fbpx

"پاکستانی صحافت کی معراج”۔    تحریر:رانا آصف محبوب

        

معراج عروج سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہی اوپر جانا یا چڑھنا ہیں۔انسان کو بھی اسی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے کہ جس سے انسان اپنی زندگی میں اوپر کی طرف سفر کرے انسان اسی لئے بلندی کے حصول کی تگ و دو میں دن رات ایک کرتا ھے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بنے تقریبآ 73 سال ہو چکے اور یہ ریاست چار ستونوں پر کھڑی ھے بلکہ لیٹی ھے۔اس ریاست میں چار ستون اس طرح ٹھونکے گئے ہیں جس طرح کبھی شادیوں پر ٹینٹوں کے درمیان میں ایک بمبو ٹھونکا جاتا تھا جو تن تنہا نا صرف پورے ٹینٹوں کا بوجھ اٹھاتا تھا بلکہ اس کے گرد گھومنے والے بچوں کی گردش حالات کی گردش سمجھ کر برداشت کرتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یقینا ایک تاثر تھا کہ فوج اور سیاست دان ریاست کے دو ستون ہیں ۔پھر رفتہ رفتہ جب بیگم نصرت بھٹو کیس ،جسٹس حمود الرحمن کیس ایسے چند واقعات رونماہوئے تو ریاست کے ستونوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا اور عدلیہ کو بھی ریاست کا تیسرا ستون تسلیم کر لیا گیا اور جب ججوں کے ایک ٹولے نے مشرف آمریت کو قانونی قرار دیتے ہوئے اسے آئین میں ترامیم تک کا حق عطا کر دیا تو اس ستون کی مسلمہ حیثیت کو چیلنج کرنا ناممکن بنا دیا۔

اج ہم ریاست کے چوتھے ستون یعنی صحافت کی بات کریں گے۔صحافت پاکستان کا ستون مشرف کی بندوق سے نکلنے والی گولی ثابت ہوا۔اکیسویں صدی کے آغاز میں دنیا الیکٹرانک میڈیا کے چنگل میں پھنسی تو پاکستان بھی گلوبل ویلج کا حصہ بن کر اس سے محفوظ نہ رہ سکا اور الیکٹرانک میڈیا کی پرائیوٹائزیشن نے اپنے قدم جمائے تو پاکستان کے سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی حلقے اور عسکری وجوڈیشری اس کے اثر سے ثمر آور ہوئے تو میڈیا ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے اپنے آپ کو متعارف نہ صرف کروا چکا تھا بلکہ کنگ میکر کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

میڈیا پہلے اتنا آزاد اور مضبوط نہیں تھا وقت کے ساتھ ساتھ اسکی اہمیت میں ا ضافہ ہوا تو سیاستدانوں نے میڈیا کے اس میدان میں اپنے مطلب کے دوست تلاش کر لیے ۔ پھر جب 21ویں صدی کے آغاز میں پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے پاﺅں جمانے شروع کیے اور امن کی آشا کے نام پر ہنودویہود نصاری سے دولت اکٹھی کرنے کو اپنا مقصد حیات بنا لیا اور میڈیا میں موجود ایسے گروپوں نے خبر بتانے کی بجائے خبر بنانے کو صحافت کا شیوا بنا لیایہی وجہ ہے کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے کبھی آمروں سے مل جاتے ہیں اور کبھی اپنے ہی تراشیدہ بتوں سے مہم جوئی شروع کر لیتے ہیں۔سوشل میڈیا کے دور میں اب اپنے ہی خیالات سے بھاگنا ناممکن ہو چکا ھے چہ جائیکہ وہ عوام تک ٹؤئیٹ یا فیس بک سٹیٹس کی مد میں نا پہنچ سکیں۔آج کا صحافی اپنے پیشے کے اعتبار سے صحافی کم اور کسی سیاسی یا طاقتور ادارے کا سپوکس پرسن بن چکا ھے۔اس کے باوجود کہ الیکٹرانک میڈیا کی عوام میں تیزی سے گرتی ساکھ کا زمہ دار بھی یہ خبر دینے کی بجائے خبر بنانے والے صحافی ہیں جو ہر بات پر "تو” کی گفتگو کرنے سے بھی گریز نہی کرتے۔پہلے صحافت کی معراج سچی اور مصدقہ زرائع سے من و عن خبر دینا سمجھا جاتا تھا۔لیکن مادہ کی اس دورڑھ میں شاید معراج کے معنی بدل دئیے ہیں۔آج پاکستان کے صحافی کی معراج ہوا میں اڑتا ھیلی کاپٹر ھے جس میں بیٹھ کر وہ کسی طاقتور انسان کا انٹرویو کر کے سوشل میڈیا پر تصاویر اپ لورڈ کر سکے۔آج کے صحافی کی معراج کے پائیدان یقینأ غلام گردشوں کی دھلیز سے شروع ہو کر غلام گردشوں کی دھلیز پر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

تحریر:رانا آصف محبوب
Twitter iD:@RAsifViews