fbpx

پاکستانی پارلیمانی وفد کے دورہ افغانستان منسوخی پر سپیکرنے کس کو طلب کر لیا؟

پاکستانی پارلیمانی وفد کے دورہ افغانستان منسوخی پر سپیکرنے کس کو طلب کر لیا؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی پارلیمانی وفد کا دورہ افغانستان منسوخی کا معاملہ افغان حکومت نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کر لیا

افغان اسپیکر میر رحمان رحمانی نے انکوائری کا حکم دے دیا،کل اعلیٰ حکام افغان پارلیمنٹ میں طلب کرلیے گئے، وزیردفاع، داخلہ اور ہوا بازی کو کل افغان پارلیمنٹ بلا لیا گیا، افغان اسپیکر پاکستانی وفد کو لینڈنگ کی اجازت نہ دینے پر وضاحت مانگیں گے، پارلیمانی وفد کے جہاز کو گزشتہ روز کابل میں اترنے کی اجازت نہیں دی گئی، افغان سپیکر آفس کے مطابق سازش کرنے والوں کو بے نقاب کرکے سزا دی جائے گی،

قبل ازیں گزشتہ روز سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا افغان ہم منصب سے رابطہ ہوا اسد قیصر نے اپنے افغان ہم منصب کو یقین دلایا ہے کہ سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے پر جلد افغانستان آؤں گا، افغانستان میں دیر پا امن کے قیام کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ۔ جمعرات کو سپیکر کا دورہ افغانستان ملتوی ہونے کے بعدافغان چئیرمین سینیٹ فضل ہادی مسلم یار اور سپیکر ولوسی جرگہ میر رحمان رحمانی نےسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو الگ الگ فون کئے ۔ گفتگو میں سپیکر اسد قیصر کا دورہ ملتوی ہونےکے معاملہ پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

افغان پارلیمنٹ کے سر براہ کا کہنا تھا کہ کہ پاکستانی وفد کا جہاز سیکورٹی خدشات کے باعث نہیں اتر سکا۔سپیکر وولوسی جرگہ نے کہا کہ پاکستانی وفد کی سیکیورٹی ہرچیز پر مقدم ہے۔امید ہے بہت جلد پاکستان کا پارلیمانی وفد کابل کے دورے پر آئے گا۔ سپیکر نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال بہترہونے پر جلد افغانستان آؤں گا۔افغانستان میں امن و استحکام کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

واضح رہے کہ افغانستان جانے والے وفد میں سپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر پارلیمانی رہنما شامل تھے ،پاکستانی وفد کی آمد سے قبل کابل کی سڑکوں پر پاکستان اور افغانستان کے اراکین پارلیمان کی تصویریں آویزاں کر دی گئیں تھیں، کابل کے اہم مقامات پر خیر مقدمی بینرز بھی آویزاں ہوچکے تھے ، گذشتہ روز قومی اسمبلی میں بھی اس دورے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد کیا گیا،جس میں دورہ افغانستان سے متعلق اہم امور پر گفتگو کی گئی تھی

پاکستانی وفد سپیکر قومی اسملبی اسد قیصر کی قیادت میں پاکستان سے روانہ ہوچکا تھا اور طیارہ افغانستان کے حدود میں داخل ہوچکا تھااس کے بعد حامد کرزئی ائیرپورٹ پر تمام پروازیں بند کردی گئیں اور پاکستانی طیارے کو واپس آنا پڑا .پاکستان کے پارلیمانی وفد نے افغان صدر اشرف غنی اور وزیر خارجہ محمد حنیف سمیت دیگر سے ملاقاتیں کرنی تھیں دورے کی نئی تاریخ کا اعلان دونوں ممالک کی مشاورت سے دوبارہ کیا جائے گا،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.