پاکستان ٹیلی وژن قومی اثاثہ قرار، مالی مسائل حل کرنے کی ہدایت، سینیٹ اجلاس

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہواجس میں اطلاعات تک رسائی کے ترمیمی بل 2021کے علاوہ پاکستان براڈ کاسٹنگ اسو سی ایشن کے مسائل اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بحث کی گئی۔

ترمیمی بل سینیٹر ز سجاد حسین طوری، ولید اقبال، محمد علی سیف، منظور احمد کاکڑ اور مرز آفریدی نے ایوان میں پیش کیا تھا۔ اراکین نے بل پر تفصیلی نقطۂ نظر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان بالا اور قومی اسمبلی آئینی ادارے ہیں اور کام کی نوعیت دوسرے اداروں سے بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے کسی ایوان سے متعلق معلومات تک رسائی کا اختیار دینا سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کا اختیار ہے۔

سینیٹرز رخسانہ زبیری اور پرویز رشید نے بل کی مخالفت کی۔ متعلقہ وزارت نے مجوزہ ترمیمی بل پر اپنا نقطۂ نظر سرسری طور پر کمیٹی کے سامنے پیش کیا تاہم کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ اس بل پر وزارت اور پاکستان انفارمیشن کمیشن کا تفصیلی موقف انتہائی لازمی ہے۔ کمیٹی نے ہدایات دیں کہ جلد ہی اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ کمیٹی نے پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے مسائل پر بحث کرتے ہوئے وزارت سے الیکڑانک میڈیا کے اشتہارات کی مد میں واجب الادا رقوم کی تفصیلات ریڈیو اور ٹی وی لائسنس کی فیس میں اضافے پر بھی تفصیلی جواب طلب کر لیا۔

پاکستان ٹیلی وژن کو قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے چیئرمین کمیٹی اور سینیٹرز نے اس بات پر زور دیا کہ موثر حکمت عملی کے تحت اس اہم اثاثے کو مالی سطح پر درپیش مسائل سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک انقلابی حکمت عملی کے تحت ہی ادارے کو اس صورتحال سے باہر نکالا جاسکتاہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.