fbpx

پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان امن کا روا دار ہے: شاہ محمود قریشی

اسلام آباد :وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان امن وآشتی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانے کے لئے پرعزم ہے۔ مغرب اظہار رائے کی آزادی کے غلط استعمال کی حوصلہ افزائی نہ کرے،اسلام امن کا دین ہے جو تشدد وانتہائ پسندی کو قبول نہیں کرتا۔مختلف تہذیبوں کے گہوارے کے طور پر پاکستان،مختلف ثقافتوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔

وہ بدھ کو یہاں عالمی بین المذاہب امن کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ انتہا پسندی، بالادست نظریات، تنازعات اور دیرینہ جھگڑوں سے تقسیم درتقسیم کا شکار آج کی دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی نے نہایت کلیدی اہمیت اور خاص حیثیت حاصل کرلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرانگیز پراپیگنڈے کے باوجود دنیا میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اسلام امن کا دین ہے جو تشدد وانتہاء پسندی کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے فروغ یا حوصلہ افزائی کی ترغیب دیتا ہے۔ اسلام نسلی برتری کے نظریات اور رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیازات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ تہذیبوں کے درمیان حقیقی مکالمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کی آج ہمیں جس قدر ضرورت ہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تحمل وبرداشت، ہم آہنگی اور اقلیتوں کی ثقافت واقدار کے احترام کی شاندار روایات کا امین ہے۔

ہمارے قومی پرچم میں موجود سبز اور سفید رنگ بین المذاہب ہم آہنگی کی روح کی عکاسی کرتا ہے اور ہمارے آئین میں ضمانت کے طورپر درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صوفیاءکرام کی دھرتی ہے جنہوں نے،انسانیت کے احترام، رحم دلی، ہمدردی اور بھائی چارے کا پیغام ہر سو پھیلایا۔ مختلف تہذیبوں کے گہوارے کے طور پر پاکستان،مختلف ثقافتوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی تحمل وبرداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے وڑن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، پاکستان نے سکھ بھائیوں کے لئے کرتارپور راہداری کھولی۔ اسی طرح دیگر مذاہب کے مذہبی مقامات کے تحفظ اور تہواروں کے فروغ کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ اور جاری رہیں گی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کی سوچ اور کوششیں ان پالیسیز اور اقدامات سے قطعی برعکس ہیں جن پر ’بی۔جے۔پی‘ کی نسل پرست حکومت، عمل پیرا ہے۔اقلیتوں سے عام طور پر اور کشمیریوں سے خاص طورپر ناروا سلوک بھارت کے سیکولر اور جمہوری ملک ہونے کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔

دنیا کو، بھارتی حکومت کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے اسی نوع کے واقعات ،علاقائی امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان امن وآشتی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانے کے لئے پرعزم ہے۔

کورونا کی عالمی وبا نے، ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی مواقع فراہم کیے ہیں۔ اسی سے یہ شعور بیدار ہوا ہے کہ تنازعات اور عدم برداشت ترک کرکے ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دیا جائے جو بنی نوع انسان کی بقا کی کلید ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب اظہار رائے کی آزادی کے غلط استعمال کی حوصلہ افزائی نہ کرے اور نہ ہی ایسے رویوں سے صرف نظر کیاجائے جن سے دو ارب کے قریب مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اعلی ترین فورمز پر اس نیک مقصد کو پوری شدت اور قوت سے اجاگر کیا ہے۔وزیر خارجہ نے تووع ظاہر کی کہ ہمارے علما کرام اور مشائخ عظام، پاکستان کے اندر اور دنیا بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں گے

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!