پاکستانی پارلیمانی نظام حکومت سے بیزارہوگئے:صدارتی نظام کی طرف دیکھنے لگے،ہرچوک چوراہے میں بحث ومباحثہ شروع

لاہور:پاکستانی پارلیمانی نظام حکومت سے بیزارہوگئے:صدارتی نظام کی طرف دیکھنے لگے،ہرچوک چوراہے میں بحث ومباحثہ شروع،اطلاعات کے مطابق اہل پاکستان ملک میں پارلیمانی نظام حکومت سے اس قدربیزارنظرآتے ہیں کہ اب وہ اس انتظارمیں‌ ہیں کہ کب پاکستان میں صدارتی نظام حکومت آتا ہے،

باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق اس کہ جو وجہ سامنے آئی ہے اس میں یہ چیز بڑی واضح ہے کہ پاکستان کے 93 فیصد شہری عمران‌ خان کو محبت وطن اورایماندارلیڈرسمجھتے ہیں

اس حوالے سے پچھلے دنوں‌ایک عرب نیوز نے بھی ایک سروے پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں 93 فیصد شہری عمران کو پسند کرتے ہیں ، ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتادی گئی تھی

اس رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ 45 فیصد توا س کی پارٹی کے لوگ ہیں وہ تو عمران‌ خان کو اپنا لیڈرمانتے ہی ہیں خواہ عمران خاں پرفارم کرے یا ناں کرے

7 فیصد وہ لوگ ہیں جن کا نظریہ نہیں بدل سکتا عمران خان جو مرضی کرلے وہ اسلام کے لیے جو قربانی بھی دے دے یہ طبقہ اسے یہودی اوراسلام دشمن ہی کہے گا

48 فیصد وہ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عمران خود تو اچھا ہے اس کے وزیرمشیر اچھے نہیں ، عمران خان خود تو اچھا ہے ، مگر وہ مافیا کنٹرول نہیں کرسکتا ،ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان خود تو اچھا ہے لیکن اپوزیشن اسے ناکام کررہی ہے، عمران خان خود تو اچھا لیکن اسے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ نہیں چلنے دے رہی

باغی ٹی وی کے مطابق ان حالات کا جائزہ لیا جائے تو عمران خان کے لیے صدارتی نظام کی طرف آنا سوائے چند سیاسی جماعتوں‌کے پاکستان کی اکثریت کو قبول ہے وہ سمجھتے ہیں کہ کمیوں اورکوتاہیوں کے باوجود پاکستان میں صدارتی نطام میں غریب کو اورریاست کو فائدہ ہوا ہے،

ادھر یونیورسیٹیز لیول کی پاکستانی نسل بھی پارلیمانی نظام سے مایوس ہوچکی ہے اکثر یہ کہتے ہیں کہ ملک چلنا چاہیے نظام خواہ کوئی بھی ہو

اس سلسلے میں پاکستان کی غریب عوام جو کہ پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں وہ تو سرے سے ہی صدارتی نظام کے کے حق میں ہیں ان میں سے اکثرایوب خان کے دور کو یاد کرتے ہیں‌

دوسری طرف عام شہری بھی اب یہ سوچنے پرمجبورہوگیا ہےکہ جب تک ملک میں‌صدارتی نظام نہیں آئے گا یہ گند ایسے ہی چلتا رہے گا

دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایلیٹ طبقہ بھی اب ملک میں‌ صدارتی نظام کے حق میں سوچنے پرمجبورہوگیا ہے

ہاں جوطبقہ اس کا مخالف ہے وہ ہے اسمبلیوں میں جانے والے وہ سیاستدان جن کا روزگار قائم ہے وہ اس کے حق میں نہیں ان کو پتہ ہے کہ ایک میٹرک پاس ایم پی اے ماہانہ لاکھوں روپے لیتا ہے لیکن اس ملک کے پی ایچ ڈی بے روزگار بیٹھے ہیں ، ان حالات میں موجودہ اراکین اسمبلی کو ڈرہے کہ ان کی دکانداری ختم ہوجائے گی

ادھر ملک میں ملک میں‌ صدارتی نظام کے حق میں ہونے والی گفتگو سے یہ چیز ثابت ہورہی ہےکہ اگراس ملک میں صدارتی نظام لایا جاتے ہے تو پاکستان کی 75 سے 80 فیصد آبادی اس کو خوش آمدید کہے گی جبکہ 10 فیصد آبادی کو کوئی سروکار نہیں ان کا کہنا ہے کہ نظام جو بھی عوام کو ریلیف ملنا چاہیے جبکہ باقی 10 فیصد آبادی اس کی مخالفت کرے گی اوریہ ہے وہ دس فیصد آبادی جن کے عزیزواقارب اسمبلیوں میں ہیں اور جن سے ان کو مفادات وابستہ ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.