پاکستانی فلمساز نے نیویارک فیسٹیول میں دو ایوارڈز اپنے نام کر لئے

پاکستانی معروف فلم ساز شہزاد حمید احمد کی دستاویزی فلموں وائٹر شیڈز آف ٹیرر اور کاٹ اِن دا کراس فائر نے نیویارک فیسٹول 2020 میں دو ایورڈز اپنے نام کر لئے

باغی ٹی وی : نیو یارک فیسٹیول 2020 میں پاکستانی فلم ساز شہزاد حمید احمد اپنی دستاویزی فلموں کے لئے دو ایوارڈز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے ان کی دستاویزی فلموں کو ہیومن رائٹس اور ہیومن کنسرن کی کیٹیگری میں ایوارڈ سے نوازا گیا

نیویارک فیسٹول 2020 کے ہیومین رائٹس کی کیٹیگری میں شہزاد حمید احمد کی جنگ زدہ افغانستان کے مسائل پر مبنی دستاویزی فلم کاٹ اِن دا کراس فائر کانسی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہی

ہیومن کنسرن کی کیٹیگری میں فلم ساز کی نسل پرستی اور دہشت گردی کی داستان پر مبنی دستاویزی فلم وائٹر شیڈز آف ٹیرر نےسلور ایوارڈ حاصل کیا فلم ساز نے اس فلم میں نسل پرستی اور دہشت گردی کو دکھانے کے لیے معلومات کی غرض سے ناروے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا سفر کیا

شہزاد حمید نے کئی بین الاقوامی ایوارڈ اپنے نام کیے ہیں، جن میں اسپین کے بادشاہ کی طرف سے 2014 میں نوازا گیا ’انٹرنیشنل کوآپریشن ایوارڈ‘ بھی شامل ہے

دستاویزی فلموں کے اعتراف میں فلمساز نیویارک کے چار فیسٹیولز ایوارڈزاپنے نام کر چکے ہیں

2016 میں انہوں نے اپنی ڈاکیومنٹری ’فلائٹ آف دی فیلکنز‘ کے لیے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اس ڈاکیومنٹری کو کمیونٹی پورٹریٹس کی کیٹیگری میں نامزد کیا گیا تھا

2017 میں شہزاد حمید نے قصور لوسٹ چلڈرن نامی ڈاکیومنٹری کے لیے ہیومن کنسرن کیٹیگری میں سلور ایوارڈ حاصل کیا تھا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.