fbpx

پاکستانی سیاست کی پھوپھی جان چوہدری نثار علی خان   تحریر : علی خان

چوہدری نثار پاکستانی سیاست کا بڑا نام ہے پر اس کے ساتھ یہ وہ پھوپھی ہے جو کسی سے خوش نہیں چاہیے وہ نواز شریف ہو، شہباز شریف ہو ذرداری یاں عمران خان ۔ 

ہم دیسی لوگوں میں  کیونکہ رشتوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اس لیے زندگی کے ہر  سنجیدہ و تفریحی شعبے میں  معروف شخصیات سے مختلف رشتے منسوب کردئیے جاتے ہیں۔ چاچائے کرکٹ۔۔ بابائے قوم۔۔۔ مادر ملت۔۔۔ برادران  ملت۔۔۔ دختر مشرق وغیرہ وغیرہ۔ سیاسی رشتوں میں بہن ،بھائی، بیٹا بیٹی وغیرہ تو ہم سب نے ہی سن رکھے ہیں۔۔۔  سیاسی اتحاد بنتے ہی مختلف نسبی رشتے بھی وجود میں آجاتے ہیں۔۔۔ کچھ سیاستدانوں  میں یہ نام کے رشتے بعد میں باقاعدہ رشتہ داریوں میں بھی تبدیل ہوجاتے ہیں

روزمرہ زندگی میں بھی والد کے دوستوں کو چاچا  اور والدہ کی دوستوں کو خالہ کہنا عام سی بات ہے لیکن  سگی پھوپھو کے علاوہ کسی کو پھوپھو بنانے کی ریت شاید ہی کسی نے سنی ہو۔ پھوپھی کا رشتہ سب  رشتوں سے منفرد ہوتا ہے۔   سب سے زیادہ خیال بھی پھوپھو رکھتی ہے اور ناراض بھی رہتی ہے۔ ناراض ہوتے ہوئے بھی سب کی خبر رکھنا پھوپھو کا ہی کمال ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ پھوپھی کسی رشتے کا نہیں بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے تو  غلط نہ ہوگا۔ پھوپھو کے ناراض ہونے کے لیے کوئی خاص وجہ درکار نہیں ہوتی۔ گھر میں کوئی  بھی خوشی ہو سب سے پہلے پھوپھو کو دعوت دی جاتی لیکن پھر بھی  ناراضی کا سامنا ہوتا کہ دعوت دینے آگئے ہم کوئی غیر تھے۔ ہم سے کوئی صلاح ہی لے لیتے۔ اگر صلاح لے لی جائے تو یہ گلہ کہ مشورہ دینے کا کیا فائدہ کرتے تو تم لوگ اپنی ہی مرضی ہو وغیرہ وغیرہ 

پاکستانی سیاست میں بھی ایک ایسے کردار ہیں جن پر آج کل پھوپھی والی کیفیت طاری ہے۔ ماضی میں ایک ہی جماعت سے طویل تر وابستگی کے باوجود بھی ہر معاملے میں اپنی علیحدہ رائے رکھی اور اپنی بات مانے نہ جانے پر پارٹی قیادت سے نالاں بھی  رہے۔  اپنی علیحدہ رائے کو انقلابی سمجھا یہ اور بات کہ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ ڈیڑھ انچ کی مسجد تھی۔ پارٹی کے اندر اور باہر کسی سے ناراض ہوئے تو یوں ہوئے کہ سالوں بات کرنے سے بھی گئے۔ اپنی سنیارٹی کا زعم اتنا کہ پارٹی سربراہ کو جونیئر ہونے کے طعنے دیتے رہے۔ اپنی جماعت سے طویل عرصہ ناراضی پر دوسری جماعت نے شمولیت کی دعوت دی تو گومگو کی کیفیت سے نہ نکلے اور وزارت اعلیٰ کا ممکنہ منصب گنوا بیٹھے۔ الیکشن میں ضد کے باعث قومی اسمبلی کی نشست نہ جیت سکے تو خودساختہ ناراضی سے صوبائی اسمبلی کی رکنیت کا حلف تک نہ لیا اور گھر بیٹھ رہے۔ عرصہ اڑھائی سال بعد اچانک خود ہی سے خیال آیا تو اسمبلی پہنچ کر حلف اٹھا لیا۔ اس بات پر اس بڑھیا کی یاد آئی  بار بار لڑائی کرکہ گھر سے نکل جاتیں  اور سامنے میدان میں بیٹھ کر نخروں سے مانتیں۔ اب روز نکلیں تو بار بار کی لڑائی سے تنگ آئے گھر والے منانے نہ آئے۔ بھوک کی ماری خاتون  کو اور کچھ سمجھ نہ آیا تو چراگاہ سے واپس آئے بچھڑے کی پونچھ پکڑی اور یہ کہتی گھر میں داخل ہوئیں کہ "مینوں چھڈ میں نئیں جانا گھر نوں”۔

  پاکستانی سیاست کی یہ پھوپھو آج کل تحریک انصاف پر بہت نثار ہیں اور تحریک انصاف والے بھی  سینئر سیاست دان  سے پینگیں بڑھنے پر نہال ہیں۔ اللہ کرے یہ پیا ر محبت بڑھتا رہے اور   سب شیر و شکر رہیں لیکن پھوپھی والی کیفیت کچھ بھی کروا سکتی ہے۔  ایسی ہی ایک پھوپھی کو مشکل سے منا کر بھتیجے کی شادی کے لیے لایا گیا۔ پھوپھی صاحبہ کو  کچھ دیر میں پرانی رنجش یاد آئی لیکن لڑائی کا بہانہ نہ سمجھ آیا تو چھت پر جاچڑھیں اور کچھ کھٹر پٹر کی۔ اہل خانہ نے بچوں کا شور سمجھ کر پوچھا ” کون اے چھت تے” موقعے کی منتظر پھوپھی نے نیچے اتر فوری بچے سنبھالے اور شادی چھوڑ روانہ ہوگئیں کہ "ہن اسی کون ہوگئے؟؟؟”

تحریر ؛ علی خان    

@hidesidewithak