پاکستانی ڈراموں میں ان کہانیوں کو ہی دکھایا جاتا ہے جو معاشرے میں موجود ہوتی ہیں منال خان

بہنوئی اور سالی کے درمیان عشق کی کہانی کے گرد گھومنے والی ڈرامے ‘جلن’ میں نشا نامی لڑکی کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ منال خان کے مطابق ‘جلن’ پر تنقید کرنے والے زیادہ افراد نے ڈرامے کو مکمل دیکھے بغیر ہی ان کے کردار پر تنقید کی لیکن اب لوگوں کو احساس ہونے لگا کہ دراصل ڈرامے کی کہانی سالی اور بہنوئی کے عشق کے گرد نہیں گھومتی۔

باغی ٹی وی : اداکارہ منال خان کے دو ڈرامے ’جلن‘ اور ’نند‘ پاکستانی نجی چینل سے پیش کیے جارہے ہیں منال خان نے دونوں ڈراموں میں ایک دوسرے کے بالکل برعکس کردار ادا کیے ہیں ڈرامے ’نند‘ میں انہوں نے سیدھی سادی ظلم سہنے والی بیچاری بہو کا کردار ادا کیا ہے۔ جب کہ ’’جلن‘‘ میں ان کا کردار مکمل طور پر منفی ہے جو اپنی پسندیدہ چیز حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اور اپنے بہنوئی کو اپنا بنانے کے لیے اپنی سگی بہن کا گھر اجاڑ دیتی ہے۔

منال خان کو جہاں ڈرامے ’نند‘کے لیے ناظرین کی تعریفیں سننے کو ملتی ہیں وہیں ڈرامے ’جلن‘میں منفی کردار ادا کرنے کے لیے بے تحاشہ تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہےیہاں تک کہ سالی بہنوئی کا عشق دکھانے پر پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے بھی اس پرپابندی عائد کردی تھی، تاہم بعد ازاں اس سے پابندی ہٹالی گئی تھی۔

بلال عباس خان بھارتی ہدایت کار کے ساتھ کام کرنے کے خواہشمند

جلن کو نجی ٹی وی اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر کیا جا رہا ہے اور اس میں بہنوئی اور سالی کے عشق کے علاوہ بھی دیگر سماجی مسائل کو دکھایا گیا ہے۔

مذکورہ ڈرامے میں اریبہ حبیب اور منال خان نے بہنوں کا کردار ادا کیا ہے جب کہ اس میں عماد عرفانی نے اریبہ حبیب کے شوہر اور منال خان کے بہنوئی کا کردار ادا کیا ہے۔

ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ اریبہ حبیب اور عماد عرفانی کی شادی ہوجاتی ہے، تاہم کچھ ہی عرصے بعد عماد عرفانی کی سالی منال خان ان میں دلچسپی لینے لگتی ہیں اور اسی معاملے پر ہی ڈرامے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

تاہم منال خان ڈرامے میں اپنے کردار پر کی جانے والی تنقید کو بے جا قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ‘جلن’ کی کہانی بہنوئی اور سالی کے عشق کے گرد نہیں گھومتی بلکہ کہانی کا اصل مرکز ایک لڑکی کی ضروریات ہیں۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں منال خان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستانی ڈراموں میں ان کہانیوں کو ہی دکھایا جاتا ہے جو معاشرے میں موجود ہوتی ہیں-

منال خان نے کہا کہ اس ڈرامے کی کہانی بنیادی طور پر سالی اور بہنوئی کے درمیان نہیں گھومتی بلکہ اس کی کہانی ایک لڑکی کے بارے میں ہے جو سب کچھ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا’جلن‘میں ’نشا‘کے کردار کے لیے مجھے بہت منفی ردعمل بھی ملتا ہے لیکن میں اسے مثبت انداز میں لیتی ہوں۔ یہاں تک کہ راہ چلتے خواتین مجھ سے لڑنے لگتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ شاید میں حقیقی زندگی میں بھی ایسی ہی ہوں۔

ڈرامہ سیریل سراب میں ذہنی مریضہ کا کردار نبھانا چیلنج تھا سونیا حسین

ڈرامے ’جلن‘پر نامناسب سین دکھائے جانے پر پیمرا کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی کے حوالے سے منال خان نے کہا کہ میں پیمرا کا نام سنتی تھی لیکن کبھی سوچا نہیں تھا کہ پیمرا میرے ڈرامے پر پابندی لگادے گا۔ اور جب پیمرا نے میرے ڈرامے پر پابندی لگائی تو مجھے بہت ڈر لگاتھا کیونکہ یہ صرف میرا ڈراما نہیں ہے بلکہ پوری ٹیم کی محنت ہے لہذا اگر کسی ڈرامے پر پابندی لگتی ہے تو یہ پابندی اس پوری ٹیم کی محنت کو ضائع کرنے کے مترادف ہوتی ہے۔

منال خان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامے ’جلن‘میں بہت سارے لڑائی جھگڑے والے سینز تھے جو ہم نے شوٹ کیے تھے لیکن جب ڈراما آن ایئر ہوتا ہے تو اس میں وہ سین موجود نہیں ہوتے کیونکہ انہیں سنسر شپ کی پالیسی کی وجہ سے ہٹادیا جاتا ہے۔

منال خان نے کہا جب کوئی ڈراما چل رہا ہو تو اس دوران اس پر پابندی نہیں لگانی چاہیئے اور ناظرین کے ہاتھ میں پابندی لگانے کا یا نہ لگانے کا اختیار نہیں دینا چاہیئے ان کے پاس صرف یہ اختیار ہونا چاہیئے کہ اگر انہیں ڈراما پسند آرہا ہے تو دیکھیں ورنہ نا دیکھیں-

مدیحہ امام نے خواتین پر شادی کے لیے دباؤ کو پاکستانی سماج کی حقیقت قرار دیا

منال خان نے کہا کہ جب خواتین انہیں ان کے منفی کردار کی وجہ سے ڈانٹتی ہیں اور کہتی ہیں کہ تمہیں ایسے کردار نہیں کرنے چاہیئں تو میں کہتی ہوں کہ پھر کیسے کردار کرنے چاہیئں کیونکہ وہ آپ ہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ڈرامے میں ہیروئن ہر وقت روتی رہتی ہے اور اب جب رونے کے بجائے رلارہی ہوں تو بھی آپ سے برداشت نہیں ہورہا تو بس یہ کہنا چاہوں گی کہ لوگ کبھی خوش نہیں ہوتے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.