے ہیں ۔ ضلع سانگھڑ کا شمار سندھ کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے ضلع سانگھڑ کے لوگوں کی بڑی تعداد غریب طبقے سے ہے ۔ یہاں کے لوگوں کا آمدن ذرائع زراعت سے منسلک ہے اور یہاں کے لوگ محنت مزدوری کھیتی باڑی سے گزر بسر کرتے ہیں تو ایسے میں یہ (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ ایک امید کی کرن بن کر آیا تھا کہ اب یہاں کے لوگوں کی زندگی بہتر ہوجائے گی 

اب یہاں  کے لوگ کی بنیادی ضروریات سڑکیں، گٹر لائن، گلیوں، جیسے مسائل بھی حل ہوجائے گے اور یہاں کے لوگوں کو ملازمتیں بھی میسر ہونگی. لیکن ہوا کچھ بھی نہیں سارے مسائل ساری امیدیں خام خیالی ہی ثابت ہوئی.

اس(PPL) پروجیکٹ کے 1793 ملازموں میں سے صرف 10 فیصد لوگ ہی ضلع سانگھڑ سے لیے گئے ہیں ۔ وہ  بھی حسبِ روایت سفارشات اثروسوخ رکھنے والے لوگ ہیں غریب لوگوں کی زندگیوں میں کوئی آسانی نہیں آئی جو حقوق تھے سانگھڑ کے  لوگوں کے وہ نہیں دیے گئے ۔  پاکستان سمیت دیگر ممالک میں یہ بات آئین میں ہے کہ جس جگہ بھی تیل گیس کے ذخائر دریافت ہوں گے تو اس جگہ یا شہر کے لوگوں کے لیے گیس بجلی فری ہو جاتی ہے اس شہر کی سڑکیں ودیگر تعمیراتی کام کیے جاتے ہیں ۔ اعلی تعلیم کے لیے اسکالر شپ دی جاتی ہے اور زیادہ تعداد میں ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں مگر یہاں تو سانگھڑ، شہدادپور اور ٹنڈوآدم کے لوگوں کے حقوق دفن کر دیے گئے ان لوگوں کو گیس نہ بجلی اور نہ ہی ملازمتیں دی گئی اگر چند ملازمتیں

دی گئی وہ بھی صرف وڈیرہ شاہی امیرکبیر سفارشات  کی بنا پر ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سانگھڑ شہداد پور اور ٹنڈو آدم کے پڑھے لکھے نوجوان جو بے روزگار  ہیں ان نوجوانوں کو علاقائی کوٹا کی بنیاد پر میرٹ کو مدِ نذر رکھ کر ملازمتیں دی جاتی  ۔   لیکن ہوا یہ کہ اس پروجیکٹ میں ملازمت اسی کو ملی جس کا تعلق وڈیروں سے تھا یا کسی سیاسی جماعت سے تھا۔ مقامی  پڑھے لکھے بیروزگار لوگوں کے حقوق یہاں بھی دفن کر دیے گیے ۔ 10 فیصد چائنہ اور باقی 80 فیصد لوگ سانگھڑ سے باہر صوبہ پنجاب و دیگر صوبوں کی طرف سے لیے گئے ہیں ۔ یہ سراسر نا انصافی ہے مقامی  بےروزگار غریب لوگوں کے ساتھ۔ یہ تو صرف (PPL) کے بارے میں ہورہا ہے. اس کے علاوہ بھی اسی طرز  کے کئی پروجیکٹس سانگھڑ میں چل رہے ہیں اور مختلف گورنمنٹ کے اداروں میں بھی یہی سفارشی کلچر عام ہے ۔ چاہے پھر وہ بلدیاتی ، ادارہ ہو یا گورنمنٹ اسکول و کالج ،  یا گورنمنٹ  ہاسپٹل ۔ گورنمنٹ ہاسپٹل میں تو سفارشی کلچر اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ وہاں نرسنگ میں ان پڑھ لوگ بھرتی کیے ہوئے ہیں ۔ ان کو انجکشن تک لگانا نہیں آتا ہے ۔ کیا یہ سراسر لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں  ۔میری وزیراعظم صاحب سے  درخواست ہے کہ اندرونِ سندھ میں جو نوجوانان کی حق تلفی ہو رہی اس پر نظرثانی کریں اور اندرون سندھ میں اتنے تیل اور گیس کے ذخائر نکلنے کے باوجود بھی سندھ کے حالات ایسے ہیں خاص طور پر سانگھڑ کے  غریب لوگوں کو ان کا حق دیا جائے  ۔ ملک پاکستان کی بہتری انصاف میں ہیں غریب طبقے کی فلاح وبہبود میں ہے۔ آج مسلمان اسی وجہ سے پیچھے ہیں کہ ہم نے انصاف کے دامن کو چھوڑدیا ہے۔ جب مسلمانوں نے 700 سال تک حکمرانی کی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے ۔ دوسرا وہ انصاف پسند تھے وہ انصاف کرتے تھے چاہے امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ انصاف کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے انہوں نے 700 سال تک حکمرانی کی ۔ اگر ہم ملک کی بہتری اور ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں بھی انصاف کرنا ہوگا ۔ اس انصاف کی وجہ سے ہم نہ صرف غریب لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکال سکتے ہیں بلکہ اس ملک پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں  کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔

Twitter @Usmankbol

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!