سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے زلفی بخاری نے پھرمیدان مار لیا

اسلام آباد :سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے زلفی بخاری نے پھرمیدان مار لیا ،اطلاعات کےمطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید زلفی بخاری نے سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے آئندہ ہفتے سے اضافی فلائٹس چلانے کا عندیہ دیا ہے۔

سعودی عرب میں پاکستانی برادری سے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ پاکستان اس وقت سعودی عرب سے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے ہر ہفتے دو فلائٹس چلا رہا ہے اور آئندہ مرحلے میں اس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ آنے والے ہفتوں میں ان فلائٹس کی تعداد تین سے پانچ تک کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کر رہا ہوں اور پاکستانیوں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران اپنے شہریوں کو مستقل بنیادوں پر وطن واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ حکومت پر دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے سبب پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپس لانے کی ذمے داری ہے اور ترجیح ان پاکستانیوں کو دی جا رہی ہے جو وہاں محصور ہو گئے ہیں۔اس سے قبل زلفی بخاری نے کہا تھا کہ ملک ہر ہفتے 2ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی استعداد رکھتا ہے اور اس تعداد کو 6ہزار تک بڑھایا جا چکا ہے جبکہ اس تعداد میں مزید اضافہ کر کے 8ہزار تک لے جایا جا سکتاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں 15ہزار 500 پاکستانی ہیں جو فوری طور پر وطن واپس آنا چاہتے ہیں جس میں 6ہزار بے روزگار مزدور ہیں، ساڑھے تین ہزار ایسے افراد ہیں جو چھٹیاں لے چکے ہیں جبکہ بقیہ افراد بھی مختلف وجوہات کی وجہ سے واپس آنا چاہتے ہیں۔انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بیروزگار مزدوروں میں وہ افراد شامل ہیں جنہیں سعودی کمپنیوں نے اس وبا سے قبل ہی اپنے اداروں سے نکال دیا تھا۔

زلفی بخاری نے کہا کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف 3ہزار 66 مزدور ایسے ہیں جنہیں کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے سعودی کمپنیوں نے نکالا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے تمام پاکستانی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ وطن واپس آنے کے خواہشمند افراد میں بیمار افراد کو ترجیح دیں جبکہ لاشوں کو بھی پاکستان واپس لانے کے لیے انتظامات کیے جا چکے ہیں۔

معاون خصوصی نے تمام اوورسیز پاکستانیوں سے درخواست کی کہ وہ غیرضروری طور پر پاکستان سفر کرنے سے گریز کریں اور ان لوگوں کو موقع دیں جن کا کورونا وائرس کی وجہ سے ویزہ ختم یا نوکریاں جا چکی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کمپنیوں کو ملازموں کو نہ نکالنے کا حکم دیا تھا اور ہم سعودی عرب کی حکومت کے شکر گزار ہیں جو ہمارے ملک کے لوگوں سے دیگر ملکوں کے شہریوں کی نسبت بہتر رویہ رکھے ہوئے ہے۔

زلفی بخاری نے دعویٰ کیا کہ بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو کورونا وائرس کی وبا کے دوران وطن واپس لانے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر بھی بہت زیادہ سراہا گیا جبکہ سعودی عرب میں اپنے ہم وطنوں کا خیال رکھنے پر انہوں نے پاکستانی برادری کے جذبہ خیرسگالی کو سراہا۔

اس اجلاس کا انعقاد وزارت سمندر پار پاکستانی نے کیا تھا تاکہ سعودی عرب میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے لیے جانے والے اقدامات کے بارے میں سراہا جا سکے۔اجلاس میں سعودی میں پاکستانی سفارتخانے اور قونصل خانے کے عہدیداران سمیت 50 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.