پاکستانی ڈیزائنر کے درمیان ڈیزائنز چوری کرنے کا تنازع سوشل میڈیا پر زیر بحث

حال ہی میں منعقد ہونے والے تین روزہ برائیڈل کٹیور ویک میں جہاں ڈیزائنرز کے دلفریب لباس توجہ کا مرکز رہے وہیں فیشن شو کے دوران دو ڈیزائنرز کے درمیان ڈیزائنز چوری کرنے کے تنازع بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق حال ہی میں منعقد ہونے والے تین روزہ برائیڈل کٹیور ویک کے دوران جب ڈیزائنر حارث شکیل نے اپنا خوبصورت کلیکشن ’غزل‘ پیش کیا تو ملک کی ایک اور معروف ڈیزائنر فرح طالب عزیز نے حارث شکیل پر ان کے ڈیزائنز چوری کرنے کا الزام لگایا۔

فرح طالب عزیز کے مطابق فیشن شو کے دوران ماڈل سنیتا مارشل کے ذریعے پیش کیے گئے لباس کا ڈیزائن ان کے ڈیزائن کی واضح نقل ہے انہوں نے ڈیزائنر حارث شکیل سے چند سوالات پوچھے جس کے اسکرین شاٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے ہیں۔

انہوں نے ڈیزائنر حارث شکیل کو کہا کہ اگر آپ خود کو ڈیزائنر کہتے ہیں تو نقل کرنے کے بجائے اپنے ڈیزائنز کیوں نہیں بناتے؟ کیا آپ کو کوئی شرمندگی نہیں ہوتی جب آپ فرح طالب عزیز کے ڈیزائن کردہ لباس آن لائن آرڈر کرتے ہیں اور ان ڈیزائنز کو اپنا بتاکر بیچتے ہیں؟

ہمارے دو سال پرانے ڈیزائنز کو کاپی کرنے کا کیا مطلب ہے؟ یہ دسویں بار ہے جب آپ ہمارے ڈیزائنز چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں آپ کو خود پر شرم نہیں آتی؟

فرح طالب عزیز کی ٹیم کے مطابق ڈیزائنر حارث شکیل نے ان کے دو سال پرانے ڈیزائنز نقل کرکے انہیں حال ہی میں برائیڈل کٹیور ویک میں اپنا ڈیزائن بتاکر پیش کیا اور یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے بلکہ انتظامیہ کے مطابق یہ کوئی دسویں بار ہے جب حارث شکیل نے ان کے ڈیزائنز چوری کیے ہیں۔

فرح طالب عزیز کی بیٹی اور برانڈ مینجر ملیحہ عزیز نےکہا کہ ہمارا کام بہت زیادہ کاپی ہوتا ہے لیکن عام طور پر ہم ہنگامہ نہیں کرتے کیونکہ معروف ڈیزائنرز اکثر چھوٹے برانڈز کا کام چوری کرتے ہیں۔ یہ ہمیں مشتعل کرنے والی چیز ہے۔

بہرحال حارث شکیل نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہمارا کام کاپی کیا ہے ہوسکتا ہے اس بار انہوں نے ہمارے ڈیزائنز کو اپنا بتاکر اب کیٹ واک پر پیش کیا ہے لیکن ان کے سوشل میڈیا پر کچھ عرصے سے ہمارے ڈیزائنز کی کاپی کی تصاویر نظر آرہی ہیں۔

دوسری جانب ڈیزائنر حارث شکیل نے ڈیزائنر فرح طالب کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرح طالب کو اپنی آواز اس وقت اٹھانی چاہئے تھی جب اس لباس کی گزشتہ سال سوشل میڈیا پر تشہیر کی گئی تھی۔ دونوں لباس بالکل ایک جیسے نہیں یہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔

حارث شکیل نے کہا کہ لباس کا باڈی کٹ، آستینیں، دوپٹہ اور گلے کا ڈیزائن بھی مختلف ہے۔ ہاں میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ دونوں لباس کا رنگ ایک جیسا ہے لیکن یہ بہت عام کلر ہے جو اکثر دلہنوں کے لباس میں استعمال کیاجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں غلط نہیں ہوں تو فرح کے لباس کا اسٹائل انگ رکھا ہے جب کہ میرے لباس کا ڈیزائن پشواز ہے لہذا مجھے فرح طالب کا دعویٰ بے معنی لگتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.