fbpx

پاکستانی ڈراموں میں یکسانیت اس قدر ہے ایسا لگتا ہے کہ ہر چینل پر ایک ہی ڈراما چل رہا ہے انور مقصود

پاکستان کے نامورمصنف، ڈراما نگار اور مزاح نگار انور مقصود کا کہنا ہےکہ میں خود پیچھے ہٹ گیا ہوں کیونکہ ابھی جو کچھ ٹی وی پر چل رہا ہے اس کے مطابق میری جگہ بن نہیں سکتی۔

باغی تی وی : برطانوی خبر رساں ادارے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انور مقصود نے ڈراما نہ لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اب ریٹنگ کا چکر آ گیا ہے، ڈائریکٹر پروڈیوسر ہر معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ سب کچھ طے کرتا ہے کہ کون سا اداکار چاہیے کون سا نہیں۔

آج کل کے ڈرامے ماضی میں لکھے گئے ڈراموں سے کس طرح مختلف لگتے ہیں اس کے جواب میں انور مقصود نے کہا کہ شروع میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، منو بھائی ،ثریا بجیا نے ڈرامے لکھے۔

نورالہدی شاہ نے بھی بہت اچھے ڈرامے لکھے اوراپنی جگہ بنائی۔پھر یہ ہوا کہ انڈیا کے ڈرامے جب آئے تو ہمیں لگا کہ وہ ہمارے ڈراموں سے کچھ سیکھیں گے لیکن الٹا ہی ہو گیا ہمارے لکھنے والوں نے ان سے ہی سیکھنا شروع کر دیا بس یہیں سے ہمارے ڈرامے کی تباہی ہوئی۔

انور مقصود نے کہا ڈائجسٹ لکھنے والوں کی انٹری ہوئی، ہمارے ملک کی چونکہ 70 فیصد آبادی پڑھی لکھی نہیں ہے اس لیے انہوں نے ساس بہو کے جھگڑوں کو پسند کیا اور ایسا لکھنا ٹرینڈ بن گیا۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ پھر کہیں دیور بھابھی تو کہیں بڑی بہن کے منگیتر سے چھوٹی بہن کا عشق نظر آیا اب لوگ اگر یہ پسند کررہے ہیں تو کیا کہا جائے۔

انور مقصود کے بقول اچھا لکھنے والے تو ایسا لکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے اس لیے وہ ڈرامے سے دور ہو گئے۔ میں تو آج کے ڈرامے کو اچھا برا کہتا ہی نہیں ہوں میں سمجھتا ہوں کہ آج ڈراماہے ہی نہیں یہ کیا چیز ہے بس آپ سوچیں۔

انور مقصود نے موجودہ پاکستانی ڈرامے کی خامی بتاتے ہوئے کہا کہ آج جلدی جلدی لکھا جا رہا ہے، لکھنے والوں پر پریشر ہے ایک ڈرامے میں جو باتیں لکھی جا رہی ہیں وہی اگلے میں بھی دہرائی جا رہی ہیں۔ یکسانیت اس قدر ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہر چینل پر ایک ہی ڈراما چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کل جو ڈراما لکھنے والے ہیں ایسا لگتا ہے شاید ان کے گھر میں کوئی کتاب ہی نہیں ہے ڈراما لکھنے والے ساس بہو کے جھگڑوں اور سازشوں کو معافی دے دیں۔

مزاح نگاری کے حوالے سے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ مزاح لکھنا آسان نہیں ہے یہ تو تلوار کی دھار پر چلنے کا نام ہے سمجھ لیں آگ کا دریا ہے جسے پار کرنا ہے کسی کی تضحیک بھی نہیں ہونی چاہیے اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر لکھا جانا چاہیے ورنہ بیہودہ مزاح لکھنا تو بہت آسان ہے، تین دن میں 20 ڈرامے لکھے جا سکتے ہیں۔

ا نور مقصود نے کہا کہ انہوں نے آج تک جو کچھ لکھا وہ ثریا بجیا کی بدولت ہے، ان سے سیکھا ہے۔

انور مقصود کو حکومت وقت اور اہم عہدوں پر براجمان شخصیات پر تنقید کی وجہ سے دباؤ کا سامنا بھی رہا انہوں نے بتایا کہ کہا جاتا تھا کہ ہماری تعریف میں بھی کچھ لکھیں تو میں کہتا تھا کہ آپ اچھا کام کریں جس دن اچھا کام کیا میں خود لکھوں گا کہنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔

انور مقصود کا کہنا ہے کہ میزبان جس شخصیت کا انٹرویو کرے اس کے بارے میں پہلے آگاہی حاصل کرے۔ آج کل تو میزبان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے سامنے جو شخصیت بیٹھی ہے اس نے کیا کام کیا ہوا ہے اور کیا نہیں بلکہ آج کل تو شوز میں باقاعدہ بدتمیزی ہو رہی ہوتی ہے۔

انور مقصود نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہامیرے پاس نہ تو واٹس ایپ ہے نہ ہی جدید فون میرے 11 فیک اکاؤنٹس چل رہے ہیں جن سے بدتہذیبی پھیلائی جارہی ہے رپورٹ کرکے بھی دیکھا لیکن کچھ نہیں بنا بیٹے نے ایک اکاؤنٹ بنا کر دیا تھا لیکن اس کو بند کروا دیا۔