fbpx

پاکستان سالانہ 8 ارب ڈالرز کا فوڈز دنیا سے ایمپورٹ کرتا ھے .تحریر:ارشاد خان

جس میں کوکنگ ائل ، سویابین ملک ، دالیں ، فاسٹ فوڈز، خشک دودھ ، چائے کی پتی اور بھی بہت سی چیزیں
ھم ایک جملہ اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ھے مگر آج تک کسی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی موجودہ حکومت نے اس طرف نہ صرف توجہ دی بلکہ عملی کام بھی شروع کر دیا ھے
کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو ٹاسک دیا کہ آپ سروے اور ریسرچ کرو کہ ھم پاکستان میں کون کون سے فوڈز خود پیدا کر سکتے ہیں جو ھم باہر سے منگوا سکتے ہیں
آپ سن کر حیران رہ جاو گے کہ جب ایگریکلچر ماہرین نے ریسرچ کیا تو ان کو پتہ چلا کہ ھم یہ تمام چیزیں نہ صرف خود کی ضرورت کے لئے پیدا کر سکتے ہیں بلکہ اتنی وافر مقدار میں پیدا کر سکتے ہیں جس کو ھم ایکسپورٹ بھی کر سکتے ہیں
آپ کو صرف کچھ مثالیں دے دیتا ہوں اپ اندازہ کر لینگے
پاکستان سالانہ صرف 1۔1 ارب ڈالر یعنی تقریبا 200 ارب روپے کا سویابین ملک ایمپورٹ کرتا ہے
جبکہ 600 ملین ڈالر کا چائے ایمپورٹ کرتا ھے
اس کے علاوہ پاکستان تقریبا تمام کوکنگ آئل باہر سے منگواتا ھے

اب پاکستان ان شاءاللہ دو سال بعد اتنا سویابین دودھ پیدا کر سکے گا جو ضرورت سے زیادہ ھوگا اور ھم ایکسپورٹ کریں گے جبکہ چائے کی پتی بھی ھم ایکسپورٹ کریں گے ایمپورٹ کی وجہ سے ھمارے ملک کو سب سے بڑا نقصان یہ ھوتا ھے کہ ایک تو ملک میں روزگار کی کمی ھوتی ھے جبکہ ھمارے ملک سے ڈالر باہر جاتا ھے جس کی وجہ سے ھمارے ملک میں ڈالر کی کمی ھو جاتی ہے اور ھمارا روپیہ گر جاتا ھے اور مہنگائی ھو جاتی ھے حکومت کی کوششوں سے اب ھم اپنی ضروریات سے زیادہ یہ چیزیں پیدا کریں گے جس کا دو فائدے ھونگے ایک تو ھماری اپنی ضرورت پوری ھوگی جس سے روزگار بڑھے گا جبکہ دوسرا ھمارے ملک سے ڈالر باہر نہیں جائیں گے بلکہ زیادہ پیداوار کی وجہ سے ڈالر ھمارے ملک آتا رہے گا .جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ھوگا۔

پاکستان ایگریکلچر انسٹیٹیوٹ نے بلوچستان کے ایک کروڑ ایکڑ رقبے کو زیتون کی کاشت کے لئے موزوں قرار دیا ھے جس پر پلانٹشن شروع ہو گئی ہے اور اگلے 3 ، 4 سالوں میں ہم اتنا زیتون ائل پیدا کریں گے کہ دنیا کو ایکسپورٹ کریں گے اور خوشی کی بات یہ ھے کہ ھم دنیا کا سب سے زیادہ زیتون ایکسپورٹ کرنے والا ملک بنیں گے۔اس کے علاوہ دالوں کی کاشت بھی شروع ھو گئی ھے جو ھماری ضرورت سے زیادہ ھونگی ایک بات ذہن میں رہے کہ مقامی سطح پر جو چیزیں ھم پیدا کریں گے ایک تو اس کی قیمت کم ھوگی جنکہ دوسرا وافر مقدار میں دستیاب ھونگے۔
موجودہ حکومت رزاعت کے ترقی کے لئے زمینداروں کو سہولیات دے رہی ہے جس کا فائدہ اس سال سامنے آیا ھے اور وزیراعظم صاحب مسلسل خود زمینداروں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ان کے مسائل خود سن کر سمجھ کر ان کو دور کیا جا سکے۔
حکومت نے چین کے ساتھ بھی ایگریکلچر ریسرچ شئرینگ کا معاہدہ کیا ھے جس کے لئے بلوچستان میں جگہ مختص کی ھے۔
ان شاءاللہ پاکستان بہت جلد زرعی شعبے میں صف اول کے ممالک میں شمار ھوگا۔
‎@THE_Z0R00